تین مساجد کے علاوہ سفرِ زیارت کا حکم صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

سفر زیارت کی محدودیت :

مسجد نبوی، مسجد الحرام اور مسجد اقصیٰ، یہ تین مساجد ایسی ہیں جن کی زیارت کے لیے (خاص طور پر نیت کر کے) سفر کرنا مسنون ہے، ان کے علاوہ کسی بھی مسجد کی زیارت کے لیے سفر کرنا ممنوع ہے۔
مقابر کی شرعی اور غیر شرعی زیارت میں جو اہم فرق ہے اسے ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔ جیسے انبیاء اور صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لینا یا قبر کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا یا کسی قبر کو معبود بنا لینا اور پوجا پاٹ کے لیے خاص کر لینا، صحیحین میں مروی حدیث میں فرمانِ نبوی ہے کہ:
لا تشد الرحال إلا إلى ثلاثة مساجد المسجد الحرام ومسجدي هذا والمسجد الأقصى
”تین مساجد کے علاوہ کسی مسجد کی زیارت کے لیے رخت سفر نہ باندھا جائے (یعنی مسجد الحرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ)۔“
(صحيح بخاري كتاب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة : باب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة حديث : 1189 صحيح مسلم – كتاب الحج : باب فضل المساجد الثلاثة حديث : 1397)
ایک دفعہ کا ذکر ہے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ طور پر تشریف لے گئے جہاں سیدنا موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ ہم کلام ہوتے تھے۔ واپسی پر بصرہ بن ابو بصرہ الغفاری رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے کہا: ”اگر مجھے پہلے علم ہو جاتا تو آپ وہاں ہرگز نہ جا سکتے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ:
لا تعمل المطي إلا إلى ثلاثة مساجد المسجد الحرام ومسجدي هذا ومسجد بيت المقدس
”تین مساجد کے علاوہ کسی مسجد کے لیے سواری کو نہ چلایا جائے، یعنی (1) مسجد الحرام (2) میری یہ مسجد (یعنی مسجد نبوی) اور (3) مسجد بیت المقدس۔“
(سنن نسائى كتاب الجمعة : باب ذكر الساعة التي يستجاب فيها الدعاء يوم الجمعة حدیث : 1431)
یہ تین مساجد ایسی ہیں جن کی طرف عبادت کے لیے خصوصی سفرِ زیارت و تبرک کرنا مسنون ہے، جیسے نماز پڑھنا، قرآن کریم کی تلاوت کرنا، ذکر و اذکار میں مشغول رہنا، دعاء و اعتکاف کرنا۔ ان مساجد ثلاثہ میں سے صرف مسجد الحرام کا طواف مسنون ہے۔ جو شخص ان تین مساجد کے علاوہ کسی اور مسجد میں( بغیر اس کے کہ وہ خاص طور پر اسی مسجد میں عیادت کے لیے سفر کر کے آیا ہو) نماز پڑھے تو اس کا یہ عمل بھی صحیح احادیث کی روشنی میں تمام اعمال سے افضل ترین عمل شمار ہوگا۔ جیسے کہ صحیحین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد منقول ہے:
من تطهر فى بيته ثم خرج إلى المسجد كانت خطواته إحداها تحط خطيئة والأخرى ترفع درجة والعبد فى صلاة ما دام ينتظر الصلاة والملائكة تصلي على أحدكم ما دام فى مصلاه الذى صلى فيه تقول اللهم اغفر له اللهم ارحمه ما لم يحدث
”جو شخص اپنے گھر میں پاکیزگی حاصل کر کے مسجد کی طرف جائے تو اس کے ایک قدم پر ایک گناہ مٹ جاتا ہے اور دوسرے قدم پر ایک درجہ بلند ہوتا ہے اور جب تک بندہ نماز کے انتظار میں رہتا ہے اسے نماز ادا کرنے کا ثواب ملتا رہتا ہے اور جب تک بندہ جائے نماز پر بیٹھا رہتا ہے فرشتے اس کے لیے رحمت کی یوں دعاء کرتے رہتے ہیں کہ اے اللہ! اسے بخش دے، اس پر رحم فرما۔ (وہ یہ دعائیں اس وقت تک کرتے رہتے ہیں) جب تک وہ بے وضو نہ ہو۔“
صحيح مسلم كتاب المساجد : باب المشى الى الصلاة تمحى به الخطايا و ترفع به الدرجات (حديث : 666) وانظر الحديث الآتي صحیح بخاری کتاب الاذان : باب فضل صلاة الجماعة (حديث : 647) صحيح مسلم كتاب المساجد : باب فضل الصلاة المكتوبة في جماعة (حديث : 649)
لیکن اگر کوئی شخص ایک شہر سے دوسرے شہر اس نیت سے سفر کرے کہ وہاں کوئی مسجد ہے، جیسے دمشق سے مصر یا کسی دور دراز شہر سے مسجد قباء کی زیارت کے لیے رخت سفر باندھے تو ایسا سفر باتفاق ائمہ اربعہ غیر مشروع ہے اور اگر ایسے سفر کی نذر مان لے تو اس کا پورا کرنا باتفاق ائمہ اربعہ لازم نہ ہوگا۔ صرف لیث بن سعد کا ایک ضعیف سا قول منقول ہے کہ ایسی نذر کو پورا کرنا چاہئے۔ امام مالک رحمہ اللہ کے اصحاب میں سے صرف ابن مسلمہ ہیں جو مسجد قباء کی طرف سفر کرنے کی نذر کو پورا کرنا ضروری خیال کرتے ہیں۔ البتہ جو شخص مدینہ منورہ جائے تو اس کے لیے مسجد قباء میں جا کر نماز پڑھنا مستحب ہے کیونکہ مدینہ منورہ سے مسجد قباء جانے کو سفر شمار نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ ہمیشہ ہفتہ کے دن کبھی پیدل اور کبھی سواری پر مسجد قباء تشریف لے جاتے اور وہاں دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔
(صحيح بخاري كتاب فضل الصلاة فى مكة والمدينة باب إتيان مسجد قباء ماشيا وراكبا حديث: 1193، صحيح مسلم كتاب الحج باب فضل مسجد قباء وفضل الصلاة فيه حديث: 1399)
اس سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد بھی ہے کہ:
من تطهر فى بيته ثم أتى مسجد قباء فصلى فيه صلاة كان له كأجر عمرة
”جو شخص اپنے گھر سے پاکیزگی حاصل کر کے مسجد قباء جائے (اور وہاں نماز پڑھے) تو اسے ایک عمرہ ادا کرنے کا ثواب ملتا ہے۔“
( سنن نسائي كتاب المساجد باب فضل مسجد قباء والصلاة فيه حديث: 703، سنن ابن ماجه كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها باب ما جاء فى الصلاة فى مسجد قباء حديث: 1412)
اسی طرح سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ:
”مسجد قباء میں نماز پڑھنے کا اجر عمرہ کرنے کے برابر ہے۔“
( مصنف ابن أبي شيبة: 3/373)
اگر کوئی شخص حج یا عمرہ کرنے کی نذر مان لے تو تمام علمائے امت کا اتفاق ہے کہ اسے یہ نذر پوری کرنی چاہئے۔ اگر کوئی شخص مسجد نبوی یا بیت المقدس جانے کی نذر مان لے تو ایسی نذر کے بارے میں علماء کے دو قول ہیں:
➊ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے ایک قول کے مطابق اس نذر کا پورا کرنا ضروری نہیں کیونکہ شریعت نے اسے واجب قرار نہیں دیا۔
➋ امام مالک رحمہ اللہ، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے دوسرے قول کے مطابق ایسی نذر کا پورا کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ اللہ کی اطاعت ہے اور اطاعت الٰہی کے بارے میں صحیح بخاری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:
من نذر أن يطيع الله فليطعه ومن نذر أن يعصي الله فلا يعصه
”جس شخص نے اللہ کی اطاعت کی نذر مانی اسے اللہ کی اطاعت کرنی چاہئے اور جس نے اللہ کی نافرمانی کی نذر مانی تو اسے اللہ کی نافرمانی نہیں کرنی چاہئے۔“
(صحيح بخاري كتاب الأيمان والنذور باب النذر فى الطاعة حديث: 6696، 6700)
اگر کسی نے ان تین مساجد کے علاوہ کسی اور مسجد کی طرف سفر کرنے کی نذر مانی یا محض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مکرم یا کسی اور نبی، ولی یا صالح انسان کی قبر کی زیارت کی نذر مانی تو باتفاق ائمہ اس نذر کا پورا کرنا لازم نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کے سفر کا حکم نہیں دیا، بلکہ فرمایا:
لا تشد الرحال إلا إلى ثلاثة مساجد المسجد الحرام ومسجدي هذا والمسجد الأقصى
”تین مساجد کے علاوہ کسی مسجد کی طرف رخت سفر نہ باندھا جائے، یعنی مسجد الحرام، میری یہ مسجد اور مسجد اقصیٰ۔“
(صحيح بخاري كتاب فضل الصلاة فى مسجد مكة والمدينة باب فضل الصلاة فى مسجد مكة والمدينة حديث: 1189، صحيح مسلم كتاب الحج باب فضل المساجد الثلاثة حديث: 1397)
ہاں! اس نذر کا پورا کرنا واجب ہے جس میں اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو۔ امام مالک رحمہ اللہ اور کئی دوسرے ائمہ نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ جو شخص مدینہ منورہ کا سفر کرنے کی نذر مانے اور اس کی نیت یہ ہو کہ وہ مسجد نبوی میں نماز ادا کرے گا تو وہ اپنی نذر کو پورا کرے اور اگر اس کی نیت مسجد میں نماز ادا کرنے کی بجائے صرف قبر مکرم کی زیارت ہے تو اسے اپنی نذر کا پورا کرنا ضروری نہ ہوگا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:
لا تعمل المطي إلا إلى ثلاثة مساجد
”تین مساجد کے علاوہ سواری کو نہ چلایا جائے۔“
(سنن نسائي كتاب الجمعة باب ذكر الساعة التى يستجاب فيها الدعاء يوم الجمعة حديث: 1431)
المدونہ اور الجلاب وغیرہ کتب سے بھی اس مسئلے کی تائید ہوتی ہے۔
المدونة اور الجلاب فقہ مالکی کی مشہور کتب ہیں۔ (مترجم)
قاضی اسماعیل بن اسحاق مبسوط میں اس پر بحث کرتے ہوئے امام مالک رحمہ اللہ کا قول نقل کرتے ہیں کہ: ”جو مسجد نبوی میں جانے کی نذر مانے اسے اپنی نذر کو پورا کرنا چاہئے کیونکہ مسجد میں جانے کا مقصد نماز ادا کرنا ہی ہوتا ہے اور جو شخص مدینہ منورہ جانے کی نذر مانے اور نیت یہ ہو کہ وہ مسجد نبوی میں نماز ادا کرے گا تو اسے اپنی نذر کو پورا کرنا چاہئے اور اگر جنت البقیع یا شہدائے احد کی قبور کی زیارت مقصود ہے تو ایسے شخص کو اپنی نذر کا پورا کرنا ضروری نہیں کیونکہ مذکورہ تین مساجد کے علاوہ رخت سفر باندھنا مشروع نہیں ہے۔“
امام مالک رحمہ اللہ کے مندرجہ بالا قول کے بارے میں ائمہ اسلام میں سے کسی ایک نے بھی مخالفت نہیں کی بلکہ دوسرے ائمہ کی تحریرات سے امام موصوف کی تائید ہوتی ہے۔ قبرستان کی زیارت کے لیے رخت سفر باندھنے کے بارے میں امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب سے دو قول منقول ہیں کہ یہ سفر حرام ہے یا جائز ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ کے متقدمین اصحاب کا کہنا یہ ہے کہ یہ سفر حرام ہے، البتہ متاخرین اصحاب میں اختلاف پیدا ہو گیا تھا۔ اختلاف کی وجہ یہ تھی کہ حدیث ”لا تشد الرحال“ میں صیغہ خبر ہے جس کا معنی نہی کا ہے جس سے ثابت ہوا کہ یہ سفر حرام ہے۔
بعض نے کہا کہ: اس حدیث میں صیغہ نہی ہے جس کا معنی یہ ہوا کہ یہ سفر نہ مسنون ہے نہ واجب نہ مستحب بلکہ مباح ہے۔ یہ سفر ایسا ہی ہوگا جیسے بغرض تجارت کسی شہر کا سفر کیا جائے۔
ان کے جواب میں ہم یہ کہیں گے کہ بغرض تجارت سفر کرنے سے عبادت مقصود نہیں ہوتی بلکہ دنیوی اغراض مدنظر ہوتے ہیں جو مباح ہیں، بخلاف زیارتِ قبور کے، کہ زیارتِ قبور کا مقصد ہی عبادت ہوتا ہے اور عبادت واجب یا مستحب عمل کے ذریعے ہی ہو سکتی ہے۔