مہر نبوت
مہر نبوت ختم نبوت پر دلیل ہے، ملاحظہ ہو :
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے بیان کرتے ہیں :
نظرت إلى خاتم النبوة بين كتفيه، مثل زر الحجلة .
”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی، وہ کبوتر کے انڈے کی طرح تھی۔“
(صحيح البخاري : 5670 ، صحیح مسلم : 2345)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) لکھتے ہیں :
من أحسن ما ذكره ابن دحية، رحمه الله، وغيره من العلماء قبله فى الحكمة فى كون الخاتم كان بين كتفي رسول الله صلى الله عليه وسلم، إشارة إلى أنه لا نبي بعدك يأتى من ورائك .
”ابن دحیہ رحمہ اللہ اور ان سے پہلے دیگر علما نے بہت پیاری بات کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں کے درمیان مہر نبوت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔“
(البداية والنهاية : 438/8)
علامہ ابن ہبیرہ رحمہ اللہ (560 ھ) لکھتے ہیں :
إنه خص بالخاتم بين كتفيه إشارة إلى أنه خاتم الأنبياء، ولذلك كان من ورائه؛ لأنهم ختموا به، فلم يبق وراءه غيره .
”کندھوں کے درمیان مہر نبوت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین ہیں۔ اسی لئے مہر نبوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پچھلی جانب تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ انبیا کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی باقی نہیں رہا۔“
(الإفصاح عن معاني الصحاح : 407/6)