افضل اعمال کے لیے راہنمائی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا اور افضل ترین انعام جو وہ اپنے بندوں پر کیا کرتا ہے یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہترین عبادات کی رہنمائی فرمائی اور افضل ترین مقامات کی نشاندہی کی۔ جیسے صحیحین میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ:
أى العمل أفضل؟
”کون سا عمل افضل ہے؟“
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
الصلاة على مواقيتها
”بر وقت نماز ادا کرنا۔“
میں نے عرض کی: اس کے بعد کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
ثم بر الوالدين
”والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا۔“
میں نے عرض کی: اس کے بعد کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
ثم الجهاد فى سبيل الله
”اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا۔“
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
سألته عنهن ولو استزدته لزادني
”میں نے صرف اتنے ہی سوال کیے۔ اگر زیادہ سوالات کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ضرور جواب دیتے۔“
(صحيح البخارى كتاب مواقيت الصلاة: باب فضل الصلاة لوقتها، حديث: 527، صحيح مسلم كتاب الإيمان: باب بيان كون الإيمان بالله تعالى أفضل الأعمال، حديث: 85)
باوضو رہنے کی فضیلت
مسند اور سنن ابن ماجہ میں ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
استقيموا ولن تحصوا واعلموا أن خير أعمالكم الصلاة ولا يحافظ على الوضوء إلا مؤمن
”استقامت اختیار کرو، اور تم اس کی کماحقہ طاقت نہیں رکھتے۔ اور یاد رکھو کہ بہترین عمل نماز ہے، اور وضو کی حفاظت صرف مؤمن ہی کرتا ہے۔“
(مسند أحمد 277/5، سنن ابن ماجه كتاب الطهارة: باب المحافظة على الوضوء، حديث: 277)
نماز ایک ایسی عبادت ہے جس کے لیے امت کو حکم ہے کہ مسجد بنائیں اور مسجد ایسی جگہ ہے جو تمام مقامات سے اللہ کو زیادہ محبوب ہے۔ جیسے کہ صحیح مسلم میں مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
أحب البقاع إلى الله المساجد وأبغض البقاع إلى الله الأسواق
”زمین کے تمام ٹکڑوں سے مساجد اللہ کو بہت محبوب ہیں، اور زمین کے بدترین ٹکڑے اللہ کے ہاں بازار ہیں۔“
(صحيح مسلم كتاب المساجد: باب فضل الجلوس فى مصلاه بعد الصبح، حديث: 671، بلفظ أحب البلاد والله أعلم)
مسجد کی اتنی عظمت و توقیر کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں امت کو نصیحت کرتے ہوئے اور ان کی ہدایت کو مد نظر رکھتے ہوئے ان لوگوں کو ملعون قرار دیا جو انبیاء اور صالحین کی قبروں کو مسجد بنا لیتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی مشفقانہ صفت کے پیشِ نظر آپ کی تعریف کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ ﴿١٢٨﴾
”تم لوگوں کے پاس ایک رسول آیا ہے جو خود تم ہی میں سے ہے، تمہارا نقصان میں پڑنا اس پر شاق ہے، تمہاری فلاح کا وہ حریص ہے،
ایمان لانے والوں کے لیے وہ شفیق اور رحیم ہے۔“
(9-التوبة:128)
صحیحین میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں فرمایا:
لعن الله اليهود والنصارى اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد
”اللہ تعالیٰ کی یہود و نصاریٰ پر لعنت ہو، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔“
(صحيح البخارى كتاب الجنائز: باب ما يكره من اتخاذ المساجد على القبور، حديث: 1330، صحيح مسلم كتاب المساجد: باب النهى عن بناء المسجد على القبور، حديث: 529)
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
ولو لا ذلك لأبرز قبره ولكن خشي أن يتخذ مسجدا
”اگر یہ خدشہ نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کو ظاہر ہی رہنے دیا جاتا، لیکن آپ کو یہی خدشہ تھا کہ کہیں آپ کی قبر کو لوگ عبادت گاہ نہ بنا لیں۔“
اصل نسخہ میں خشی کی جگہ کرہ لفظ تھا، ہم نے سیدہ عائشہ والی روایت جو صحیحین میں ہے کو مد نظر رکھتے ہوئے کرہ کی جگہ خشی لکھا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ لفظ سلیمان اصنیع کے قلم سے سہواً لکھا گیا ہو، صحیح بخاری و صحیح مسلم (حواله سابق)