ام المومنین سیدہ عائشہ کی شہادت
ام المومنین عائشہ صدیقہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ مرض الموت میں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سخت تکلیف ہوئی تو آپ اپنی چادر بھگو کر اپنے چہرہ انور پر ڈال لیتے اور جب ذرا افاقہ ہوتا تو چہرہ مبارک کھول کر فرماتے:
لعنة الله على اليهود والنصارى اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد يحذر ما صنعوا
”یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو! انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے اس عملِ بد سے ڈرا رہے تھے۔“
صحيح بخاري كتاب الصلاة : باب (55) (حديث : (436) صحیح مسلم کتاب المساجد : باب النهي عن بناء المسجد على القبور (حديث : 529)
سیدنا ابو ہریرہ اور دیگر صحابہ کی شہادت
اللہ کی حکمت دیکھیے کہ ام المومنین جن کے حجرہ میں رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم استراحت فرما ہیں، ان کی ان احادیث پر نگاہ ہے۔ یہ وہی احادیث ہیں جن کو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خود رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانِ مبارک سے سنا۔ اگرچہ آپ کے علاوہ بھی بعض صحابہ ان روایات کو نقل کرتے ہیں جیسے ابن عباس، ابو ہریرہ، جندب بن عبداللہ اور ابن مسعود وغیرہ۔ چنانچہ صحیحین میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
قاتل الله اليهود اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد
”اللہ یہود کو ہلاک کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا۔“
صحيح البخارى كتاب الصلاة : باب (55) (حديث : 437) صحیح مسلم، کتاب المساجد : باب النهي عن بناء المسجد على القبور (حديث : 530)
امہات المؤمنین کی شہادت
صحیحین میں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مشہور حدیث بھی مروی ہے جس میں ام المومنین ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما اپنا چشم دید واقعہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے حبشہ میں ایسا کنیسا دیکھا جس میں بہت سے انبیاء و صلحا کی تصاویر تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ واقعہ سن کر فرمایا:
إن أولئك إذا كان فيهم الرجل الصالح فمات بنوا على قبره مسجدا وصوروا فيه تلك الصور أولئك شرار الخلق عند الله يوم القيامة
”وہ ایسے لوگ تھے کہ اگر ان میں سے کوئی صالح شخص فوت ہو جاتا تو یہ اس کی قبر کو عبادت گاہ بنا لیتے اور اس میں اس کی تصویر لٹکا دیتے۔ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک یہ بدترین لوگ شمار ہوں گے۔“
صحيح بخاری کتاب الصلاة : باب الصلاة في البيعة (حديث : 434، 427) صحيح مسلم کتاب المساجد : باب النهي عن بناء المسجد على القبور (حديث : 528)
وفات سے پانچ روز پہلے وصیت
صحیح مسلم میں جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وفات سے پانچ روز پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا:
إني أبرأ إلى الله أن يكون لي منكم خليل فإن الله قد اتخذني خليلا كما اتخذ إبراهيم خليلا ولو كنت متخذا من أمتي خليلا لاتخذت أبا بكر خليلا ألا وإن من كان قبلكم كانوا يتخذون قبور أنبيائهم وصالحيهم مساجد ألا فلا تتخذوا القبور مساجد فإني أنهاكم عن ذلك
”میں اس بات سے بری الذمہ ہوں کہ تم میں سے میرا کوئی خلیل ہو، کیونکہ مجھے اللہ نے اپنا خلیل بنا لیا ہے جیسے ابراہیم کو خلیل بنایا تھا۔ اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو صرف ابوبکر کو بناتا۔ خبردار! تم سے پہلے لوگ قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا کرتے تھے۔ پس خبردار! تم قبروں کو عبادت گاہ نہ بنا لینا، میں تم کو اس سے منع کرتا ہوں۔“
(صحيح مسلم كتاب المساجد: باب النهى عن بناء المسجد على القبور، حديث: 532)
سیدنا ابو مرثد غنوی کی شہادت
صحیح مسلم میں ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
لا تجلسوا على القبور ولا تصلوا إليها
”قبروں پر مجاور بن کر مت بیٹھو اور نہ ہی قبروں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھو۔“
(صحيح مسلم كتاب الجنائز: باب النهى عن الجلوس على القبر والصلاة إليه، حديث: 972)
مسند اور صحیح ابن حبان میں روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
إن من شرار الناس من تدركهم الساعة وهم أحياء والذين يتخذون القبور مساجد
”بدترین وہ لوگ ہوں گے جن کی زندگی میں قیامت برپا ہو گی اور جو قبروں کو عبادت گاہ بنا لیتے ہیں۔“
(مسند أحمد 405/1، 435، صحيح ابن حبان 340، وعلقه البخارى فى كتاب الفتن: باب ظهور الفتن حدیث : 7067مختصراً)
قبرستان کو عید اور مصلّٰی بنانے کی نفی پر پچھلے صفحات میں مکمل بحث ہو چکی ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کو علم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی قبر کو فرائض کی ادائیگی کے لیے عبادت گاہ بنانے سے منع فرمایا تھا۔ فرائض کی ادائیگی ایسا عمل ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ یہ ممانعت اس لیے کر دی تاکہ مسلمانوں کی مشرکین سے مشابہت نہ رہے، کیونکہ وہ اہل قبور کو پکارتے، ان کے لیے نمازیں پڑھتے اور ان کے نام کی نذر و نیاز دیتے ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کو قبرِ مکرم کے متعلق ایسے اعمال سے روکنا اشد ضروری تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طلوعِ شمس اور غروبِ آفتاب کے وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا تاکہ ان لوگوں سے مشابہت نہ ہو جو سورج اور چاند کی پوجا کرتے ہیں، لہذا قبر پرستوں کی مشابہت سے روکنا زیادہ اولیٰ تھا۔