وہ امور جن سے انسان کے اعمال برباد ہو جاتے ہیں:
[1] مثلاً جو لوگ اللہ کے حکموں کا انکار کرتے ہیں اور پیغمبر کو ناحق قتل کرتے ہیں اور لوگوں میں سے انصاف کا حکم کرنے والوں کو قتل کرتے ہیں، ان کے عمل دنیا و آخرت میں برباد ہو گئے۔ (آل عمران:22) اور جو ایمان سے منکر ہوا تو اس کے عمل برباد ہو گئے اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گا۔ (مزید حوالہ جات کے لیے دیکھیے: (المائدہ:5، 53)،(التوبہ:17، 69)،(محمد:9، 28، 32)
[2] دین کی باتوں میں ہنسی مزاح سخت منع ہے۔ (التوبة:65، 66)
[3] اللہ تعالیٰ نے جہنم کو بھرنا ہے، جہنم سے بچو۔ (هود:118، 119)
[4] اللہ تعالیٰ مالکِ یوم الدین ہے، یعنی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سب فیصلے فرمائے گا اور کسی کو بولنے کی اجازت نہ ہو گی۔ (المؤمن:16)،(الفاتحه:3)
[5] زمین اور آسمان میں ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ (النساء:126، 131، 132، 170تا172)
[6] صراطِ مستقیم صرف ایک ہے اور وہ نبیوں، صدیقوں، شہداء اور صالحین کا طریقہ ہے۔ ان پر نہ خوف ہو گا نہ غم۔ (النساء:69) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہﷺ کا بتایا ہوا صراطِ مستقیم صرف ایک ہے، اس کے علاوہ جتنے بھی راستے اختیار کیے جائیں گے وہ سیدھے نہیں ہیں، بلکہ جہنم کی طرف لے جائیں گے۔
[7] موت کا منظر، جب فرشتے جان نکالتے ہیں اور فرشتوں کے فرائض۔ (الاعراف:37تا41)،(النحل:28، 29، 32)،(حم السجده:30تا32)
[8] اللہ پر جھوٹ باندھنے سے سخت منع کیا گیا ہے۔ جھوٹ باندھنا یہ ہے کہ انسان وہ بات کہے جو اللہ نے نہ کہی ہو۔ (النساء:50)،(المائدة:103)
[9] مومن کا کافر و مشرک سے کوئی تعلق نہیں۔ (آل عمران:28)،(النساء:138، 139، 144)،(التوبه: 23، 24، 28، 29، 113)
[10] مشرکین کا پرانا شیوہ ہے کہ مومنوں سے کہنا کہ تم پر ہمارے معبودوں کی مار پڑ گئی ہے۔ (هود:54، 55) جیسے آج کل کہتے ہیں کہ تم پر ہمارے گیارھویں والے کی مار پڑ گئی ہے۔
[11] انبیائے کرام علیہم السلام نے اپنی امتوں سے فرمایا ہم تم سے اجر نہیں مانگتے، ہمارا اجر اللہ کے پاس ہے۔ (هود:29، 51)،(الأنعام:90)،(یونس:72)
[12] مومنوں کا عیب کیا ہے؟ جرم کیا ہے؟(آل عمران:195)،(البروج: 8، 9) (یعنی) توحید پر ایمان لانا ہی ہمیشہ سے مومنوں کا جرم رہا ہے۔