رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی مخالفت کرنے والے سے قطع تعلق کرنا
① سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، سیدنا ابن مغفل رضی اللہ عنہ کے کسی قریبی نے بیچ کی دو انگلیوں میں کنکری رکھ کر پھینکی تو انہوں نے اسے منع کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری پھینکنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا:
إنه لا يصيد صيدا
”اس کے ذریعے شکار بھی نہیں ہو سکتا۔“
اس آدمی نے پھر ویسے ہی کیا۔ تو انہوں نے کہا: میں تمہیں حدیث سنا رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے جبکہ تم پھر کنکری پھینک رہے ہو، میں تم سے کبھی بھی کلام نہیں کروں گا۔
بخاری، کتاب الادب، حدیث 6220، مسلم، کتاب الصید والذبائح وما يؤكل، حدیث 1954/54۔
خواہشات اور فرقہ بازی کی ممانعت
① سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں کھڑے ہوئے اور فرمایا:
ألا إن من كان قبلكم من أهل الكتاب افترقوا على ثنتين وسبعين ملة، وإن هذه الملة ستفترق على ثلاث وسبعين، ثنتان وسبعون فى النار، وواحدة فى الجنة وهى الجماعة، وإنه سيخرج من أمتي أقوام تتجارى بهم تلك الأهواء كما يتجارى الكلب لصاحبه لا يبقى منه عرق ولا مفصل إلا دخله
”سن لو! تم سے پہلے جو اہل کتاب میں سے تھے وہ بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے اور یہ امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوگی، ان میں سے بہتر جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں، اور وہ جماعت (گروہ) ہے۔ اور عنقریب میری امت میں سے کچھ ایسے لوگ نکلیں گے جن میں خواہشات اس طرح سرایت کر جائیں گی جس طرح باؤلے کتے کی بیماری متاثرہ شخص کے ہر رگ و ریشے میں سرایت کر جاتی ہے۔“
ابو داؤد، کتاب السنة، حدیث 4597، دارمی، کتاب السیر، 2/ 314، حدیث 4518۔
دین میں نئی نئی باتیں جاری کرنے کی ممانعت
① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من أحدث فى أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد
”جس نے ہمارے اس امر (دین) میں کسی نئی چیز کا اضافہ کیا جو اس میں سے نہیں تو وہ مردود ہے۔“
بخاری، کتاب الصلح، حدیث 2697، مسلم، کتاب الاقضیة، حدیث 1718/17۔
② سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أنا فرطكم على الحوض وليختلجن رجال دوني فأقول: يا رب أصحابي، فيقال: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك
”میں حوضِ کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا اور کچھ لوگوں کو میرے پاس آنے سے دور ہی روک دیا جائے گا، میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میرے ساتھی ہیں، تو بتایا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد (دین میں) کیا کیا نئے کام جاری کر دیے تھے ؟ “
بخاری، کتاب الفتن، حدیث 7049، مسلم، کتاب الفضائل، حدیث 2297/32۔