متنازعہ امور پر قرآنِ کریم کے فیصلے اور اہلِ جاہلیت کے باطل عقائد کا رد

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

متنازعہ امور پر چند اہم قرآنی فیصلے:

درج ذیل باتیں انتہائی غور طلب ہیں، ان کو سمجھیں اور ان باطل عقیدوں سے بچیں۔ قرآن نازل ہوتے وقت جو جھگڑے والے امور تھے اور ان کا فیصلہ وحی کے ذریعے کیا گیا، وہ حسب ذیل ہیں:

[1] شرک:

اہلِ جاہلیت اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس سے دعا کرتے وقت صالحین کو اس میں شریک کر لیا کرتے تھے، معنی یہ کہ یہ صالحین اللہ کے ہاں ہماری سفارش کریں گے۔ اس شرکیہ عقیدہ کی قرآنِ کریم یوں وضاحت کرتا ہے: [وَیَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَضُرُّہُمۡ وَ لَا یَنۡفَعُہُمۡ وَ یَقُوۡلُوۡنَ ہٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللّٰہِ]

اور یہ لوگ اللہ (کی توحید) کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ تو ان کو تکلیف پہنچا سکتے ہیں اور نہ نفع پہنچا سکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں۔ [یونس:18]

[وَالَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءَ ۘ مَا نَعۡبُدُہُمۡ اِلَّا لِیُقَرِّبُوۡنَاۤ اِلَی اللّٰہِ زُلۡفٰی]

اور جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ہیں (وہ کہتے ہیں کہ) ہم ان کو اس لیے پوجتے ہیں کہ ہم کو اللہ تعالیٰ کا مقرب بنا دیں۔ [الزمر:3]

یہی وہ اہم اور عظیم مسئلہ ہے جس میں رسولِ مکرم ﷺ نے ان کی مخالفت کی اور اخلاص عمل کا درس دیا یعنی خالص اللہ کو پکارو اور بتایا کہ یہی وہ دینِ الہی ہے جس کی تبلیغ کے لیے اللہ تعالٰی نے انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرمایا اور یہ کہ وہ خالص عمل ہی کو شرفِ قبولیت بخشتا ہے اور آپ نے یہ بھی بتایا کہ جو شخص وہ برے اعمال کرے گا جن کو مشرکین استحسان کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اس کا بہشت میں داخلہ حرام اور اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ یہی وہ اہم مسئلہ ہے جس سے مسلمان اور کافر میں فرق ہوتا ہے، یہیں سے محبت اور عداوت کی راہیں الگ ہوتی ہیں اور یہیں سے جہاد کی ابتدا ہوتی ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: [وَقَاتِلُوۡہُمۡ حَتّٰی لَا تَکُوۡنَ فِتۡنَۃٌ وَّ یَکُوۡنَ الدِّیۡنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ]

اور ان لوگوں سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ (یعنی کفر کا فساد) باقی نہ رہے اور دین سب اللہ ہی کا ہو جائے۔ [الأنفال:39]

[2] فرقہ بندی:

دین و دنیا میں اہلِ جاہلیت کی راہیں الگ الگ تھیں اور وہ اسی کو درست اور صحیح سمجھتے تھے، ربِ کریم ان کے افتراق کو یوں آشکار کرتا ہے:

[کُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَیۡہِمۡ فَرِحُوۡنَ]

جو چیزیں جس فرقے کے پاس ہیں وہ اسی سے خوش ہو رہا ہے۔ [المؤمنون:53]

چنانچہ اللہ تعالیٰ دین میں اتحاد کی تلقین کرتے ہوئے فرماتا ہے:

[شَرَعَ لَکُمۡ مِّنَ الدِّیۡنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوۡحًا وَّ الَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ وَ مَا وَصَّیۡنَا بِہٖۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ مُوۡسٰی وَ عِیۡسٰۤی اَنۡ اَقِیۡمُوا الدِّیۡنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوۡا فِیۡہِ]

اس نے تمھارے لیے دین کا وہی راستہ مقرر کیا جس (کے اختیار کرنے) کا نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی ہم نے تمھاری طرف وحی بھیجی ہے اور جس کا ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا گیا تھا (وہ یہ) کہ دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا۔ [الشوریٰ:13]

[اِنَّ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمۡ وَ کَانُوۡا شِیَعًا لَّسۡتَ مِنۡہُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ]

ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو متفرق ہو گئے اور احکامِ دین آنے کے بعد ایک دوسرے سے اختلاف کرنے لگے۔ [الأنعام:159]

دین میں فرقہ بندی کو ختم کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے:

[وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوۡا] اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہنا اور متفرق نہ ہونا۔ [آل عمران:103]

یہ تبھی ممکن ہے کہ سب فرقے سب کچھ چھوڑ کر صرف قرآن و حدیث کو اختیار کریں۔

[3]بغاوت:

مشرکینِ حاکمِ وقت کی مخالفت اور عدم اطاعت کو اپنے لیے بڑی خوبی اور اطاعت و فرماں برداری کو ذلت و رسوائی سمجھتے تھے لیکن رحمۃ للعالمین ﷺ نے ان کی مخالفت کی اور حکم دیا کہ اگر حاکمِ وقت ظلم کرے تو بھی صبر کیا جائے اور اطاعت و فرماں برداری کرتے ہوئے اسے نصیحت کی جائے۔ مسند احمد کی صحیح روایت کے مطابق مندرجہ بالا تینوں امور کو رسولِ اکرم ﷺ نے ایک ہی حدیث میں جمع کر دیا ہے۔ آپ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: [إن الله عز وجل رضي لكم ثلاثا، وكره لكم ثلاثا: رضي لكم أن تعبدوه ولا تشركوا به شيئا، وأن تنصحوا لمن ولاه الله أمركم، وأن تعتصموا بحبل الله جميعا ولا تفرقوا]

بے شک اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے تین چیزوں کو پسند کیا ہے اور تین کو ناپسند کیا ہے، اس نے تمھارے لیے پسند کیا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور جسے اللہ تعالیٰ تمھارا حاکم بنائے اسے نصیحت کرو اور تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقوں میں نہ بٹو۔ [مسند أحمد:8718]

مندرجہ بالا تینوں امور سے جب تک لوگ بچتے رہے امن و سکون سے زندگی بسر کرتے رہے اور جب گناہوں میں ملوث ہوئے تو جہاں ان کا دین برباد ہوا وہاں دنیاوی امور میں بھی ترقی کی راہیں بند ہوگئیں۔

[4] تقلید:

مشرکین نے اپنے مذہب کے کئی ایک اصول بنا رکھے تھے جن میں سرفہرست تقلید تھی، مشرکینِ عالم کا سب سے بڑا اور اہم قاعدہ اپنے پیش رو صلحاء کی تقلید کرنا تھا، ان کے اسی عقیدہ بد کی قرآن کریم یوں وضاحت کرتا ہے: [وَ کَذٰلِکَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ فِیۡ قَرۡیَۃٍ مِّنۡ نَّذِیۡرٍ اِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوۡہَاۤ ۙ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤی اُمَّۃٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤی اٰثٰرِہِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ]

اور اسی طرح ہم نے تم سے پہلے کسی بستی میں کوئی ہدایت کرنے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوش حال لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راہ پر پایا ہے اور ہم قدم بہ قدم انہی کے پیچھے چلتے ہیں۔ [الزخرف:23]

[وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمُ اتَّبِعُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ قَالُوۡا بَلۡ نَتَّبِعُ مَا وَجَدۡنَا عَلَیۡہِ اٰبَآءَنَا ؕ اَوَ لَوۡ کَانَ الشَّیۡطٰنُ یَدۡعُوۡہُمۡ اِلٰی عَذَابِ السَّعِیۡرِ]

اور جب ان سے کہا جاتا کہ جو (کتاب) اللہ نے نازل فرمائی ہے اس کی پیروی کرو۔ تو کہتے ہیں کہ ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا۔ بھلا اگرچہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو (تب بھی!)۔ [لقمان:21]

رب کریم ترک تقلید پر ان کو یوں متنبہ فرماتا ہے:

[قُلۡ اِنَّمَاۤ اَعِظُکُمۡ بِوَاحِدَۃٍ ۚ اَنۡ تَقُوۡمُوۡا لِلّٰہِ مَثۡنٰی وَ فُرَادٰی ثُمَّ تَتَفَکَّرُوۡا ۟ مَا بِصَاحِبِکُمۡ مِّنۡ جِنَّۃٍ]

کہہ دو کہ میں تمھیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم اللہ کے لیے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہو جاؤ پھر غور کرو، تمھارے رفیق کو جنون نہیں ہے۔ [سبا :46]

[اِتَّبِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ لَا تَتَّبِعُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءَ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَذَکَّرُوۡنَ]

لوگو! (جو کتاب) تم پر تمھارے پروردگار کی طرف سے نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا اور رفیقوں کی پیروی نہ کرو اور تم کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو۔ [الأعراف:3]

[5]جمہوریت کا بت:

مشرکین کا ایک اہم اصول یہ بھی تھا کہ وہ اپنی کثرت پر نازاں تھے، کسی چیز کے صحیح یا غلط ہونے کو وہ قلت و کثرت کے ترازو میں تولا کرتے تھے، حالانکہ کسی بات کا فیصلہ دلائل سے ہوتا ہے، لوگوں کی کثرت سے نہیں۔ رب کریم نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر اس معیار کو غلط اور بیہودہ قرار دیا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک علیحدہ بحث اسی کتاب میں آرہی ہے۔

 

[6] آباؤ اجداد کی تقلید:

اہلِ جاہلیت اپنے آباؤ اجداد کے طرزِ زندگی کو بطورِ حجت پیش کیا کرتے تھے۔ رب کریم ان کے اس عقیدہ کو یوں بیان کرتا ہے:

[قَالَ فَمَا بَالُ الۡقُرُوۡنِ الۡاُوۡلٰی] اچھا تو پہلے لوگوں کا کیا حال ہوا۔ [طه:51]

[مَّا سَمِعۡنَا بِہٰذَا فِیۡۤ اٰبَآئِنَا الۡاَوَّلِیۡنَ] ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو یہ بات کبھی نہیں سنی تھی۔ [المؤمنون:23]

[7]ملوک اور صاحبِ ثروت:

مشرکین اپنے حق میں ان افراد کو بھی بطورِ استدلال پیش کیا کرتے تھے جنہیں ذہنی اور علمی صلاحیتیں دی گئی تھیں اور ان لوگوں کو بھی اپنا پیشوا سمجھتے تھے جو یا تو بادشاہ تھے یا جن کے پاس مال و دولت کی فراوانی تھی اور عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے تھے۔ رب ذوالجلال ارشاد فرماتا ہے:

[وَ لَقَدۡ مَکَّنّٰہُمۡ فِیۡمَاۤ اِنۡ مَّکَّنّٰکُمۡ فِیۡہِ] اور ہم نے ان کو ایسے مقدور دیے تھے جو تم لوگوں کو نہیں دیے۔ [الأحقاف:26]

[وَ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ یَسۡتَفۡتِحُوۡنَ عَلَی الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ۚ فَلَمَّا جَآءَہُمۡ مَّا عَرَفُوۡا کَفَرُوۡا بِہٖ فَلَعۡنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ]

اور پہلے (ہمیشہ) کافروں پر فتح مانگا کرتے تھے تو جس چیز کو وہ خوب پہچانتے تھے جب ان کے پاس آ پہنچی تو اس سے کافر ہو گئے، پس کافروں پر اللہ کی لعنت۔ [البقره:89]

[یَعۡرِفُوۡنَہٗ کَمَا یَعۡرِفُوۡنَ اَبۡنَآءَہُمۡ] وہ اسے (رسول کو) اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ [البقرة:146]

[8] غرباء و مساکین سے بے التفاتی:

مشرکین کی یہ بھی ایک عادت بد تھی کہ وہ کسی چیز کے غلط ہونے کے لیے یہ کہتے کہ اس کو تسلیم کرنے والے کمزور اور غریب لوگ ہیں۔ قرآن کریم نے ان کی اس عادت بد سے یوں پردہ اٹھایا ہے: [قَالُوۡۤا اَنُؤۡمِنُ لَکَ وَ اتَّبَعَکَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ]

وہ بولے کہ کیا ہم تم کو مان لیں اور تمھارے پیروکار تو رذیل لوگ ہوئے ہیں۔ [الشعراء:111]

[اَہٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡۢ بَیۡنِنَا] کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہم میں سے فضل کیا ہے۔ [الأنعام:53]

اللہ کریم اس عادت بد کی تردید فرماتا ہے: [اَلَیۡسَ اللّٰہُ بِاَعۡلَمَ بِالشّٰکِرِیۡنَ] بھلا اللہ شکر کرنے والوں سے واقف نہیں۔ [الأنعام:53]

[9] علمائے سوء کی قیادت:

اہل جاہلیت اور مشرکین فاسق و فاجر اور علمائے سوء کو اپنا رہبر سمجھا کرتے تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی یوں رہنمائی فرمائی:

[یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ الۡاَحۡبَارِ وَ الرُّہۡبَانِ لَیَاۡکُلُوۡنَ اَمۡوَالَ النَّاسِ بِالۡبَاطِلِ وَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ]

مومنو! بہت سے عالم اور مشائخ لوگوں کا مال ناحق کھاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔ [التوبة:34]

مشرکین کو ڈانٹ پلاتے ہوئے فرمایا: [لَا تَغۡلُوۡا فِیۡ دِیۡنِکُمۡ غَیۡرَ الۡحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوۡۤا اَہۡوَآءَ قَوۡمٍ قَدۡ ضَلُّوۡا مِنۡ قَبۡلُ وَ اَضَلُّوۡا کَثِیۡرًا وَّ ضَلُّوۡا عَنۡ سَوَآءِ السَّبِیۡلِ]

کہو کہ اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق مبالغہ نہ کرو اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود) پہلے گمراہ ہوئے اور اکثروں کو بھی گمراہ کر گئے اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔ [المائدة:77]

[10] قلت فہم:

مشرکین دینِ حق کو اس لیے بھی تسلیم نہ کرتے کہ ان کے نزدیک اس کو ان لوگوں نے مانا ہے جو فہم و فراست سے عاری اور قوتِ حافظہ سے محروم ہیں۔ قرآن کریم ان کی اس کج روی کو یوں واضح کرتا ہے: [اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاۡیِ]

اور ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیروکار وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں اور وہ بھی رائےِ ظاہر سے۔ [ھود:27]

[11]قیاس فاسد:

مشرکین کے ہاں غلط قیاس سے استدلال کا عام رواج تھا، جیسے: [اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُنَا] تم تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو۔ [ابراهيم:10]

[12] قیاس صحیح سے انکار کرنا:

قیاس صحیح سے انکار کرنا بھی مشرکین کی عادت تھی، قیاس فاسد سے استدلال اور قیاس صحیح سے انکار کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے دونوں میں وجہ امتیاز کو نہ سمجھا۔

[13] غلو:

اہلِ جاہلیت کا اپنے علماء اور صالحین امت کی تعظیم و تکریم میں مبالغہ اور ان کی شان میں غلو کرنا عام شیوہ تھا۔ رب کریم نے مبالغہ آرائی سے یوں روکا:

[یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لَا تَغۡلُوۡا فِیۡ دِیۡنِکُمۡ وَ لَا تَقُوۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ اِلَّا الۡحَقَّ]

اے اہل کتاب! اپنے دین میں حد سے نہ بڑھو اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں حق کے سوا کچھ بھی نہ کہو۔ [النساء:171]

[14] نفی و اثبات:

مشرکین کے مندرجہ بالا نمبر (13) میں افعالِ بد کی بنیاد ایک اصول پر مبنی تھی اور وہ تھا نفی و اثبات یعنی اللہ کی نازل کردہ ہدایات سے اعراض کرنا اور اپنے ظن و تخمین کی پیروی۔

[15] ہٹ دھرمی:

مشرکین کی خوئے بد ایک یہ بھی تھی کہ وہ احکامِ الہیہ کو یہ کہہ کر مسترد کر دیتے تھے کہ یہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہیں، جیسے:

[وَقَالُوۡا قُلُوۡبُنَا غُلۡفٌ] اور کہتے کہ ہمارے دل پردے میں ہیں۔ [البقرة :88]

[یٰشُعَیۡبُ مَا نَفۡقَہُ کَثِیۡرًا مِّمَّا تَقُوۡلُ] اے شعیب! تمھاری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں۔ [هود:91]

اللہ تعالیٰ نے ان کو جھوٹا قرار دیا اور فرمایا کہ ان کی یہ ہٹ دھرمی ان کے کفر اور ان کے دلوں پر مہر لگ جانے کی وجہ سے تھی۔

[16] کتب سماوی کے بدلے کتب جادو:

کتب سماوی کے بدلے کتب جادو پر عمل کرنا بھی مشرکین کی عادت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس فعل کا یوں ذکر فرمایا ہے:

[نَبَذَ فَرِیۡقٌ مِّنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ کِتٰبَ اللّٰہِ وَرَآءَ ظُہُوۡرِہِمۡ کَاَنَّہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ]،[وَ اتَّبَعُوۡا مَا تَتۡلُوا الشَّیٰطِیۡنُ عَلٰی مُلۡکِ سُلَیۡمٰنَ]

جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی ان میں سے ایک جماعت نے اللہ کی کتاب کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا، گویا وہ جانتے ہی نہیں اور ان (ہزلیات) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان (علیہ السلام) کے عہدِ سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے۔ [البقرة:101-102]

[17] مشرکین کا ایک کفریہ اصول:

مشرکین کا ایک کفریہ اصول یہ بھی تھا کہ وہ اپنے کفریہ اور مشرکانہ افعال کو انبیاء کی طرف منسوب کر دیتے تھے جیسے رب کریم انبیائے کرام کی براءت کرتے ہوئے فرماتا ہے: [وَمَا کَفَرَ سُلَیۡمٰنُ وَ لٰکِنَّ الشَّیٰطِیۡنَ کَفَرُوۡا]

اور سلیمان (علیہ السلام) نے مطلق کفر کی بات نہیں کی بلکہ شیطان ہی کفر کرتے تھے۔ [البقرة:102]

[مَا کَانَ اِبۡرٰہِیۡمُ یَہُوۡدِیًّا وَّ لَا نَصۡرَانِیًّا وَّ لٰکِنۡ کَانَ حَنِیۡفًا مُّسۡلِمًا ؕ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ]

ابراہیم نہ تو یہودی تھے اور نہ عیسائی بلکہ سب سے بے تعلق ہو کر ایک اللہ کے ہو رہے تھے اور اسی کے فرماں بردار تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔ [آل عمران :67]

[18] نسبت میں تناقض:

مشرکین کی ایک یہ بھی دو رخی اور منافقت تھی کہ وہ اپنے آپ کو ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف منسوب کرتے اور کہتے کہ ہم ابراہیمی ہیں لیکن آپ کی اتباع سے روگردانی کرتے۔

[19] عیب جوئی:

مشرکینِ عرب بعض صوفیاء کے قبیح اعمال کی وجہ سے صلحائے امت پر عیب جوئی اور طعنہ زنی سے بھی باز نہیں آتے تھے، جیسے یہودیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) پر الزام لگایا اور عیسائیوں نے یہودیوں سمیت رحمت دو عالم ﷺ کی طرف مجنون وغیرہ ہونے کی نسبت کی۔ العیاذ باللہ!

[20] کہانت کو کرامت سمجھنا:

مشرکینِ عرب جادوگر اور کاہن کی شعبدہ بازی کو صلحائے کرام کی طرف منسوب کیا کرتے تھے اور طرہ یہ کہ بعض اوقات اس شعبدہ بازی کو انبیاء کی طرف منسوب کرنے سے بھی دریغ نہ کرتے جیسے سلیمان (علیہ السلام) کی طرف جادو کو منسوب کرنا۔

[21] مشرکین کی عبادت:

مشرکین کی عبادت سیٹی اور تالی بجانے پر موقوف تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس قبیح حرکت کویوں بیان فرماتا ہے:

[وَمَا کَانَ صَلَاتُہُمۡ عِنۡدَ الۡبَیۡتِ اِلَّا مُکَآءً وَّ تَصۡدِیَۃً] اور ان لوگوں کی نماز خانہ کعبہ کے پاس سیٹیاں اور تالیاں بجانے کے سوا کچھ نہ تھی۔ [الأنفال:35]

[22] مشرکین کا دین:

مشرکین نے کھیل کود اور تماشا اپنا دین بنا رکھا تھا، مشرکین کو دنیاوی عیش و عشرت نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا اور مال و متاع کی اس فراوانی سے وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ اللہ تعالیٰ بھی ہم پر راضی ہے۔ رب کریم ان کے اس گمانِ باطل کو یوں بیان فرماتا ہے:

[وَ قَالُوۡا نَحۡنُ اَکۡثَرُ اَمۡوَالًا وَّ اَوۡلَادًا ۙ وَّ مَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِیۡنَ] اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم بہت سا مال اور اولاد رکھتے ہیں اور ہم کو عذاب نہیں ہوگا۔ [سبا:35]

[23] مشرکین کا تکبر:

کمزور اور مسکین لوگوں نے اسلام قبول کرنے میں پہل کی، اس لیے مشرکین نے تکبر اور خود غرضی کی وجہ سے قبولِ حق سے انکار کیا، چنانچہ مسکین مسلمانوں کی توقیر کو مدنظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ سے یوں مخاطب ہوتا ہے:

[وَ لَا تَطۡرُدِ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَدٰوۃِ وَ الۡعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَہٗ]

اور جو لوگ صبح و شام اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں اور اس کی ذات کے طالب ہیں ان کو اپنے پاس سے مت نکالو۔ [الأنعام:52]

[24]مشرکین کا غلط استدلال:

مشرکین کے نزدیک احکامِ الہیہ کے غلط ہونے کی ایک دلیل یہ بھی تھی کہ ان کو تسلیم کرنے والے کمزور افراد تھے۔ مشرکین کا یہ غلط استدلال قرآن کریم نے خود نقل کیا ہے: [لَوۡ کَانَ خَیۡرًا مَّا سَبَقُوۡنَاۤ اِلَیۡہِ]

اگر یہ دین کچھ بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے پہلے نہ دوڑ پڑتے۔ [الأحقاف:11]

[25] تحریف:

کتب الہیہ پر غور و فکر اور انھیں صحیح سمجھنے کے بعد ان میں تحریف کرنا مشرکین کا محبوب مشغلہ تھا۔

[26] غلط لٹریچر کی اشاعت:

مشرکینِ عالم کا ایک مشغلہ یہ بھی تھا کہ وہ غلط اور بے ہودہ کتب لکھتے اور پھر نہایت ڈھٹائی سے یہ کہتے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہیں۔ رب کریم ان کی اس بے ہودگی کو یوں واضح فرماتا ہے:

[فَوَیۡلٌ لِّلَّذِیۡنَ یَکۡتُبُوۡنَ الۡکِتٰبَ بِاَیۡدِیۡہِمۡ ثُمَّ یَقُوۡلُوۡنَ ہٰذَا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ]

پس ان لوگوں پر افسوس ہے کہ جو اپنے ہاتھ سے کتاب لکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس سے (آئی) ہے۔ [البقرة:79]

[27] مشرکین کے ہاں قبول ہونے والے عقائد:

مشرکینِ عرب انہی مسائل کو صحیح سمجھتے جو ان کے گروہ کے مذموم عقائد کے مطابق ہوتے تھے، جیسے ان کا یہ کہنا:

[نُؤۡمِنُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡنَا وَ یَکۡفُرُوۡنَ بِمَا وَرَآءَہٗ]

ہم تو صرف اس کتاب پر ایمان لائیں گے جو ہم پر نازل کی گئی ہے اور جتنی اس کے علاوہ ہیں ان سب کا انکار کرتے ہیں۔ [البقرة:91]

[28] مشرکین کی ایک خصلتِ رذیلہ:

مشرکینِ عالم کی ایک خصلتِ رذیلہ یہ بھی تھی کہ وہ اپنے ہی گروہ کے اصحابِ عقل و دانش کی صحیح باتوں کو بھی سمجھنے کی کوشش نہ کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اسی خصلت سے متنبہ فرمایاہے:

[قُلۡ فَلِمَ تَقۡتُلُوۡنَ اَنۡۢبِیَآءَ اللّٰہِ مِنۡ قَبۡلُ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ]

اگر تم صاحبِ ایمان ہوتے تو اللہ کے پیغمبروں کو پہلے ہی کیوں قتل کیا کرتے۔ [البقرة:91]

[29] افتراق:

عجائباتِ قدرت میں سے ایک یہ ہے کہ جب مشرکینِ عرب نے ربِ کریم کی وصیتِ اتحاد و اتفاق کو ترک کر دیا اور افتراق و اختلاف کے مرتکب ہوئے تو ہر گروہ اپنے کردار پر نازاں و فرحاں تھا۔ [مِنَ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمۡ وَ کَانُوۡا شِیَعًا ؕ کُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَیۡہِمۡ فَرِحُوۡنَ] ان لوگوں سے جنھوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور کئی گروہ ہوگئے، ہر گروہ اسی پر جو ان کے پاس ہے، خوش ہیں۔ [الروم:32]

[30] اپنے ہی مسلک کی مخالفت کرنا:

یہ بات بھی نشاناتِ قدرت کا عجوبہ ہے کہ مشرکینِ عرب جس دین و مذہب کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے تھے اسی دین سے بے پناہ بغض و عداوت رکھتے اور کفار اور ان کے دین و مذہب سے انتہائی محبت و الفت رکھتے تھے جو ان کے اور ان کے نبی ﷺ کے جانی دشمن تھے، جیسا کہ مشرکین کا معاملہ رحمتِ دو عالم ﷺ کے ساتھ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے دین سے انھیں روشناس کرایا تو انھوں نے کتبِ جادو کو اپنایا جو سراسر فرعون کی ذریت کا ورثہ تھیں۔

[31] انکارِ حق:

مشرکین کا حق و صداقت سے انکار کرنا جب کہ وہ ایسے شخص کے پاس ہوتا جس کو وہ کمزور سمجھتے تھے۔ قرآنِ کریم ان کی اس خصلت کو یوں بیان کرتا ہے:

[وَ قَالَتِ الۡیَہُوۡدُ لَیۡسَتِ النَّصٰرٰی عَلٰی شَیۡءٍ ۪ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰی لَیۡسَتِ الۡیَہُوۡدُ عَلٰی شَیۡءٍ]

یہودی کہتے ہیں کہ عیسائی رستے پر نہیں اور عیسائی کہتے ہیں یہ یہودی رستے پر نہیں۔ [البقرة:113]

[32] مشرکین کا اپنے بنیادی عقائد کا انکار:

مشرکین کا ان اعمال سے انکار کرنا جن کو وہ اپنے دین کی بنیاد قرار دیتے تھے جیسے بیت اللہ کا حج۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس روش کو حماقت قرار دیتے ہوئے فرماتا ہے:

[وَ مَنۡ یَّرۡغَبُ عَنۡ مِّلَّۃِ اِبۡرٰہٖمَ اِلَّا مَنۡ سَفِہَ نَفۡسَہٗ] اور ابراہیم کے دین سے کون روگردانی کر سکتا ہے بجز اس کے جو نہایت نادان ہو۔ [البقرة:130]

[33] مشرکین کی گروہ بندی میں مسابقت:

مشرکینِ عالم کی گروہ بندی کی مسابقت میں ہر فرقہ صرف اپنے ہی گروہ کو نجات دہندہ سمجھتا تھا، رب کریم نے ان کی تکذیب کی اور فرمایا:

[قُلۡ ہَاتُوۡا بُرۡہَانَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ] اگر تم سچے ہو تو دلیل پیش کرو۔ [البقرة:111]

اور پھر صحیح اور صراطِ مستقیم کی نشاندہی فرمائی:

[بَلٰی مَنۡ اَسۡلَمَ وَجۡہَہٗ لِلّٰہِ وَ ہُوَ مُحۡسِنٌ فَلَہٗۤ اَجۡرُہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ] ہاں! جو شخص اللہ کے آگے گردن جھکا دے اور وہ نیکوکار بھی ہو تو اس کا صلہ اس کے پروردگار کے پاس ہے۔ [البقرة:112]

[34] برہنگی بھی عبادت:

مشرکین کے ہاں برہنگی کو بہترین عبادت سمجھا جاتا تھا، جیسے:

[وَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَۃً قَالُوۡا وَجَدۡنَا عَلَیۡہَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰہُ اَمَرَنَا بِہَا] اور وہ لوگ جب کوئی فحش کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریق پر پایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی ہم کو یہی بتایا ہے۔ [الأعراف:28]

[35] حرام کو حلال قرار دینا:

مشرکین کے ہاں حرام کو حلال قرار دینا بہترین اطاعت خیال کیا جاتا تھا، جیسے شرک کو عبادت سے تعبیر کیا کرتے تھے۔

[36] غیراللہ کو داتا اور مشکل کشا سمجھنا:

مشرکینِ عالم کے یہاں علماء اور پیروں کو اللہ تعالیٰ کے سوا رب یعنی داتا اور مشکل کشا سمجھنا بھی عبادت سمجھا جاتا تھا۔ (آل عمران: 64، 79، 80)

[37] صفات الہیہ میں الحاد:

مشرکین صفات الہیہ میں الحاد کے بھی مرتکب ہوئے تھے، جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

[وَ لٰکِنۡ ظَنَنۡتُمۡ اَنَّ اللّٰہَ لَا یَعۡلَمُ کَثِیۡرًا مِّمَّا تَعۡمَلُوۡنَ] تم یہ خیال کرتے تھے کہ اللہ کو تمھارے بہت سے عملوں کی خبر ہی نہیں۔ [حٰم السجدة:22]

[38] اسمائے الہیہ میں الحاد:

مشرکین کا اسمائے الہیہ میں الحاد کرنا، جیسے:

[وَ ہُمۡ یَکۡفُرُوۡنَ بِالرَّحۡمٰنِ] اور یہ لوگ رحمٰن کو نہیں مانتے۔ [الرعد:30]

[39] مشرکینِ عرب تعطیل کے بھی قائل تھے: جیسے آل فرعون کا قول۔

[40] مشرکین نقائص کی نسبت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف کیا کرتے تھے۔

[41] مشرکین کا اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں شرک کرنا: جیسے مجوس کا قول تھا۔

[42] تقدیر کا انکار کرنا۔

[43] اللہ تعالیٰ کے خلاف حجت قائم کرنا۔

[44] تقدیر الہی کا سہارا لے کر شریعت کے خلاف کرنا۔

[45] زمانے کو گالی دینا، جیسے مشرکین کہا کرتے تھے:

[وَ مَا یُہۡلِکُنَاۤ اِلَّا الدَّہۡرُ] اور ہمیں تو زمانہ ہی مارتا ہے۔ [الجاثية:24]

[46] اللہ کے انعام کو غیر اللہ کی طرف منسوب کرنا، جیسے:

[یَعۡرِفُوۡنَ نِعۡمَتَ اللّٰہِ ثُمَّ یُنۡکِرُوۡنَہَا] یہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے واقف ہیں مگر ان سے انکار کرتے ہیں۔ [النحل:83]

[47] اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرنا۔

[48] بعض آیات کا انکار۔

[49] مشرکین کا یہ کہنا:

[مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ عَلٰی بَشَرٍ مِّنۡ شَیۡءٍ] اللہ نے انسان پر کچھ بھی نازل نہیں کیا۔ [الأنعام:91]

[50]مشرکین کا قرآن کریم کے بارے میں کہنا:

[اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِ] یہ بشر کا کلام ہے۔ [المدثر:25]

[51] اللہ تعالیٰ کی حکمت میں عیب نکالنا۔

[52] ظاہری اور باطنی حیلوں اور بہانوں سے کام لینا:

تاکہ انبیائے کرام علیہم السلام کے لائے ہوئے دین الہی کا خاتمہ ہو:

[وَ مَکَرُوۡا وَ مَکَرَ اللّٰہُ] ان لوگوں نے خفیہ تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ نے بھی خفیہ تدبیر فرمائی۔ [آل عمران:54]

[وَ قَالَتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اٰمِنُوۡا بِالَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَجۡہَ النَّہَارِ وَ اکۡفُرُوۡۤا اٰخِرَہٗ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ] اور اہل کتاب ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ جو (کتاب) مومنوں پر نازل ہوئی ہے اس پر دن کے شروع میں تو ایمان لے آیا کرو اور اس کے آخر میں انکار کر دیا کرو، تاکہ وہ برگشتہ ہو جائیں۔ [آل عمران:72]

[53] اس نیت سے حق کا اقرار کرنا کہ اس کی تردید کا ذریعہ معلوم ہو جائے۔

[54] مذہبی تعصب:

مذہبی تعصب سے کام لینا بھی مشرکین کا عام دستور تھا، جیسے:

[وَ لَا تُؤۡمِنُوۡۤا اِلَّا لِمَنۡ تَبِعَ دِیۡنَکُمۡ] اور اپنے دین کے پیرو کے سوا کسی اور کے قائل نہ ہونا۔ [آل عمران:73]

[55] اسلام کے اتباع کو شرک قرار دینا بھی مشرکین کی عام رسم تھی،

جیسے: [مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ یُّؤۡتِیَہُ اللّٰہُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحُکۡمَ وَ النُّبُوَّۃَ ثُمَّ یَقُوۡلَ لِلنَّاسِ کُوۡنُوۡا عِبَادًا لِّیۡ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ] کسی آدمی کو شایاں نہیں کہ اللہ تو اسے کتاب، حکم اور نبوت عطا فرمائے اور وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ۔ [آل عمران:79]

[56] کتاب الہیہ میں تحریف کرنا مشرکین کی عادتِ ثانیہ تھی۔

[57] اہل حق کو بے دین اور رذیل وغیرہ القاب سے پکارنا۔

[58] رب کریم کی ذاتِ پاک پر کذب و افترا باندھنا۔

[59] مشرکین جب دلائل کے سامنے مغلوب اور شکست کھا جاتے تو پھر ملوک اور سلاطین کے ہاں شکوہ و شکایت لے جاتے تھے،

جیسے: [اَتَذَرُ مُوۡسٰی وَ قَوۡمَہٗ لِیُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ] کیا آپ موسیٰ اور ان کی قوم کو یونہی رہنے دیں گے کہ وہ ملک میں فساد کرتے پھریں؟ [الأعراف:127]

[60] اہل اسلام کو مفسد ہونے کا عیب لگانا بھی مشرکین کی خاصیتِ بد تھی، جیسے پہلے اس کتاب میں ذکر ہوا ہے۔

[61] اہل اسلام پر یہ بھی الزام لگانا کہ وہ شاہی دین میں نقص نکالتے ہیں،

جیسے: [وَ یَذَرَکَ وَ اٰلِہَتَکَ] اور آپ کو اور آپ کے معبودوں کو ترک کیے رہیں۔ [الأعراف:127]

فرعون نے اہل وطن سے کہا:

[اِنِّیۡۤ اَخَافُ اَنۡ یُّبَدِّلَ دِیۡنَکُمۡ] مجھے ڈر ہے کہ وہ کہیں تمھارے دین کو نہ بدل دے۔ [المؤمن:26]

[62] مشرکین کی اہل اسلام پر یہ تہمت بھی تھی کہ وہ شاہی معبودوں میں نقص نکالتے ہیں، جیسے پہلے ذکر ہوا ہے۔

[63] اہل اسلام پر مشرکین کا یہ بھی بہتان تھا کہ وہ دین میں ردو بدل کر دیں گے:

جیسے: [اِنِّیۡۤ اَخَافُ اَنۡ یُّبَدِّلَ دِیۡنَکُمۡ اَوۡ اَنۡ یُّظۡہِرَ فِی الۡاَرۡضِ الۡفَسَادَ]

مجھے ڈر ہے کہ کہیں تمھارے دین کو نہ بدل دے یا ملک میں فساد نہ پیدا کر دے۔ [المؤمن:26]

[64] اہل اسلام پر ایک الزام یہ بھی تھا کہ وہ بادشاہ کی عیب جوئی کرتے ہیں۔ قرآن کریم کا لفظ ،،وَيَذَرَكَ،، اسی معنی کو واضح کرتا ہے۔

[65] ترکِ حق:

مشرکین کے دین میں جو باتیں حق ہوتیں ان پر عمل کرنے کا دعویٰ کرتے، جیسے:

[نُؤۡمِنُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡنَا] کہتے ہم پر جو نازل کیا گیا اس پر ہم ایمان لاتے ہیں۔ [البقرة:91]

لیکن درحقیقت وہ انھیں چھوڑ چکے ہوتے۔

[66] افراط:

مشرکین عبادات میں اضافہ کر لینا باعثِ شرف خیال کرتے تھے۔

[67] تفریط:

مشرکین عبادات میں کمی کرنے کے بھی مجرم تھے، جیسے میدانِ عرفات میں ترکِ وقوف۔

[68] ترکِ واجب:

پرہیز گاری کی آڑ میں واجبات کا ترک کرنا بھی مشرکین میں عام تھا۔

[69] پاکیزہ رزق کو ترک کرنا مشرکین کی بہترین عبادت تھی۔

[70] رب کریم کا عطا کردہ خوبصورت لباس استعمال نہ کرنا بھی مشرکین کی عبادت تھی۔

[71] لوگوں کو گمراہی کی طرف دعوت دینا مشرکینِ عرب کا خاص مشغلہ تھا۔

[72] مشرکینِ عرب اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ تو ضرور کرتے تھے:

لیکن درحقیقت شریعت کوترک کر چکے تھے، اللہ کریم نے ان سے اطاعت کا یوں مطالبہ کیا:

[قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ] آپ فرما دیجیے کہ اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا۔ [آل عمران :31]

[73] دانستہ کفر کی طرف لوگوں کو دعوت عام دینا۔

[74] مکر و فریب اور خطرناک سازشیں کرنا مشرکینِ عرب کا دن رات کا کھیل تھا، جیسے قومِ نوح کی عادتِ بد تھی۔

[75] مشرکینِ عرب کی قیادت:

یا تو علمائے سوء کے ہاتھوں میں تھی یا جاہل صوفیا کے قبضہ میں، قرآنِ مجید اس کی یوں وضاحت کرتا ہے:

[وَ قَدۡ کَانَ فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمۡ یَسۡمَعُوۡنَ کَلٰمَ اللّٰہِ ثُمَّ یُحَرِّفُوۡنَہٗ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا عَقَلُوۡہُ وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ] ان میں سے کچھ لوگ کلام اللہ کو سنتے پھر اس کے سمجھ لینے کے بعد اس کو جان بوجھ کر بدل دیتے رہے ہیں۔ [البقرة:75]

[76] بے بنیاد اور جھوٹی آرزوؤں میں مبتلا ہونا بھی مشرکین میں عام تھا:

جیسے: [وَ قَالُوۡا لَنۡ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعۡدُوۡدَۃً] اور کہتے ہیں کہ (دوزخ کی) آگ ہمیں چند روز کے سوا چھو ہی نہیں سکے گی۔ [البقرة:80]

دخولِ جنت کی خوش فہمی میں یوں گرفتار تھے:

[لَنۡ یَّدۡخُلَ الۡجَنَّۃَ اِلَّا مَنۡ کَانَ ہُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰی] یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی بہشت میں نہیں جائے گا۔ [البقرة:111]

[77] انبیائے کرام اور صلحائے امت کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لینا مشرکین کا بدترین فعل تھا۔

[78] آثارِ انبیاء (علیہم السلام) کو عبادت گاہ بنانا بھی جاہلیت کا عام شیوہ تھا، جیسا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔

[79] قبروں پر چراغاں کرنا بھی مشرکین کی بدعملی تھی۔ قبروں پر میلا لگانا اور عرس کرانا بھی اہل جاہلیت کا دستور تھا۔

[80] قبروں کے پاس جانور ذبح کرنا بھی مشرکین کی اہم عبادت تھی۔

[81] بزرگوں کے آثار سے تبرک حاصل کرنا بھی اہل جاہلیت کی خو تھی۔

[82] خاندانی شرافت پر فخر کرنا۔

[83] نسب اور رشتہ میں عیب لگانا۔

[84] ستاروں کی مختلف منزلوں سے بارش برسنے کا عقیدہ رکھنا۔

[85] نوحہ اور بین کرنا۔

[86] اپنے نسب پر فخر کرنا مشرکین کی بہت بڑی فضیلت تھی۔ چنانچہ قرآن کریم میں کئی مقامات پر اس کی تردید کی گئی ہے۔

[87] صحیح بات پر فخر کرنا:

مشرکین اپنی بہت بڑی فضیلت خیال کرتے تھے لیکن اسلام نے فخر کو ممنوع قرار دیا۔

[مسلم، کتاب الجنة و نعيمها، باب الصفات…. الخ: 2865]

[88] مشرکین کا سب سے اہم اور ضروری کام اپنے فرقے کے فرد سے خوب محبت اور اس کی ہر حالت میں مدد کرنا تھا خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم، رب کریم نے اس کی سخت مذمت کی ہے۔

[89] مشرکین کے مذہب میں کسی شخص کو دوسرے شخص کے جرم میں پکڑنا جائز تھا:

اس کی تردید میں فرمان باری ہے:

[وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی] کوئی شخص کسی دوسرے کے جرم میں سزاوار نہیں۔ [الأنعام: 164]

[90] کسی کے نسب میں عیب نکالنا بھی جاہلیت کا ترکہ ہے:

جیسے ایک دفعہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کسی شخص کی والدہ کے بارے میں یہ کہا تھا: (يا ابن سوداء!) اے کالی ماں کے بیٹے!یہ سن کر رسول اللہ ﷺ غصہ میں آگے آئے اور فرمایا: (أعيرته بأمه، إنك امرؤ فيك جاهلية)

تو نے اس کو اس کی ماں کے بارے میں عار دلائی ہے، ابھی تمھارے اندر جاہلیت کی بو موجود ہے۔

[بخاری، کتاب الإيمان، باب المعاصی من أمر الجاهلية …… الخ: 31]،[مسلم کتاب الإيمان، باب إطعام المملوك مما يأكل…الخ: 1661]

[91] بیت اللہ شریف کی تولیت پر فخر کرنا:

مشرکین کی عادت تھی۔ اللہ تعالیٰ اس طرح ان کی مذمت کرتا ہے:

[مُسۡتَکۡبِرِیۡنَ بِہٖ سٰمِرًا تَہۡجُرُوۡنَ] وہ تکبر کرتے، کہانیوں میں مشغول ہوتے اور بے ہودہ بکواس کرتے تھے۔ [المؤمنون:67]

[92] انبیائے کرام (علیہم السلام) کی اولاد ہونے پر فخر کرنا:

اس زعمِ باطل پر ربِ کریم ان کو یوں متنبہ فرماتا ہے: [تِلۡکَ اُمَّۃٌ قَدۡ خَلَتۡ ۚ لَہَا مَا کَسَبَتۡ] یہ جماعت گزر چکی، ان کو ان کے اعمال کا بدلہ ملے گا۔ [البقرة:134]

[93] صنعت و حرفت پر فخر کرنا، جیسے دواہم تجارتی سفر کرنے والوں نے کھیتی باڑی کرنے والوں پر اپنی برتری کا اظہار کیا۔

[94] دنیا اور اس کی زیب و زینت کی عظمت مشرکین کے دلوں پر چھا گئی تھی

اللہ تعالیٰ ان کا قول یوں نقل فرماتا ہے: [لَوۡ لَا نُزِّلَ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الۡقَرۡیَتَیۡنِ عَظِیۡمٍ] یہ قرآن دو بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا؟[الزخرف:31]

[95] فقراء اور مساکین کو حقیر سمجھنا مشرکین کی عام عادت تھی:

چنانچہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب ﷺ سے یوں مخاطب ہوا: [وَ لَا تَطۡرُدِ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَدٰوۃِ وَ الۡعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَہٗ] جو لوگ صبح و شام اپنے رب کو پکارتے اور اس کی ذات کے طالب ہیں ان کو (اپنے پاس سے) مت نکالو۔ [الأنعام:52]

[96] مشرکین انبیائے کرام علیہم السلام کی اطاعت کرنے والوں کو طعنہ دیتے:

مشرکینِ عالم انبیائے کرام علیہم السلام کی اطاعت و فرماں برداری کرنے والوں کو اخلاص سے تہی دامن اور دنیا دار ہونے کا طعنہ بھی دیا کرتے تھے۔ ربِ کریم نے فرمایا: [مَا عَلَیۡکَ مِنۡ حِسَابِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ] ان کے حساب کی جواب دہی تم پر کچھ نہیں۔ [الأنعام:52]

[97] فرشتوں کا انکار۔

[98] انبیائے کرام علیہم السلام کا انکار۔

[99] کتب سماویہ کا انکار۔

[100] اللہ تعالیٰ کے احکام سے روگردانی۔

[101] قیامت کا انکار۔

[102] اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے انکار۔

[103] قیامت کا انکار کرتے:

انبیائے کرام علیہم السلام نے قیامت کے بارے میں جو پیش گوئیاں فرمائیں ان میں سے بعض کا انکار۔ اللہ تعالیٰ مشرکین کی اس خصلت سے یوں آگاہ فرماتا ہے: [اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمۡ] وہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ کی آیات (اللہ تعالیٰ کے مالکِ یوم الدین ہونے) کی نفی کی۔ [الكهف:105]

[لَّا بَیۡعٌ فِیۡہِ وَ لَا خُلَّۃٌ وَّ لَا شَفَاعَۃٌ] [البقرة:254]

کی تکذیب بھی مشرکین کے عقائدِ باطلہ میں سے ہے۔

[104] جبت اور طاغوت پر ایمان لانا ان کا اصول تھا۔

[105] مشرکین کے دین کو مسلمانوں کے دین پر فضیلت دینا اہل جاہلیت کا عام دستور تھا۔

[106] حق کو باطل کے ساتھ گڈ مڈ کرنا۔

[107] حق کو جانتے ہوئے چھپانا۔

[108] مشرکین کا گمراہ کن اصول یہ بھی تھا کہ وہ بغیر علم کے بہت سی بیہودگیاں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیتے تھے۔

[109] حق کو جھٹلانے کے بعد ان کے اقوال و افعال میں واضح تضاد پیدا ہو گیا تھا:

جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیتے تھے:

[بَلۡ کَذَّبُوۡا بِالۡحَقِّ لَمَّا جَآءَہُمۡ فَہُمۡ فِیۡۤ اَمۡرٍ مَّرِیۡجٍ] بلکہ جب ان کے پاس حق آ پہنچا تو انھوں نے اس کو جھوٹ سمجھا۔ سو یہ ایک الجھی ہوئی بات میں ہیں۔ [ق:5]

[110] اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ بعض احکام پر ایمان اور بعض سے انکار۔

[111] انبیائے کرام علیہم السلام کے درمیان تفریق کرنا۔

[112] بغیر علم کے انبیائے کرام علیہم السلام کی مخالفت کرنا۔

[113] سلفِ امت کی اطاعت کا دعویٰ لیکن اعمال و کردار میں ان کی مخالفت کرنا۔

[114] جو لوگ انبیائے کرام علیہم السلام پر ایمان لے آتے انھیں اللہ تعالیٰ کے راستہ سے روکنا۔

[115] کفر اور کافروں سے محبت کرنا۔

[116] پرندوں کا اڑا کر فال لینا۔

[117] زمین پر خطوط وغیرہ کھینچ کر فال لینا۔

[118] فال بد لینا۔

[119] کاہن بننا یا کاہن کے پاس جانا۔

[120] کسی بھی طاغوت کے پاس فیصلہ لے جانا۔

[121] لونڈی اور غلام کے نکاح کو برا سمجھنا۔