ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 48

وَ مَا نُرۡسِلُ الۡمُرۡسَلِیۡنَ اِلَّا مُبَشِّرِیۡنَ وَ مُنۡذِرِیۡنَ ۚ فَمَنۡ اٰمَنَ وَ اَصۡلَحَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۴۸﴾
اور ہم رسولوں کو نہیں بھیجتے مگر خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے، پھر جو شخص ایمان لے آئے اور اصلاح کر لے تو ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ En
اور ہم جو پیغمبروں کو بھیجتے رہے ہیں تو خوشخبری سنانے اور ڈرانے کو پھر جو شخص ایمان لائے اور نیکوکار ہوجائے تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ اندوہناک ہوں گے
En
اور ہم پیغمبروں کو صرف اس واسطے بھیجا کرتے ہیں کہ وه بشارت دیں اور ڈرائیں پھر جو ایمان لے آئے اور درستی کرلے سو ان لوگوں پر کوئی اندیشہ نہیں اور نہ وه مغموم ہوں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 47 میں تا آیت 49 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

48۔ 1 وہ اطاعت گزاروں کو ان نعمتوں اور اجر جلیل کی خوشخبری دیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے جنت کی صورت میں ان کے لئے تیار کر رکھی ہے اور نافرمانوں کو ان عذابوں سے ڈراتے ہیں جو اللہ نے ان کے لئے جہنم کی صورت میں تیار کئے ہوئے ہیں۔ 48۔ 2 مستقبل (یعنی آخرت) میں پیش آنے والے حالات کا انھیں اندیشہ نہیں اور اپنے پیچھے دنیا میں جو کچھ چھوڑ آئے یا دنیا کی جو آسودگیاں وہ حاصل نہ کرسکے، اس پر مغموم نہیں ہوں گے کیونکہ دونوں جہانوں میں ان کا ولی اور کارساز وہ رب ہے جو دونوں جہانوں کا رب ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

48۔ اور ہم جو رسول بھیجتے ہیں تو صرف اس لیے (بھیجتے ہیں) کہ لوگوں کو بشارت دیں اور ڈرائیں، پھر جو کوئی ایمان لے آیا اور اس نے اپنی اصلاح کر لی تو ایسے لوگوں کو نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمزدہ ہوں گے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اس چیز کا خلاصہ بیان فرماتا ہے جس کے ساتھ اس نے رسولوں کو بھیجا اور وہ ہے تبشیر اور انذار۔ یہ چیز مُبَشِّرْ، مُبَشَّرْ بِہ اور ان اعمال کے بیان کو مستلزم ہے کہ جب بندہ ان کو بجا لاتا ہے تو اسے بشارت حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح یہ مُنْذِر، مُنْذَرْ بِہ اور ایسے اعمال کے بیان کو لازم قرار دیتی ہے کہ بندہ جب ان اعمال کا ارتکاب کرتا ہے تو انذار کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ لوگ انبیا و مرسلین کی دعوت پر لبیک کہنے یا ان کی دعوت کا جواب نہ دینے کے اعتبار سے دو اقسام میں منقسم ہیں: ﴿ فَ٘مَنْ اٰمَنَ وَاَصْلَ٘حَ پھر جو شخص ایمان لائے اور اصلاح کر لے۔ یعنی جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں اور اپنے ایمان، اعمال اور نیت کی اصلاح کرتے ہیں ﴿ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا۔ آنے والے امور سے انھیں کوئی خوف نہ ہو گا ﴿ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ اور نہ وہ غم زدہ ہوں گے۔ اور گزرے ہوئے امور پر وہ غمزدہ نہ ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يذكر تعالى زبدةَ ما أرسل به المرسلين أنَّه البِشارة والنِّذارة، وذلك مستلزمٌ لبيان: المبشِّر والمبَشَّر به والأعمال التي إذا عملها العبدُ حصلت له البشارة، والمنْذِر والمنذَر والمنْذَر به والأعمال التي من عَمِلَها حقَّت عليه النِّذارة، ولكن الناس انقَسموا بحسب إجابتهم لدعوتهم وعدمها إلى قسمين: {فَمنْ آمنَ وأصلحَ}؛ أي: آمن باللهِ وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر، وأصلح إيمانه وأعماله ونيَّته، {فلا خوفٌ عليهم}: فيما يُستقبل، {ولا هم يحزنونَ}: على ما مضى.