نہی الـــولاء عن المنـــافـقین
منافقین سے دوستی کی ممانعت
مسلمانوں کے ساتھ برسرپیکار، جنگ کفار سے تعلقات رکھنے والے منافقوں سے دوستی کرنا منع ہے۔
دوران جنگ غداری کرنے والے منافقوں کو فوراً قتل کرنے کا حکم ہے۔
[وَدُّوۡا لَوۡ تَکۡفُرُوۡنَ کَمَا کَفَرُوۡا فَتَکُوۡنُوۡنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوۡا مِنۡہُمۡ اَوۡلِیَآءَ حَتّٰی یُہَاجِرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَخُذُوۡہُمۡ وَ اقۡتُلُوۡہُمۡ حَیۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡہُمۡ ۪ وَ لَا تَتَّخِذُوۡا مِنۡہُمۡ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیۡرًا]
وہ (یعنی منافق) چاہتے ہیں جس طرح وہ کافر ہیں اسی طرح تم بھی کافر ہو جاؤ تا کہ تم اور وہ سب برابر ہو جائیں ایسے منافقوں میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ جب تک وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کر کے نہ آجائیں اگر وہ ہجرت نہ کریں تو انہیں جہاں پاؤ پکڑو اور قتل کرو ان میں سے کسی کو اپنا دوست اور مدد گار نہ بناؤ۔ (سورۃ النساء:89)
منافقوں کی مجالس میں شرکت کرنا منع ہے الا یہ کہ وہ توبہ کرلیں۔
[وَ قَدۡ نَزَّلَ عَلَیۡکُمۡ فِی الۡکِتٰبِ اَنۡ اِذَا سَمِعۡتُمۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ یُکۡفَرُ بِہَا وَ یُسۡتَہۡزَاُ بِہَا فَلَا تَقۡعُدُوۡا مَعَہُمۡ حَتّٰی یَخُوۡضُوۡا فِیۡ حَدِیۡثٍ غَیۡرِہٖۤ ۫ۖ اِنَّکُمۡ اِذًا مِّثۡلُہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ جَامِعُ الۡمُنٰفِقِیۡنَ وَ الۡکٰفِرِیۡنَ فِیۡ جَہَنَّمَ جَمِیۡعَۨا]
اللہ تعالیٰ اس کتاب میں تمہیں یہ حکم دے چکا ہے کہ جہاں تم سنو کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کے خلاف کفر بکا جارہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہاں نہ بیٹھو جب تک یہ لوگ کسی دوسری بات میں نہ لگ جائیں اگر تم ایسا کرو گے تو تم بھی ویسے ہی ہو گے بے شک اللہ تعالیٰ منافقوں اور کافروں کو جہنم میں اکٹھا کرنے والا ہے۔ (سورۃ النساء:140)