طلاق کے سلسلہ میں اسلام کی قیود
اسلامی شریعت نے طلاق کے معاملہ میں متعدد قیود عائد کی ہیں، جس سے طلاق کا دائرہ محدود ہو گیا ہے۔ جن ذرائع کا ذکر ہم اس سے پہلے کر چکے ہیں ان سے کام لیے بغیر اور بلا ضرورت طلاق دینا اسلام میں حرام اور ممنوع ہے۔ کیونکہ اس سے بیوی کے علاوہ خود شوہر کو بھی ضرر (نقصان) پہنچتا ہے اور خلاف مصلحت بھی ہے۔ اس لیے ایسی صورت میں طلاق دینا اسی طرح حرام ہے جس طرح کہ مال کو ضائع کرنا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
لا ضرر ولا ضرار
”نہ اپنی ذات کو ضرر پہنچاؤ اور نہ دوسروں کو۔“
ابن ماجه کتاب الاحكام : باب من بنى فى حقه ما يضر بجاره ح : 2340 ، 2341
کی رُو سے بھی ایسی طلاق کے لیے کوئی وجہ جواز نہیں ہے۔
رہے بہ کثرت طلاق دینے والے ذائقہ پرست تو یہ بات نہ اللہ کو پسند ہے اور نہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
لا أحب الدواقين من الرجال والدواقات من النساء
”ذائقہ پرست مرد اور ذائقہ پرست عورتیں مجھے پسند نہیں ہیں۔“
الجامع لعبد الله بن وهب : 69 اسناده ضعیف
إن الله لا يحب الدواقين ولا الدواقات
”اللہ کو ذائقہ پرست مرد اور ذائقہ پرست عورتیں پسند نہیں ہیں۔“
مصنف ابن ابي شيبة : 243 ، 252/5 – طبراني في الاوسط : 413/8 ، ح : 7844 البزار كشف الاستار : 192/2 ح : 1497 ، 1498 اسناده ضعیف
اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ طلاق ضرورت کو پورا کرنے ہی کی غرض سے مشروع کی گئی ہے۔
حالت حیض میں طلاق دینا حرام ہے
طلاق دینے کی ضرورت پیش آنے پر کسی وقت بھی طلاق دینا جائز نہیں ہے بلکہ اس کے لیے مناسب وقت کا انتظار ضروری ہے۔ اور شرعاً اس کا مناسب وقت حالت طہر ہے۔ یعنی عورت حیض اور نفاس کی حالت میں نہ ہو۔ نیز اس حالت طہر میں اس نے مجامعت (ہمبستری) نہ کی ہو۔ الا یہ کہ عورت حاملہ ہو اور اس کا حمل ظاہر ہو چکا ہو۔
یہ اس لیے کہ حالت حیض اور حالت نفاس میں شوہر بیوی سے علیحدہ رہتا ہے۔ قربت سے یہ محرومی ، ہو سکتا ہے کہ اسے طلاق دینے پر آمادہ کرے۔ اس امکان کے پیش نظر حکم دیا گیا ہے کہ شوہر حیض کے ختم ہو جانے اور بیوی کے پاک ہو جانے کا انتظار کرے اور پاک ہو جانے پر ہاتھ لگانے (مباشرت) سے پہلے طلاق دے دے۔
جس طرح حالت حیض میں طلاق دینا حرام ہے اسی طرح اس حالت طہر میں بھی طلاق دینا حرام ہے جس میں وہ مجامعت (ہمبستری) کر چکا ہے۔ کیا معلوم اسے حمل ٹھہر گیا ہو۔ اور کیا عجب اگر اس حمل کا شوہر کو علم ہو جاتا تو وہ اپنی رائے بدل دیتا طلاق نہ دیتا اور جنین (ماں کے بطن میں بچہ) کی وجہ سے بیوی کی رفاقت کو پسند کرتا !
لیکن جب بیوی حالت طہر میں ہو اور شوہر نے مجامعت نہ کی ہو یا حاملہ ہو اور حمل ظاہر ہو گیا ہو تو ایسی صورت میں طلاق دینے کا مطلب یہ ہے کہ بیوی سے نفرت پختہ ہو گئی ہے اس لیے ایسی صورت میں طلاق دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
صحیح بخاری میں ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عہد رسالت میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دریافت کرنے پر نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ان سے کہو کہ رجوع کریں، پھر اگر چاہیں تو حالت طہر میں چھونے سے قبل طلاق دے دیں۔“
بخاری کتاب الطلاق باب : 1 ح : 5251 ، 5258
یہ ہے وہ عدت کے لیے طلاق، جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو عدت کے لیے طلاق دو یعنی جس وقت سے وہ اپنی عدت کا آغاز کر سکیں۔ اس سے مراد حالت طہر ہے۔
مسلم كتاب الطلاق باب تحريم طلاق الحائض ح : 1471
دوسری روایت میں ہے :
مره فليرا جعها ثم ليطلقها طاهرا أو حاملا
”ان سے کہو کہ رُجوع کریں پھر حالت طہر یا حاملہ ہونے کی صورت میں طلاق دے دیں۔“
مسلم كتاب الطلاق باب تحریم طلاق الحائض ح : 1471/5
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حالت حیض میں طلاق واقع نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس قسم کی طلاق مشروع نہیں فرمائی ہے اور نہ اس کی اجازت دی ہے اس لیے ایسی طلاق طلاق شرعی نہیں ہے پھر اسے صحیح کس طرح کہا جاسکتا ہے اور وہ نافذ کس طرح ہو سکتی ہے؟
امام ابو داود رحمہ اللہ نے صحیح سند کے ساتھ بیان کیا ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا :
كيف ترى فى رجل طلق امرأته حائضا؟ فقص على السائل قصته حين طلق امرأته وهى حائض وأن رسول الله ردها عليه ولم يرها شيئا
”تمہاری رائے اس شخص کے بارے میں کیا ہے جو اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دیتا ہے؟ انہوں نے خود اپنا طلاق دینے کا قصہ بیان کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طلاق کو رد کر دیا تھا اور اس کو طلاق شمار نہیں کیا تھا۔“
ابو داود کتاب الطلاق باب في طلاق السنة ح : 2185
طلاق کی قسم کھانا حرام ہے
طلاق کو ختم قرار دینا یعنی یہ قسم کھا بیٹھنا کہ فلاں کام کرنے یا نہ کرنے کی صورت میں طلاق واقع ہوگی، جائز نہیں۔ اس طرح اپنی بیوی کو ڈرا دھمکا کر یہ کہنا بھی جائز نہیں ہے کہ اگر تو نے یہ کام کیا تو تجھے طلاق ہے۔ کیونکہ اسلام میں قسم کا ایک خاص صیغہ ہے جس کے علاوہ کسی اور صیغے میں قسم کی اجازت اسلام نے نہیں دی ہے۔ یہ صیغہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھانا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
من حلف بغير الله فقد أشرك
”جس نے اللہ کے سوا کسی اور چیز کی قسم کھائی اس نے شرک کیا۔“
ابو داود کتاب الایمان والنذور باب كراهية الحلف بالأباء ح : 3251 ، ترمذی کتاب النذور والأيمان باب : 9 ح : 1535
من كان حالفا فليحلف بالله أو ليصمت
”جس کو قسم کھانا ہو وہ اللہ کی قسم کھائے یا خاموش رہے۔“
بخاری کتاب الشهادات باب كيف يستحلى؟ ح : 2679 – مسلم كتاب الايمان باب النهى عن الحلف بغير الله ح : 1646/3
مطلقہ کو اپنے شوہر کے گھر میں عدت گزارنا چاہیے
اسلامی تعلیمات کی رو سے مطلقہ پر واجب ہے کہ وہ اپنے شوہر کے گھر میں عدت گزارے۔ عورت کے لیے گھر سے باہر نکلنا اس پر حرام ہے اور خاوند کے لیے بھی جائز نہیں کہ وہ اپنی بیوی کو ناحق گھر سے باہر نکالے۔ کیونکہ دوران عدت اس بات کا امکان ہے کہ مرد رجوع کر لے جبکہ طلاق پہلی یا دوسری مرتبہ دی گئی ہو۔ ایسی صورت میں اگر بیوی گھر میں اپنے شوہر سے قریب رہے گی تو اسے شوہر کے جذبات کو آمادہ کرنے کا موقع ملے گا اور شوہر کو بھی اچھی طرح غور کرنے کا موقع ملے گا۔
عدت کا حکم رحم کی پاکیزگی، شوہر کے حق کی رعایت اور اس کی زوجیت کے احترام کی غرض سے دیا گیا ہے جبکہ دلوں کا حال یہ ہے کہ وہ بدلتے بھی رہتے ہیں۔ آدمی نئے انداز سے سوچنے بھی لگتا ہے اور غصہ ختم ہو کر آدمی راضی بھی ہو جاتا ہے۔ اور جذبات کی رو میں بہنے والا ٹھنڈا بھی پڑ جاتا ہے۔ اور ناگوار خیال کرنے والا شخص پسند بھی کرنے لگتا ہے۔
مطلقہ عورتوں کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ ۖ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ ۚ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ ۚ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَٰلِكَ أَمْرًا
”اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے۔ انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ ہی وہ خود نکلیں، الا یہ کہ وہ کھلی بے حیائی کی مرتکب ہوں۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں اور جو کوئی حدود اللہ سے تجاوز کرے گا وہ اپنے ہی نفس پر ظلم کرے گا۔ تم نہیں جانتے شاید اس کے بعد اللہ کوئی صورت پیدا فرمائے۔“
سورہ الطلاق : 1
لیکن اگر علیحدگی ناگزیر ہو جائے تو پھر دونوں کو معروف طریقہ پر اور خوبصورتی کے ساتھ علیحدگی اختیار کرنی چاہیے۔ نہ اذیت دی جائے ، نہ الزام تراشی کی جائے اور نہ حقوق تلف کیے جائیں۔
ارشاد ربانی ہے :
فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ
”تو بھلے طریقہ پر ان کو روک رکھو یا بھلے طریقہ پر ان سے علیحدگی اختیار کرو۔“
سورہ الطلاق : 2
اور فرمایا:
وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ
”اور مطلقہ عورتوں کو معروف طریقہ پر کچھ دینا ہے۔ یہ حق ہے متقیوں پر۔“
سورہ البقرہ : 241
ایک مرتبہ کے بعد دوسری مرتبہ طلاق
اسلام نے مسلمان کو اختیار دیا ہے کہ وہ تین طلاقیں تین مرتبہ دے۔ اس طور سے کہ اس طہر میں جس میں اس نے مجامعت نہ کی ہو ایک طلاق دے دے اور پھر اسے اس حال میں چھوڑ دے یہاں تک کہ عدت پوری ہو جائے۔ اگر شوہر دوران عدت اسے رکھنا چاہے تو رکھ سکتا ہے لیکن اگر وہ رجوع نہ کرے اور عدت ختم ہو جائے تو پھر وہ نئے نکاح کے ساتھ اسے واپس لا سکتا ہے اور اگر شوہر ضرورت نہ سمجھے تو عورت دوسرے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے۔
اگر پہلی طلاق کے بعد شوہر نے اسے دوبارہ اپنی زوجیت میں لے لیا اور پھر دونوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے اور صلح صفائی کی صورت پیدا نہ ہو سکی تو وہ دوسری مرتبہ طلاق دے سکتا ہے۔ اس طریقہ کے مطابق جس کا ذکر اوپر گزر چکا۔ شوہر کو اب بھی یہ اختیار رہتا ہے کہ دوران عدت رجوع کرے یا عدت گزر جانے پر نئے نکاح کے ساتھ اپنی زوجیت میں لے لے۔
لیکن اگر اس نے دوبارہ واپس لینے کے بعد پھر تیسری مرتبہ طلاق دے دی تو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دونوں کے درمیان نفرت پختہ ہوگئی ہے اور موافقت کی صورت ممکن نہیں ہے۔ ایسی صورت میں یعنی تیسری طلاق کے بعد شوہر کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اسے واپس لے لے۔ اب وہ اس کے لیے حلال نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرے۔ ایسا نکاح جو صحیح بھی ہو اور شرعی طریقہ پر ہوا ہو، نیز فی نفسہ نکاح مقصود ہو محض سابق شوہر کے لیے حلالہ کرنے کی غرض سے نہ کیا گیا ہو۔
اس طریقہ طلاق کے برخلاف جو شخص تین وقفوں کو ایک وقفہ میں جمع کر دیتا ہے اور بیک کلمہ (ایک ساتھ ہی) تین طلاقیں دے دیتا ہے وہ شرعی طریقہ کے خلاف کرتا ہے اور راہ راست سے انحراف کرتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب معلوم ہوا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک ساتھ ہی تین طلاقیں دی ہیں تو غصہ میں کھڑے ہو گئے اور فرمایا :
أيلعب بكتاب الله وأنا بين أظهركم؟ حتى قام رجل فقال يا رسول الله ألا أقتله
”کیا کتاب اللہ کے ساتھ کھیلا جارہا ہے ؟ اس حال میں کہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔ حتی کہ ایک شخص (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت برہمی کو دیکھ کر) اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں اسے قتل نہ کر دوں؟“
نسائی کتاب الطلاق باب الثلاث المجموعة وما فيه من التغليظ ح : 3430