قربانی کے گوشت کی تقسیم
قرآن و سنت سے قربانی کا گوشت کھانا، کھلانا، غریبوں کو دینا، ذخیرہ کرنا سب صورتیں ثابت ہیں۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ذیل میں چار دلائل پیش کیے جا رہے ہیں:
➊ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ﴾
”پس قربانی کا گوشت خود بھی کھاؤ اور بھوکے فقیر کو بھی کھلاؤ۔“
(22-الحج:28)
➋ رب عز و جل نے اس بارے میں یہ بھی فرمایا: ﴿فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ﴾
”پس ان کے گوشت سے خود بھی کھاؤ اور قناعت کرنے والے اور مانگنے والے کو بھی کھلاؤ۔“
(22-الحج:36)
➌ امام مسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”إنما نهيتكم من أجل الدافة التى دقت، فكلوا، وادخروا وتصدقوا.“
میں نے تمہیں مفلوک الحال لوگوں کے آنے کی بنا پر قربانی کے گوشت کو تین دن سے زیادہ کے لیے ذخیرہ کرنے سے روکا تھا، پس تم اب کھاؤ، ذخیرہ کرو اور صدقہ کرو۔
صحیح مسلم، كتاب الأضاحي باب بيان ما كان من النهي عن أكل لحوم الأضاحي بعد ثلاث في أول الإسلام وبيان نسخه وإباحته إلى متى شاء، جزء من رقم الحديث 28 – (1971) 1561/3
➍ امام بخاری نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا، کہ رسول اللہ نے فرمایا:
”كلوا، وأطعموا، وادخروا.“
کھاؤ، کھلاؤ اور ذخیرہ کرو۔
صحيح بخاري، كتاب الأضاحي، باب ما يؤكل من لحوم الأضاحي، وما يتزود منها، جزء من رقم الحديث 24/10، 5569 .
مذکورہ بالا آیات و احادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے، کہ قربانی کے گوشت کا کھانا کھلانا، ذخیرہ کرنا اور غریبوں کو دینا، سب صورتیں درست اور صحیح ہیں۔ اس موقع پر حضرات مفسرین اور محدثین نے دو سوال اٹھائے۔ ان میں سے پہلا سوال یہ ہے، کہ آیا قربانی کرنے والے پر اپنی قربانی کا گوشت کھانا واجب ہے؟
①امام ابن حزم کی رائے میں قربانی کرنے والے پر اپنی قربانی کا گوشت کھانا فرض ہے، خواہ وہ ایک لقمہ ہی تناول کرے، اسی طرح اس پر اس گوشت میں سے غریبوں اور محتاجوں کو دینا فرض ہے، خواہ تھوڑا دے یا زیادہ۔
ملاحظہ ہو: المحلي، مسألة 54/8،985.
② جمہور علمائے امت کے نزدیک قربانی کرنے والے کے لیے قربانی کے گوشت میں سے تناول کرنا جائز اور مستحب ہے۔
حافظ ابن جوزی نے ﴿فَكُلُوا۟ مِنۡهَا وَأَطۡعِمُوا۟ ٱلۡبَاۤىِٕسَ ٱلۡفَقِيرَ﴾ کی تفسیر میں تحریر کیا ہے:
یہ حکم اباحت کے لیے ہے، کیونکہ زمانہ جاہلیت کے لوگ اپنی قربانیوں کے گوشت کو کھانا ناجائز سمجھتے تھے، تو اللہ عز وجل نے انہیں آگاہ فرمایا، کہ ان کے گوشت کا کھانا جائز ہے۔
زاد المسير 426/5 .
امام قرطبی فكلوا منها کی تفسیر میں رقم طراز ہیں:
جمہور کے نزدیک صیغہ امر سے مقصود( قربانی کے گوشت سے کھانے کی) ترغیب ہے اور یہ بات مستحب ہے، کہ قربانی کرنے والا شخص اپنے حج اور عید الاضحیٰ کی قربانی سے کھائے۔
تفسير القرطبي 44/12
حافظ ابن کثیر نے بھی یہی بات تحریر کی ہے ملاحظہ ہو: تفسیر ابن کثیر 240/3 اور۔۔۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔۔۔ یہی بات درست معلوم ہوتی ہے۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ قربانی کے گوشت کو کس طرح تقسیم کیا جائے؟
➊ امام شافعی کی رائے میں مستحب یہ ہے، کہ تین حصوں میں برابر تقسیم کیا جائے: ایک تہائی خود کھائے، ایک تہائی صدقہ کرے اور ایک تہائی دوسروں کو کھلائے۔ ملاحظہ ہو: فتح الباري 27/10 . اس رائے کی تائید میں آیت کریمہ ﴿فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ﴾ (پس ان کے گوشت سے خود بھی کھاؤ اور قناعت کرنے والے اور مانگنے والے کو بھی کھلاؤ)(22-الحج:36) اور آنحضرت نے فرمایا كلوا، وأطعموا، وادخروا [کھاؤ، کھلاؤ اور ذخیرہ کرو] حدیث کی تخریج ص 73 میں ملاحظہ کیجئے۔ سے استدلال کیا گیا ہے۔
➋ بعض علماء کی رائے میں مستحب یہ ہے، کہ آدھا گوشت کھایا جائے اور آدھا دوسروں کو کھلایا جائے۔ ملاحظہ ہو: فتح الباري 27/10.
اس رائے کی تائید میں آیت ﴿فَكُلُوا۟ مِنۡهَا وَأَطۡعِمُوا۟ ٱلۡبَاۤىِٕسَ ٱلۡفَقِيرَ﴾ (پس قربانی کا گوشت خود بھی کھاؤ اور بھوکے فقیر کو بھی کھلاؤ) سے استدلال کیا گیا ہے۔
➌ بعض علماء کی رائے میں گوشت کی تقسیم میں اس قسم کی کوئی پابندی نہیں۔ اور اس رائے کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے، جس کو امام مسلم نے حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، کہ انہوں نے بیان کیا، کہ رسول اللہ نے فرمایا:
”نهيتكم عن لحوم الأضاحي فوق ثلاث، فأمسكوا ما بدا لكم.“
میں نے تین دن سے زیادہ قربانیوں کے گوشت( کے کھانے) سے روکا تھا، پس اب تم جتنا چاہو (اس میں سے اپنے) کھانے کے لیے روک (یعنی ذخیرہ کر) لو۔
صحيح مسلم، كتاب الأضاحي، باب ما كان من النهي عن أكل لحوم الأضاحي جزء من رقم الحدیث37 (1977)، 1562/3-1564.
اور جامع الترمذی میں ہے:
”فكلوا ما بدا لكم، وأطعموا، وادخروا.“
پس تم (اس میں سے) جتنا چاہو، خود کھاؤ، کھلاؤ اور ذخیرہ کرلو۔
جامع الترمذي، أبواب الأضاحي، باب في الرخصة في أكلها بعد ثلاث، جزء من رقم الحديث 82۔83 / 5 ، 1546 شیخ البانی نے اسے (صحیح) کہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحيح سنن الترمذي 92/2)
اس حدیث سے واضح طور پر یہ بات معلوم ہوتی ہے، کہ تقسیم میں ایک تہائی، یا نصف کھانے کی کوئی پابندی نہیں۔ امام شوکانی نے تحریر کیا ہے: اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے، کہ کھانے والے گوشت کی مقدار متعین نہیں۔ قربانی کرنے والا شخص جس قدر چاہے، اس میں سے کھائے، خواہ وہ مقدار زیادہ ہو، البتہ اس بات کا خیال رکھے، کہ اس قدر تناول نہ کرے، کہ أطعموا [کھلاؤ] والی بات ہی ختم ہو جائے۔
نيل الأوطار 22/5 .
یہی رائے ۔۔۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔۔۔ درست معلوم ہوتی ہے، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر فرمایا ہے، کہ جتنا چاہو کھاؤ۔ علاوہ ازیں تین یا دو برابر حصوں میں تقسیم کرنے کی تائید میں جن آیات یا احادیث سے استدلال کیا گیا ہے، ان میں یہ بات نہیں، کہ برابر حصوں میں تقسیم کیا جائے۔