اجسادِ اولیا سے منسوب تبرکات: دلائل و روایات کا تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری کی کتاب تبرکات کی شرعی حیثیت سے ماخوذ ہے۔

اجسادِ اولیا سے منسوب تبرکات

اجسادِ اولیا سے منسوب اشیا سے تبرک جائز نہیں، بلکہ بدعت ہے، سلف صالحین سے قطعاً اس کا ثبوت نہیں، اس بارے میں بعض الناس کے دلائل کا جائزہ پیشِ خدمت ہے:

امام شافعی رحمہ اللہ کا واقعہ:

امام شافعی رحمہ اللہ کے شاگرد رشید، ربیع بن سلیمان رحمہ اللہ سے مروی ہے:
امام شافعی رحمہ اللہ مصر تشریف لائے۔ انہوں نے مجھے کہا: میرا یہ خط سلامتی سے ابو عبداللہ احمد بن حنبل تک پہنچا دو اور مجھے جواب لا کر دو۔ میں وہ خط لے کر بغداد پہنچا، تو نمازِ فجر کے وقت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے میری ملاقات ہوئی۔ جب وہ حجرہ سے باہر تشریف لائے، تو میں نے خط ان کے سپرد کرتے ہوئے کہا: یہ خط آپ کے بھائی امام شافعی رحمہ اللہ نے مصر سے ارسال کیا ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ نے مجھے کہا: کیا تو نے اسے پڑھا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے مہر توڑ کر اسے پڑھا، تو ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ میں نے عرض کیا: ابو عبداللہ! کیا ہوا؟ اس میں کیا لکھا ہے؟ انہوں نے فرمایا: امام شافعی نے مجھے لکھا ہے کہ انہوں نے خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ابو عبداللہ کو خط لکھو، اسے سلام لکھ کر کہو کہ تم کو عنقریب آزمایا جائے گا اور تمہیں خلقِ قرآن (کے باطل عقیدہ) کی دعوت دی جائے گی، سو تم اسے قبول نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو روزِ قیامت باعزت عالمِ دین کے طور پر اٹھائے گا۔
اس کے بعد ربیع بن سلیمان رحمہ اللہ کا بیان ہے:
[قلت له: البشارة يا أبا عبد الله، فخلع أحد قميصيه الذي يلي جلده، فأعطانيه، فأخذت الجواب، وخرجت إلى مصر، وسلمت إلى الشافعي، فقال: أيش الذي أعطاك؟ فقلت: قميصه، فقال الشافعي: ليس نفجعك به، ولكن بله، وادفع إلي الماء، لأتبرك به]
میں نے امام احمد رحمہ اللہ سے کہا: ابو عبداللہ! آپ کو تو خوشخبری ملی ہے۔ انہوں نے اپنے جسم سے مس کردہ قمیص اتار کر مجھے عنایت کی۔ میں ان سے جواب لے کر مصر میں امام شافعی رحمہ اللہ کے پاس حاضر ہوا۔ انہوں نے دریافت کیا: امام احمد رحمہ اللہ نے آپ کو کوئی چیز عطا کی ہے؟ میں نے عرض کیا: اپنی قمیص (کرتا)۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم آپ کو اس (قمیص کے حوالے) سے تکلیف میں مبتلا نہیں کرتے، مگر اسے بھگو کر پانی ہی مجھے دے دو، تاکہ میں اس سے برکت حاصل کروں۔
[تاریخ ابن عساکر: 311/5، مناقب أحمد لابن الجوزي: 609-610]
جھوٹی سند ہے۔
محمد بن حسین ابو عبد الرحمن سلمی متہم بالکذب ہے۔
ابو بکر محمد بن عبد اللہ بن عبد العزیز بن شاذان رازی بھی متہم ہے۔
علی بن عبد العزیز طلحی کے حالاتِ زندگی نہیں مل سکے۔
اس کی دوسری سند مناقب أحمد لابن الجوزي (610-611) میں موجود ہے۔
اس میں ابو علی الحسن بن علی بن محمد ابی علی بن مذہب مجروح ہے۔
◈ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[إنه شيخ ليس بالمتقن]
یہ شیخ مضبوط حافظے والے نہیں تھے۔ (میزان الاعتدال: 512/1)
◈ شجاع ذہلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[كان شيخا عسرا في الرواية، وسمع الكثير، ولم يكن ممن يعتمد عليه في الرواية، كأنه خلط في شيء من سماعه]
یہ قلیل الروایت شیخ تھا، البتہ اس نے بہت سے لوگوں سے سنا ہے، لیکن اس کی روایت پر اعتماد نہیں کیا جاتا، گویا کہ یہ اپنے سماع میں اختلاط کا شکار تھا۔
[میزان الاعتدال للذَّهبي: 511/1]
◈ حافظ ابو طاہر سلفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[كان مع عسره متكلما فيه، لأنه حدث بكتاب الزهد لأحمد بعد ما عدم أصله من غير أصله]
یہ بہت کم روایات بیان کرنے کے باوجود مجروح راوی ہے، کیونکہ اس نے امام احمد رحمہ اللہ کی کتاب الزہد مفقود ہونے کے بعد بھی جعلی نسخے سے بیان کی ہے۔
[میزان الاعتدال للذَّهبي: 511/1]
◈ خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[كان يروي عن ابن مالك القطيعي مسند أحمد بن حنبل بأسره، وكان سماعه صحيحا؛ إلا في أجزاء منه، فإنه ألحق اسمه فيها، وكذلك فعل في أجزاء من فوائد ابن مالك، وكان يروي عن ابن مالك أيضا كتاب الزهد لأحمد بن حنبل، ولم يكن له به أصل عتيق، وإنما كانت النسخة بخطه، كتبها بأخرة، وليس بمحل للحجة]
اس نے ابنِ مالک قطیعی سے ساری مسند احمد کو روایت کیا ہے۔ اس میں کچھ اجزا کے علاوہ اس کا سماع صحیح تھا، کیونکہ اس نے سند میں اپنا نام شامل کیا ہے۔ یہی معاملہ اس نے فوائد ابنِ مالک کے اجزا کے ساتھ کیا ہے۔ اسی طرح یہ ابنِ مالک قطیعی کے حوالے سے امام احمد رحمہ اللہ کی کتاب الزہد بیان کرتا تھا، حالانکہ اس کے پاس اس کی کوئی اصل نہیں تھی۔ اس کے پاس صرف اپنے ہاتھوں سے لکھا ہوا نسخہ تھا، جو اس نے اپنی آخری عمر میں لکھا تھا اور یہ قابلِ اعتماد نہیں۔
[تاریخ بغداد: 390/7]
اس واقعہ کی تیسری سند تاریخ ابن عساکر (311/5، 312) اور طبقات الشافعية الكبرى للسبكي (36/2) میں آتی ہے، لیکن یہ بھی ضعیف ہے۔
جعفر بن محمد مالکی کی توثیق نہیں مل سکی۔
ابو بکر محمد بن عبد اللہ بن عبد العزیز بن شاذان رازی غیر معتبر ہے۔
◈ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[ليس بثقة] یہ ثقہ نہیں تھا۔ (تاريخ الإسلام: 360/6)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ کے اس حکم کو علامہ سبکی رحمہ اللہ نے برقرار رکھا ہے۔
[طبقات الشافعية الكبرى: 65/1]
◈ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[صاحب تيك الحكايات المنكرة، روى عنه الشيخ أبو عبد الرحمٰن (السلمي) أوابد وعجائب، وهو متهم، طعن فيه الحاكم]
ان منکر روایات کا سہرہ اسی کے سر ہے۔ شیخ ابو عبد الرحمن سلمی نے اس سے عجیب و غریب روایات نقل کی ہیں۔ یہ متہم راوی ہے، امام حاکم رحمہ اللہ نے اس پر جرح کی ہے۔
(میزان الاعتدال: 606/3)
◈ ادریس رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[ليس هو في الرواية بذاك]
یہ روایت میں معتمد نہیں ہے۔ (لسان الميزان لابن حجر: 230/5)
الغرض یہ واقعہ تینوں سندوں کے ساتھ ’’ضعیف‘‘ اور بے بنیاد ہے۔

ربیع بن سلیمان رحمہ اللہ کے حالات میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[لم يكن صاحب رحلة، فأما ما يروى أن الشافعي بعثه إلى بغداد بكتابه إلى أحمد بن حنبل؛ فغير صحيح]
ربیع بن سلیمان رحمہ اللہ طلبِ علم کے لیے زیادہ سفر کرنے والے نہیں تھے، لہذا یہ جو واقعہ منقول ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے اسے خط دے کر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی طرف بغداد بھیجا، وہ صحیح نہیں ہے۔ (سير أعلام النبلاء: 587/12)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ کی بات کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ ربیع بن سلیمان رحمہ اللہ کا خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے تاریخِ بغداد میں ذکر نہیں کیا۔ اگر وہ بغداد آئے ہوتے، تو تاریخِ بغداد میں ضرور ان کا تذکرہ ہونا چاہیے تھا۔ تاریخِ بغداد کا ان کے تذکرہ سے خالی ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ بغداد کبھی نہیں آئے، لہذا یہ واقعہ صحیح نہیں۔

امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کا واقعہ:

عمرو بن قیس ملائی، ابو عبد اللہ کوفی رحمہ اللہ کے بارے میں امام عجلی رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں:
[كان سفيان يأتيه يسلم عليه يتبرك به]
امام سفیان ثوری رحمہ اللہ ان کے پاس آ کر سلام کرتے اور ان سے برکت حاصل کرتے۔ (الثقات: 368)
یہ قول انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے۔ امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کی وفات 161ھ میں ہوئی، جبکہ امام عجلی رحمہ اللہ کی ولادت 182ھ میں ہوئی، تو انہوں نے امام سفیان ثوری رحمہ اللہ سے کیسے سن لیا؟ درمیان میں واسطہ غائب ہے۔

لہذا سند ضعیف ہے۔

سلطان محمد غزنوی کا قصہ:

بعض حضرات کہتے ہیں کہ سلطان محمد غزنوی (بن سبکتکبین ابو القاسم، م 421ھ) کو قلعہ سومنات کی جنگ میں علی بن احمد ابو الحسن خرقانی بسطامی (425ھ) کے جبے کی برکت سے فتح و نصرت نصیب ہوئی۔ (تذكرة الاولیا از فرید الدین عطار، ص 344)
یہ جھوٹی کہانی ہے۔

جو گمراہ صوفیوں کا دین ہے۔ ثابت ہوا کہ بعض لوگ جو اجسادِ اولیا سے منسوب اشیا سے تبرک لینے کے قائل ہیں، ان کی بات بے دلیل ہے۔