قبورِ اولیا سے تبرک: دلائل و شبہات کا تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری کی کتاب تبرکات کی شرعی حیثیت سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

قبورِ اولیا سے تبرک

توسل اور تبرک کی ممنوع اور غیر مشروع صورتیں شرک و بدعت تک پہنچنے کا راستہ ہیں۔ اولیا و صالحین کی قبروں سے تبرک حاصل کرنا ممنوع اور بدعت ہے۔ یہ منکر عمل شرک کا پل ہے۔ جب نبی کریم ﷺ کی مبارک قبر سے تبرک جائز نہیں، تو اور کسی کی قبر سے کیسے جائز ہو سکتا ہے، جبکہ تبرکات نبی کریم ﷺ کی ذاتِ مبارک کے ساتھ خاص ہیں۔ خیر القرون میں قبروں سے تبرک کی کوئی مثال نہیں ملتی، بلکہ یہ رافضیوں سے مستعار نظریہ ہے۔

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:

[قال شيخنا قدس الله روحه: وهذه الأمور المبتدعة عند القبور مراتب، ابعدها عن الشرع: أن يسأل الميت حاجته، ويستغيث به فيها، كما يفعله كثير من الناس. قال: وهؤلاء من جنس عباد الأصنام، ولهذا قد يتثمل لهم الشيطان فى صورة الميت أو الغائب كما يتمثل لعباد الأصنام. وهذا يحصل للكفار من المشركين وأهل الكتاب، يدعو أحدهم من يعظمه فيتمثل له الشيطان أحياناً. وقد يخاطبهم ببعض الأمور الغائبة. وكذلك السجود للقبر، والتمسح به وتقبيله.والمرتبة الثانية: أن يسأل الله عز وجل به. وهذا يفعله كثير من المتأخرين، وهو بدعة باتفاق المسلمين. الرابعة: أن يظن أن الدعاء عند قبره مستجاب، أو أنه أفضل من الدعاء فى المسجد فيقصد زيارته والصلاة عنده لأجل طلب حوائجه. فهذا أيضاً من المنكرات المبتدعة باتفاق المسلمين. وهى محرمة، وما علمت فى ذلك نزاعاً بين أئمة الدين وإن كان كثير من المتأخرين يفعل ذلك، ويقول بعضهم: قبر فلان ترياق مجرب.والحكاية المنقولة عن الشافعى أنه كان يقصد الدعاء عند قبر أبى حنيفة، من الكذب الظاهر]
ہمارے استاذ (شیخ الاسلام ابن تیمیہ) قدس اللہ روحہ نے فرمایا: قبروں کے پاس بدعت پر مبنی امور کے کئی مراتب ہیں۔ سب سے بڑھ کر شریعت کے منافی مرتبہ یہ ہے کہ میت سے اپنی حاجت روائی کا سوال کیا جائے اور اس سے مدد کی درخواست کی جائے، جیسا کہ بہت سے لوگ کرتے ہیں۔ یہ لوگ بت پرستوں جیسے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بسا اوقات شیطان ان کے سامنے کسی میت یا کسی غیر موجود شخص کی صورت بنا کر آتا ہے اور بت پرستوں کے ساتھ بھی وہ ایسا ہی کرتا ہے۔ مشرکوں، کافروں اور اہل کتاب کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے۔ وہ اپنے ہاں قابلِ تعظیم ہستی کو پکارتے ہیں، تو شیطان ان کے سامنے اس کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے اور کبھی کبھار تو انہیں بعض غیبی امور کی خبر بھی دیتا ہے۔…… قبروں کو سجدہ کرنا، ان کو تبرک کی نیت سے چھونا اور انہیں چومنا بھی اسی مرتبے سے تعلق رکھتا ہے۔…… دوسرا مرتبہ یہ ہے کہ قبر والوں کے طفیل اللہ تعالیٰ سے دُعا کی جائے۔ بہت سے متاخرین ایسا کرتے ہیں۔ اس کام کے بدعت ہونے پر مسلمانوں کا اتفاق ہے۔…… چوتھا مرتبہ یہ ہے کہ انسان کسی بزرگ کی قبر کے پاس دُعا کی قبولیت کا اعتقاد رکھے یا یہ سمجھے کہ وہاں دُعا کرنا مسجد میں دُعا کرنے سے افضل ہے اور اسی خیال سے وہ قبر کی زیارت کو جائے اور وہاں اپنی حاجات کو پورا کرنے کے لیے نماز ادا کرے۔ مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ یہ کام بھی بدعی منکرات میں سے ہے، جو کہ حرام ہیں۔ مجھے اس بارے میں ائمہ دین کا کوئی اختلاف معلوم نہیں۔ ہاں، متاخرین میں سے بہت سے لوگ اس میں مبتلا ہیں۔ بعض تو کہتے ہیں کہ فلاں کی قبر تجربہ شدہ تریاق ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے بارے میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی قبر کے پاس دُعا کرنے کی جو روایت بیان کی جاتی ہے، وہ صاف جھوٹ ہے۔
[إغاثة اللهفان من مصايد الشيطان: 217/1-218]

اس حوالہ سے شبہات اور دلائل کا جواب پیشِ خدمت ہے:

دلیل نمبر ①

حافظ سخاوی نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے حالات میں لکھا ہے:
[جعل على قبره قبة ، فهو مزار ويتبرك به]
سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی قبر پر ایک قُبہ بنایا گیا، جو ان کا مزار ہے، اس سے (لوگ) تبرک حاصل کرتے ہیں۔ (التحفة اللطيفة في تاريخ المدينة الشريفة: 307/1)
قبروں پر قبے بنانا رافضیوں کی بدعت اور ایجاد ہے۔ ظاہر ہے، جو قبے بناتے ہیں، ان کا مقصد یہی ہے کہ قبروں سے تبرک اور فیض حاصل کیا جائے۔
اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک قبروں پر قبے بنانا بالاتفاق حرام اور معصیت ہے۔ یہ اہلِ بدعت کی کارروائی ہے، حالانکہ خیر القرون میں ایسا کچھ نہیں تھا۔

دلیل نمبر ②

حافظ ذہبی رحمہ اللہ ایک واقعہ یوں نقل کرتے ہیں:
[روي عن أبي بكر بن أبي علي، قال: كان ابن المقرئ يقول: كنت أنا والطبراني، وأبو الشيخ بالمدينة، فضاق بنا الوقت، فواصلنا ذلك اليوم، فلما كان وقت العشاء حضرت القبر، وقلت: يا رسول الله الجوع، فقال لي الطبراني: اجلس، فإما أن يكون الرزق أو الموت، فقمت أنا وأبو الشيخ، فحضر الباب علوي، ففتحنا له، فإذا معه غلامان بقفتين، فيهما شيء كثير، وقال: شكوتموني إلى النبي صلى الله عليه وسلم؟ رأيته في النوم، فأمرني بحمل شيء إليكم]
ابوبکر بن ابی علی سے مروی ہے کہ ابن مقری کہا کرتے تھے: میں، امام طبرانی اور امام ابو الشیخ مدینہ منورہ میں تھے، ہم تنگ دستی کا شکار ہو گئے۔ ہم نے وصال (مسلسل روزے رکھنا شروع) کیا۔ عشا کے وقت میں قبرِ رسول کے پاس آ کر میں نے کہا: اللہ کے رسول! بھوک؟ مجھے امام طبرانی نے کہا: بیٹھ جاؤ، اب یا تو رزق آئے گا یا پھر موت میں اور ابو الشیخ نے کھڑے ہوئے اور بابِ علوی کے پاس آ کر ان کے لیے دروازہ کھولا: اچانک دیکھا کہ ان کے ساتھ دو نوجوان تھے، جن کے پاس دو ٹوکرے تھے، جن میں بہت کچھ تھا۔ امام طبرانی نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تم لوگوں نے مجھ سے شکایت کی تھی۔ میں نے آپ کو خواب میں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں تمہارے لیے کچھ اٹھا لاؤں۔
[تذكرة الحفاظ: 122/3، سير أعلام النبلاء: 400/16-401، مصباح الظلام لأبي عبد الله محمد بن موسى بن النعمان (م 683ھ)، ص 61]
یہ بے سند اور جھوٹا واقعہ ہے۔

دلیل نمبر ③

امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[قد زرته مرارا كثيرة وما حلت بي شدة في وقت مقامي بطوس فزرت قبر علي بن موسى الرضا صلوات الله على جده وعليه ودعوت الله إزالتها عني إلا أستجيب لي وزالت عني تلك الشدة وهذا شيء جربته مرارا فوجدته كذلك أماتنا الله على محبة المصطفى وأهل بيته صلى الله عليه وسلم الله عليه وعليهم أجمعين]
طوس نامی مقام پر میں نے علی بن موسیٰ رضا کی قبر کی کئی مرتبہ زیارت کی، جب بھی مجھے پریشانی کا سامنا ہوا، تو میں نے علی بن موسیٰ رضا کی قبر پر آ کر اللہ تعالیٰ سے دُعا کی، اللہ رب العزت نے میری دُعا قبول فرما کر مجھے سخت پریشانی سے نجات دلائی، اس کا میں نے کئی مرتبہ تجربہ کیا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تمام اہل بیت سے محبت پر موت دے۔
[الثقات: 457/8، ت:1441]
یہ ابنِ حبان رحمہ اللہ کی اجتہادی خطا ہے، اس میں ان کا کوئی سلف نہیں، نہ ہی کتاب و سنت سے مستند ہے، بلکہ خیر القرون کے مسلمانوں کے خلاف عمل ہے۔ خوب یاد رہے کہ ہر ایک کی بات کو قرآن و حدیث اور خیر القرون کے اسلاف پر پیش کیا جائے گا، اگر موافق ہو، تو قبول، ورنہ رد کر دی جائے گی، یہ بھی ذہن نشین رہے کہ اگر ائمہ اہل سنت میں سے کسی کی بات قرآن و حدیث اور سلف صالحین کے مخالف ہو، تو وہ اس کی اجتہادی خطا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:

[ليس الدعاء عند القبور بأفضل من الدعاء في المساجد وغيرها من الأماكن ولا قال أحد من السلف والأئمة: إنه مستحب أن يقصد القبور لأجل الدعاء عندها؛ لا قبور الأنبياء ولا غيرهم]
قبروں کے پاس دُعا مساجد اور دیگر مقامات کی بہ نسبت افضل نہیں ہے، اسلافِ امت اور ائمہ دین میں سے کسی نے بھی نہیں کہا کہ دُعا کیلئے انبیاء اور دیگر قبروں کا قصد مستحب ہے۔
[مَجْمُوعُ الْفَتَاوَىٰ: 180/27]
یہ کہنا کہ اولیا اور صالحین کی قبروں سے وسیلہ پکڑنا جائز ہے، وہاں دعائیں قبول ہوتی ہیں، درست نہیں۔

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

[إن عمر بن الخطاب رضي الله عنه، كان إذا قحطوا استسقى بالعباس بن عبد المطلب، فقال: اللهم! إنا كنا نتوسل إليك بنبينا فتسقينا، وإنا نتوسل إليك بعم نبينا فاسقنا، قال: فيسقون]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا طریقہ تھا کہ قحط پڑ جاتا، تو سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ (کی دعا) کے وسیلہ سے بارش طلب کرتے تھے۔ دعا یوں کرتے: یا اللہ! ہم تجھے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم (کی زندگی میں ان کی دعا) کا وسیلہ پیش کر کے بارش طلب کیا کرتے تھے، تو تُو ہمیں بارش دیتا تھا اور اب ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم (کی وفات کے بعد ان) کے چچا (کی دعا) کو وسیلہ بنا کر بارش طلب کرتے ہیں (یعنی ان سے دعا کرواتے ہیں)، لہٰذا اب بھی ہم پر بارش نازل فرما۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس طرح انہیں بارش عطا ہو جاتی تھی۔
[صحيح البخاري: 1010]
اگر نبی یا ولی کی قبر پر دُعا زیادہ قبول ہوتی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ قبرِ رسول کا رُخ کرتے، ان کا ایسا نہ کرنا واضح دلیل ہے کہ انبیا و صالحین کی قبور پر قبولیت کی غرض سے دُعا کرنا جائز نہیں۔ یاد رہے کہ سوائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے کسی نبی کی قبر کے متعلق اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو باخبر نہیں رکھا، اگر انبیا اور صالحین کی قبور پر دُعا کرنا جائز ہوتی، تو اللہ تعالیٰ انسانوں کو اس بارے میں ضرور آگاہ کرتے۔

علامہ محمد بشیر سہسوانی، ہندی رحمہ اللہ (1326ھ) فرماتے ہیں:

تبرک و توسل کی ممنوع و حرام اور کفر و شرک پر مبنی صورتوں کے متعلق:

[(الثامن) أن يسال الله ويدعوه عند قبور الصالحين معتقداً أن الدعاء عند القبر مستجاب.
و (التاسع) أن يقول عند قبر نبي أو صالح: يا سيدي فلان ادع الله تعالى أو نحو ذلك، فهذان القسمان مما لا يتسريب عالم أنهما غير جائزين وأنهما من البدع التي لم يفعلها السلف، وإن كان السلام على القبور جائزاً.(العاشر) أن يقول عند قبر نبي أو صالح: يا سيدي فلان اشف مريضي واكشف عني كربتي وغير ذلك، وهذا شرك جلي، إذ نداء غير الله طالباً بذلك دفع شر أو جلب منفعة فيما لا يقدر عليه الغير دعاء، والدعاء عبادة، وعبادة غير الله شرك، وهذا أعم من أن يعتقد فيهم أنهم مؤثرون بالذات، أو أعطاهم الله تعالى التصرفات في تلك الأمور، أو أنهم أبواب الحاجة إلى الله تعالى وشفعاؤه ووسائله، وفي هذا الحكم التوسل بسائر العبادات من الذبح لهم والنذر لهم والتوكل عليهم والالتجاء إليهم والخوف والرجاء منم والسجود لهم والطواف لهم. (الحادي عشر) أن يدعو غائباً أو ميتاً عند غير القبور: يا سيدي فلان ادع الله تعالى في حاجتي فلانة، زاعماً أنه يعلم الغيب ويسمع كلامه في كل زمان ومكان ويشفع له في كل حين وأوان، فهذا شرك صريح، فإن علم الغيب من الصفات المختصة بالله تعالى. (الثاني عشر) أن يدعو غائباً أو ميتاً عند غير القبر: يا سيدي فلان اشف مريضي واقض عن الدين وهب لي ولداً وارزقني واغفر لي وأمثال ذلك، وهذا أيضاً شرك من وجهين: الأول أنه يعتقد علم الغيب لذلك المدعو وهو شرك، والثاني أنه ينادي ويدعو غير الله تعالى طالباً بذلك دفع شر أو جلب منفعة فيما لا يقدر ذلك الغير عليه، وهذا الدعاء عبادة، وعبادة غير الله شرك، ومن قال من العلماء بكون التوسل شركاً فإنما أراد به أحد الأقسام الثلاثة الأخيرة.]

آٹھویں قسم یہ ہے کہ آدمی یہ عقیدہ رکھتے ہوئے نیک لوگوں کی قبروں کے پاس اللہ تعالیٰ سے دُعا و مناجات کرے کہ وہاں دُعا قبول ہوتی ہے۔ نویں صورت یہ ہے کہ وہ کسی نبی یا ولی کی قبر کے پاس جا کر اس طرح کے الفاظ کہے: آقا! میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں، وغیرہ وغیرہ۔ اس بات میں کسی عالم کو شبہ نہیں ہو سکتا کہ یہ دونوں قسمیں ناجائز ہیں اور ان بدعات میں شامل ہیں جن کا سلف نے ارتکاب نہیں کیا۔ ہاں! (شریعتِ اسلامیہ کی روشنی میں) قبرستان میں سلام کہنا جائز ہے۔ دسویں صورت یہ ہے کہ آدمی کسی نبی یا ولی کی قبر پر جا کر کہے: آقا! میرے مریض کو شفا دیجیے، میری مشکلات کو حل فرمائیے وغیرہ۔ یہ واضح شرک ہے، کیونکہ غیر اللہ کو کسی ایسی تکلیف کو دور کرنے کے لیے یا کسی ایسے نفع کو حاصل کرنے کے لیے پکارنا جس پر وہ قادر نہ ہو، دُعا ہے اور دُعا عبادت ہے اور غیر اللہ کی عبادت شرک ہے۔ انبیا و اولیا کو ذاتی طور پر ان تصرفات کا اہل سمجھا جائے یا ان امور کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطائی سمجھا جائے یا ان کو اللہ تعالیٰ کے دربار میں سفارشی اور ذریعہ خیال کیا جائے، ہر حال میں شرک ہے۔ باقی عبادات، مثلاً غیر اللہ کے لیے جانور ذبح کرنا، ان کے لیے نذر و نیاز کا اہتمام، ان پر توکل، ان سے التجا اور خوف و رجا، ان کے لیے سجدہ اور طواف، وغیرہ کا بھی یہی حکم ہے۔ گیارہویں قسم یہ ہے کہ آدمی کسی غائب یا فوت شدہ کو اس کی قبر کے علاوہ کسی اور جگہ پکارتے ہوئے کہے: آقا! اللہ تعالیٰ سے میرے اس معاملے میں دعا کیجیے اور اس کا عقیدہ یہ ہو کہ جس کو وہ پکار رہا ہے، وہ غائب جانتا ہے اور ہر زمان و مکان میں اس کا کلام سن رہا ہے اور ہر وقت اس کے لیے سفارش کرتا ہے۔ یہ صورت بھی شرکِ جلی ہے کیونکہ علمِ غیب اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے۔ بارہویں قسم یہ ہے کہ آدمی کسی غائب یا فوت شدہ شخص کو اس کی قبر کے علاوہ کسی اور جگہ پر پکارے اور کہے: آقا! میرے مریض کو شفا دیجیے، میرا قرض دُور فرمائیے، مجھے اولاد عطا کیجیے، مجھے رزق عنایت فرمائیے، مجھے معاف فرمائیے وغیرہ۔ یہ صورت بھی دو طرح سے شرک ہے۔ اول اس طرح کہ وہ پکارے جانے والے شخص کے عالمِ الغیب ہونے کا عقیدہ رکھتا ہے اور یہ شرک ہے۔ ثانی یہ کہ وہ غیر اللہ کو ایسی تکلیف کے دور کرنے یا ایسے نفع کو حاصل کرنے کے لیے پکارتا ہے جس پر غیر اللہ قدرت نہیں رکھتے۔ یہ پکار عبادت ہے اور غیر اللہ کی عبادت شرک ہے۔ جن علماء کرام نے توسل کو شرک قرار دیا ہے، ان کی مراد یہی آخری تین قسمیں تھیں۔
[صيانة الإنسان عن وسوسة الشيخ دحلان، ص 206-207]

تنبیہ:

ابوبکر، محمد بن مؤمل بن حسین بن عیسیٰ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
[خرجنا مع إمام أهل الحديث، أبي بكر بن خزيمة، وعديله أبي علي الثقفي، مع جماعة من مشائحنا، وهم إذ ذاك متوافرون، إلى زيارة قبر علي بن موسى الرضا بطوس، قال: فرأيت من تعظيمه، يعني ابن خزيمة، لتلك البقعة، وتواضعه لها، وتضرعه عندها، ما تحيرنا]
ہم امامِ اہل الحدیث، ابوبکر بن خزیمہ رحمہ اللہ کے ساتھ نکلے۔ ان کے ہم رکاب ابو علی ثقفی اور مشائخ کی ایک بڑی جماعت ان کے ہمراہ تھی۔ ہم سارے اکٹھے ہو کر طوس میں علی بن موسیٰ رضا کی قبر کی طرف گئے۔ میں نے امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کو زمین کے اس ٹکڑے کی تعظیم کرتے دیکھا اور اس قبر کے سامنے ان کی عاجزی اور انکساری دیکھ کر ہم حیران رہ گئے تھے۔
[تہذیب التہذیب لابن حجر: 388/7، وسندہ حسن]
زیارتِ قبور کے وقت آداب کو ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے۔ اگر قبروں کے احترام کو تعظیم کا نام دیا جائے، تو یہ جائز ہے، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ اس قبر کے پاس عاجزی و انکساری کے ساتھ دعا کر رہے ہوں گے، نہ کہ اس قبر سے تبرک حاصل کر رہے تھے، کیونکہ دورانِ زیارت قبروں سے تبرک جائز نہیں، نہ قبر والوں سے دُعا و مناجات مشروع ہے۔

دلیل نمبر ④

امام شافعی رحمہ اللہ سے مروی ہے:
[إني لأتبرك بأبي حنيفة، وأجيء إلى قبره في كل يوم، يعني زائرا، فإذا عرضت لي حاجة؛ صليت ركعتين، وجئت إلى قبره، وسألت الله تعالى الحاجة عنده، فما تبعد عني؛ حتى تقضىٰ]
میں امام ابو حنیفہ سے تبرک حاصل کرتا ہوں اور ان کی قبر پر ہر روز زیارت کے لیے آتا ہوں۔ جب مجھے کوئی ضرورت پیش آتی ہے، تو میں دو رکعتیں ادا کرتا ہوں اور ان کی قبر کی طرف جاتا ہوں اور وہاں اللہ تعالیٰ سے اپنی ضرورت کا سوال کرتا ہوں، جلد ہی وہ ضرورت پوری کر دی جاتی ہے۔
[تاریخ بغداد للخطیب: 135/1]
یہ جھوٹی اور باطل روایت ہے۔
عمر بن اسحاق بن ابراہیم کے حالات نہیں ملے۔
علی بن میمون کی تعیین نہیں ہوسکی۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:

[هذا كذب معلوم كذبه بالاضطرار عند من له أدنى معرفة بالنقل، فإن الشافعي لما قدم بغداد؛ لم يكن ببغداد قبر ينتاب للدعاء عنده البتة، بل ولم يكن هذا على عهد الشافعي معروفا، وقد رأى الشافعي بالحجاز واليمن والشام والعراق ومصر من قبور الأنبياء والصحابة والتابعين، من كان أصحابها عنده وعند المسلمين أفضل من أبي حنيفة وأمثاله من العلماء، فما باله لم يتوخ الدعاء إلا عند قبر أبي حنيفة، ثم أصحاب أبي حنيفة الذين أدركوه مثل أبي يوسف ومحمد وزفر والحسن بن زياد وطبقتهم؛ لم يكونوا يتحرون الدعاء، لا عند قبر أبي حنيفة ولا غيره، ثم قد تقدم عن الشافعي ما هو ثابت في كتابه، من كراهة تعظيم قبور الصالحين خشية الفتنة بها، وإنما يضع مثل هذه الحكايات من يقل علمه ودينه، وإما أن يكون المنقول من هذه الحكايات عن مجهول لا يعرف]
یہ ایسی جھوٹی روایت ہے، جس کا جھوٹا ہونا ہر اس شخص کو لازمی طور پر معلوم ہو جاتا ہے، جو فنِ روایت سے ادنیٰ معرفت بھی رکھتا ہو۔ امام شافعی رحمہ اللہ جب بغداد تشریف لائے، تو وہاں قطعاً کوئی ایسی قبر موجود نہیں تھی، جس پر دعا کے لیے حاضر ہوا جاتا ہو۔ یہ چیز امام شافعی رحمہ اللہ کے دور میں معروف ہی نہیں تھی۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے حجاز، یمن، شام، عراق اور مصر میں انبیاءِ کرام اور صحابہ و تابعین کی قبریں دیکھی تھیں۔ یہ لوگ تو امام شافعی رحمہ اللہ اور تمام مسلمانوں کے ہاں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان جیسے دوسرے علماء سے افضل تھے۔ کیا وجہ ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے سوائے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے کسی کی قبر پر دعا نہیں کی؟ پھر امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے وہ شاگرد جنہوں نے ان کی صحبت پائی تھی، مثلاً ابو یوسف، محمد (بن حسن)، زفر اور حسن بن زیاد، نیز ان کے طبقے کے دوسرے لوگ، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ یا کسی اور کی قبر پر دعا نہیں کرتے تھے۔ پھر یہ بات بیان ہو چکی ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک نیک لوگوں کی قبروں کی تعظیم کرنا مکروہ ہے، کیونکہ اس میں فتنے کا خدشہ ہے۔ اس طرح کی جھوٹی روایات وہ لوگ گھڑتے ہیں، جو علمی اور دینی اعتبار سے تِنگ دست ہوتے ہیں یا پھر ایسی روایات مجہول اور غیر معروف لوگوں سے منقول ہوتی ہیں۔
[اقتضاء الصراط المستقيم، ص 165]

علامہ برکوی حنفی رحمہ اللہ (981ھ) فرماتے ہیں:

[كذٰلك الحكاية المنقولة عن الشافعي رحمه الله، كان يقصد الدعاء عند قبر أبي حنيفة رحمه الله، فإنها من الكذب الظاهر]
امام شافعی رحمہ اللہ سے منقول حکایت کہ آپ رحمہ اللہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قبر کے پاس دعا کرنے کے لیے جاتے تھے، واضح جھوٹ ہے۔
[زيارة القبور، ص 27]

دلیل نمبر ⑤

[قال الحافظ ابن بشكوال: أخبرنا القاضي الشهيد أبو عبد الله محمد بن أحمد رحمه الله قراءة عليه وأنا أسمع قال: قرأت على أبي على حسين بن محمد الغساني قال: أخبرني أبو الحسن طاهر بن مفوز والمعافري قال: أنا أبو الفتح وأبو الليث نصر بن الحسن التنكتي المقيم بسمرقند قدم عليهم بلنسية عام أربعة وستين وأربع مائة. قال: فحط المطر عندنا بسمرقند في بعض الأعوام قال: فاستسقى الناس مرارا فلم يسقوا. قال: فأتى رجل من الصالحين معروف بالصلاح مشهور به إلى قاضي سمرقند فقال له: إني قد رأيت رأيا أعرضه عليك. قال: وما هو؟ قال: أرى أن تخرج ويخرج الناس معك إلى قبر الإمام محمد بن إسماعيل البخاري رحمه الله وقبره بخرتنك وتستسقوا عنده فعسى الله أن يسقينا قال: فقال القاضي نعم ما رأيت. فخرج القاضي وخرج الناس معه واستسقى القاضي بالناس، وبكى الناس عند القبر وتشفعوا بصاحبه، فأرسل الله السماء بماء عظيم غزير أقام الناس من أجله بخرتنك سبعة أيام أو نحوها لا يستطيع أحد الوصول إلى سمرقند من كثرة المطر وغزارته، وبين خرتنك وسمرقند ثلاثة أميال أو نحوها]
سمرقند میں ایک سال قحط پڑا۔ لوگوں نے بہت دفعہ بارش طلبی کے لیے دُعائیں کیں، لیکن بارش نہ ہوئی۔ ایک نیک آدمی جس کا ورع و تقویٰ مشہور تھا، قاضی سمرقند کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرے ذہن میں ایک ترکیب آئی ہے، میں وہ آپ کے سامنے پیش کروں گا۔ قاضی نے کہا: وہ ترکیب کیا ہے؟ اس نے کہا: میرا خیال ہے کہ آپ اور تمام لوگ امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ کی قبر کے پاس جا کر بارش کی دُعا کریں۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بارش عطا فرما دے۔ امام صاحب کی قبر خرتنک نامی جگہ میں ہے۔ قاضی اور تمام لوگ باہر نکلے اور امام صاحب کی قبر کے پاس جا کر بارش کی دُعا کی، اللہ کے ہاں گڑگڑائے اور امام صاحب کا وسیلہ پیش کیا۔ اللہ تعالیٰ نے بہت زیادہ بارش نازل کی۔ اس بارش کی وجہ سے لوگوں کو خرتنک میں تقریباً سات دن ٹھہرنا پڑا۔ زیادہ بارش کی بنا پر کوئی بھی سمرقند نہ جا سکتا تھا۔ خرتنک اور سمرقند کے درمیان تقریباً تین میل کا فاصلہ تھا۔
[الصلة في تاريخ أئمة الأندلس لابن بشكوال، ص 603، وسنده صحيح]
پانچویں صدی کے اواخر کے بعض نامعلوم لوگوں کا یہ عمل دین کیسے بن گیا؟ ایک شخص کے کہنے پر نامعلوم قاضی اور اس کی نامعلوم رعایا کا یہ عمل قرآن و سنت اور سلف صالحین کے تعامل کے خلاف تھا۔ رہا بارش کا ہو جانا، تو وہ ایک اتفاقی امر ہے۔ آج بھی کتنے ہی لوگ قبر والوں سے اولادیں مانگتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں اولاد ملتی ہے، تو وہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ صاحبِ قبر نے ان پر یہ عنایت کی ہے۔ کیا بتوں کے پجاریوں اور ان سے مانگنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی چیز نہیں ملتی؟ اور کیا ان کی کوئی مراد پوری ہو جانا بت پرستی کے جواز کی دلیل ہے؟ قرآن و حدیث میں بزرگوں کی قبروں پر دُعا اور ان سے تبرک حاصل کرنے کا کوئی جواز نہیں۔
اگر ایسا کرنا جائز ہوتا، تو صحابہ و تابعین ضرور ایسا کرتے۔ خیر القرون کے بعد دین میں منکر کام داخل ہو گئے تھے، یہ بھی انہی کاموں میں سے ہے۔ اس دور میں کسی کے عمل کی کوئی شرعی حیثیت نہیں۔

دلیل نمبر ⑥

حسن بن ابراہیم بن توبہ، ابو علی خلال سے مروی ہے:
[ما همني أمر، فقصدت قبر موسى بن جعفر، فتوسلت به؛ إلا سهل الله تعالى لي ما أحب]
جب بھی میں کسی معاملہ میں پریشانی سے دوچار ہوتا، تو موسیٰ بن جعفر کی قبر پر جا کر اس کا وسیلہ پکڑتا، تو اللہ تعالیٰ میری پسند کو میرے لیے آسان کر دیتے۔
[تاریخ بغداد للخطیب: 120/1]
یہ غیر ثابت روایت ہے۔

① حسن بن ابراہیم کی توثیق ثابت نہیں۔

دلیل نمبر ⑦

ابراہیم حربی رحمہ اللہ سے مروی ہے:
[قبر معروف الترياق المجرب]
معروف کرخی کی قبر تریاق مجرب تھی۔ [تاریخ بغداد للخطیب: 122/1]
جھوٹا قول ہے۔

احمد بن محمد بن حسن بن یعقوب بن مقسم ابو الحسن عطار غیر ثقہ اور مجروح ہے۔
◈ ابو القاسم ازہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[كان كذابا] انتہائی جھوٹا تھا۔ (تاریخ بغداد للخطیب: 429/4)
◈ خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[لم يكن في الحديث ثقة]
روایت حدیث میں ثقہ نہیں تھا۔ (تاریخ بغداد: 429/4)
◈ محمد بن ابی الفوارس رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[كان سيء الحال في الحديث، مذموما ذاهبا، لم يكن بشيء ألبتة]
حدیث میں اس کی حالت بہت بری تھی، مذموم اور ردی تھا، یہ کچھ بھی نہیں۔
[تاریخ بغداد للخطیب: 429/4]
◈ حافظ ابو نعیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[لين الحديث] حدیث میں کمزور ہے۔ (تاریخ بغداد للخطیب: 429/4)
◈ حافظ حمزہ سہمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[حدث عن من لم يره ومن مات قبل أن يولد]
اس سے روایت بیان کر دیتا، جسے اس نے دیکھا تک نہیں، نیز اس سے بھی روایت کر ڈالتا، جو اس کی پیدائش سے پہلے مر چکا ہوتا۔
[سؤالات السهمي للدارقطني: 157]
◈ مزید فرماتے ہیں:
[سمعت الدارقطني وجماعة من المشايخ تكلموا في ابن مقسم]
میں نے امام دارقطنی رحمہ اللہ اور محدثین کی ایک جماعت سے سنا ہے کہ وہ ابن مقسم پر جرح کرتے تھے۔
[سؤالات السهمي للدارقطني: 157]

دلیل نمبر ⑧

عبد الرحمن بن محمد بن زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
[قبر معروف الكرخي مجرب لقضاء الحوائج، ويقال: إنه من قرأ عنده مائة مرة: قل هو الله أحد، وسأل الله تعالى ما يريد؛ قضى الله له حاجته]
معروف کرخی کی قبر قضائے حاجات کے لیے مشہور ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جو اس قبر کے پاس سو مرتبہ سورت اخلاص پڑھے، تو اللہ تعالیٰ اس کی مراد کو پورا کر دیتا ہے۔
(تاریخ بغداد للخطیب: 122/1، وسندُہٗ صحیحٌ)

دلیل نمبر ⑨

ابو عبد اللہ ابن محاملی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[أعرف قبر معروف الكرخي منذ سبعين سنة، ما قصده مهموم؛ إلا فرج الله همه]
میں ستر سال سے معروف کرخی کی قبر کو جانتا ہوں۔ جو بھی پریشان حال ان کی قبر کا قصد کرے، اللہ تعالیٰ اس کی پریشانی کو دور کر دیتا ہے۔
[تاریخ بغداد للخطیب: 123/1، وسندُہٗ صحیحٌ]
متاخرین کا بے دلیل عمل دین کیسے بن سکتا ہے؟ یہ عمل قرآن و سنت اور خیر القرون کے سلف صالحین کے خلاف ہے۔
رہا حاجت پوری ہو جانا تو یہ اتفاقی امر ہے۔ آج بھی قبروں کے پجاری قبر والوں سے اولادیں مانگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں اولاد مل جاتی ہے، لیکن وہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ صاحبِ قبر نے ان پر یہ عنایت کی ہے۔ کیا بتوں کے پجاریوں اور ان سے مدد مانگنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ نہیں ملتا؟ کیا ان کی کوئی دلی مراد پوری ہو جانا بت پرستی کے جواز پر دلیل ہے؟
قرآن و سنت میں بزرگوں کی قبروں پر دُعا اور ان کے توسل اور تبرک کا کوئی جواز نہیں، اگر ایسا کرنا جائز ہوتا، تو صحابہ کرام اور تابعینِ عظام ضرور ایسا کرتے۔ خیر القرون کے بعد دین اسلام میں جو منکر کام داخل ہو گئے تھے، یہ بھی انہی میں سے ہے۔

دلیل نمبر ⑩

امام مجاہد رحمہ اللہ سے سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے:
[كانوا إذا قحطوا كشفوا عن قبره، فمطروا]
رومی جب قحط سالی کا شکار ہوتے، تو وہ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی قبر کو کھولتے۔ تو ان پر بارش برسا دی جاتی۔ (معجم الصحابة للبغوي: 222/2)
جھوٹی روایت ہے۔
① محمد بن عمر واقدی متروک و کذاب ہے۔
② اسحاق بن یحییٰ بن طلحہ ضعیف ہے۔
[تقریب التہذیب لابن حجر: 390]

دلیل نمبر ⑪

امام مالک رحمہ اللہ سے منقول ہے:
[بلغني عن قبر أبي أيوب أن الروم يستصحون به، ويستسقون]
مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رومی سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی قبر کے وسیلے صحت اور بارش طلب کرتے ہیں۔
[الاستيعاب في معرفة الأصحاب لابن عبد البر: 1606/4]
امام مالک رحمہ اللہ تک یہ بات پہنچانے والا شخص نا معلوم ہے، لہذا یہ قول حجت نہیں، نیز امام مالک رحمہ اللہ نے صرف ایک خبر نقل کی ہے، اس کی تصدیق نہیں کی۔

دلیل نمبر ⑫

حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں:
[قبر أبي أيوب قرب سورها، معلوم إلى اليوم، معظم يستسقون به، فيسقون]
سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی قبر (قسطنطنیہ) شہر کی فصیل کے قریب ہے۔ آج تک وہیں موجود ہے۔ اس کی تعظیم کی جاتی ہے اور اس کے وسیلہ سے بارش طلب کی جائے، تو بارش برستی ہے۔
[الاستيعاب في معرفة الأصحاب: 426/2]
اس پر کوئی دلیل نہیں کہ بارش کی دُعا اس قبر کی برکت سے قبول ہوتی ہے۔ اتفاقاً ایسا ہو جاتا ہے، اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ قبر کی وجہ سے یا صاحبِ قبر کے سبب دُعا قبول ہوتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا، تو صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین کو ضرور معلوم ہوتا اور وہ ضرور اس کے قائل و فاعل ہوتے۔

تنبیہ:

◈ حافظ ذہبی رحمہ اللہ (748ھ) فرماتے ہیں:
[الدعاء مستجاب عند قبور الأنبياء والأولياء، وفي سائر البقاع، لٰكن سبب الإجابة حضور الداعي، وخشوعه، وابتهاله، وبلا ريب في البقعة المباركة، وفي المسجد، وفي السحر، ونحو ذٰلك، يتحصل ذٰلك للداعي كثيرا، وكل مضطر؛ فدعاؤه مجاب]
انبیا، اولیا کی قبروں اور باقی تمام مقدس مقامات پر دُعا قبول ہو جاتی ہے، لیکن قبولیتِ دُعا کا سبب (قبر کا متبرک ہونا نہیں، بلکہ) دُعا کرنے والے کا خشوع اور گریہ و زاری ہوتا ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مبارک مقامات، مسجد، سحری اور دیگر اوقات میں دعا کرنے والے کو بہت کچھ حاصل ہو جاتا ہے اور ہر پریشان حال کی دعا قبول ہو جاتی ہے۔
[سير أعلام النبلاء: 17/77]
دعا کی قبولیت کا سبب انبیا اور صلحا کی قبریں نہیں، بلکہ وہ خشوع و خضوع ہے، جو دعا کرنے والا اختیار کرتا ہے۔
اگر اولیا کی قبروں پر دعا قبول ہوتی، صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور خیر القرون کے مسلمان ایسا ضرور کرتے، اگر وہ قبرِ نبی پر دعا نہیں مانگتے تھے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قبورِ انبیا و اولیا پر دعا کے قبول ہونے پر کوئی دلیلِ شرعی نہیں۔ عقائد و اعمال میں سلف صالحین پر اکتفا کرنا چاہیے، باقی جن اہل علم نے یہ لکھا ہے کہ فلاں کی قبر سے تبرک و توسل حاصل کیا جاتا ہے، تو یہ عام گمراہ یا جاہل عوام کی عادت کا ذکر ہے، جس پر کوئی دلیل نہیں، اگر بعض متاخرین اہل علم کا ایسا نظریہ ہو بھی…… تو یہ حجت نہیں، کیونکہ یہ خیر القرون کے سلف صالحین کے مخالف ہے۔

دلیل نمبر ⑬

حسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے:
[وقف حاتم الأصم على قبر النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رب، إنا زرنا قبر نبيك، فلا تردنا خائبين، فنودي: يا هذا، ما أذنا لک في زيارة قبر حبيبنا؛ إلا وقد قبلناک، فارجع أنت ومن معک من الزوار مغفورا لکم]
حاتم اصم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر کھڑے ہو کر کہا: اے رب! ہم تیرے نبی کی قبر کی زیارت کے لیے آئے ہیں، ہمیں نا مراد نہ لوٹانا۔ آواز آئی: اے فلاں! ہم نے تمہیں اپنے حبیب کی قبر کی زیارت کی اجازت دی ہے، تو ہم نے اسے قبول بھی کر لیا ہے، تم اور تمہارے ساتھی پلٹ جاؤ، تمہاری بخشش کر دی گئی ہے۔
[المواهب اللدنية لأحمد القسطلاني: 597/3]
اس کی سند نہیں مل سکی۔ بے سند باتوں کا کوئی اعتبار نہیں۔

دلیل نمبر ⑭

امام حاکم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
[سمعت أبا علي النيسابوري يقول : كنت في غم شديد، فرأيت النبي صلى الله عليه وسلم في المنام، كأنه يقول لي: صر إلىٰ قبر يحيى بن يحيىٰ، واستغفر، وسل؛ تقض حاجتک، فأصبحت، ففعلت ذٰلک، فقضيت حاجتي]
میں نے سنا کہ ابو علی نیسابوری کہہ رہے تھے: میں سخت پریشانی سے دوچار تھا۔ میں نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی۔ ایسا محسوس ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے فرما رہے تھے: یحییٰ بن یحییٰ کی قبر کی طرف جاؤ، وہاں استغفار کرو اور دُعا کرو، تمہاری ضرورت پوری ہو جائے گی۔ میں نے اگلے دن یہ کام کیا، تو میری پریشانی حل ہو گئی۔
[تاریخ الإسلام للذهبي: 729/5، تہذيب التہذيب لابن حَجَر: 299/11]
یہ خواب کا واقعہ ہے، سوائے انبیا کے کسی کا خواب شریعت نہیں بن سکتا۔

دلیل نمبر ⑮

امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[كنا نتبرك بأبي الفتح القواس، وهو صبي]
ہم ابو الفتح قواس سے برکت حاصل کیا کرتے تھے، حالانکہ ابھی وہ بچے تھے۔
[تاریخ بغداد للخطیب: 325/14، وسندہٗ صحیح]
اس سے مراد ان سے دعا کی برکت حاصل کرنا ہے اور زندہ نیک شخص سے دعا کروائی جا سکتی ہے، اس سے کسی کو کوئی اختلاف نہیں۔

دلیل نمبر ⑯

امام ابن ابی عاصم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[قد رأيت جماعة من أهل العلم وأهل الفضل، إذا هم أحدهم أمر؛ قصد إلىٰ قبره، فسلم عليه، ودعا بحضرته، وكان يعرف الإجابة، وأخبرنا مشايخنا قديما أنهم رأوا من كان قبلهم يفعله]
میں نے اہل علم وفضل کی ایک جماعت کو دیکھا کہ جب انہیں کسی پریشانی کا سامنا ہوتا، تو وہ ان (سیدنا طلحہ بن عبید اللہ) کی قبر پر جا کر سلام کرتے، اس جگہ دُعا مانگتے۔ وہ قبولیتِ دعا کو محسوس کرتے تھے۔ ہمارے مشائخ نے یہ خبر دی کہ انہوں نے بھی اپنے سے پہلے لوگوں کو ایسے کرتے دیکھا ہے۔
[الآحاد والمثاني: 163/1]
بعض کا یہ بے دلیل عمل حجت نہیں، جب صحابہ کرام اور تابعینِ عظام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر ایسا نہیں کرتے تھے، تو کسی اور کی قبر پر کیسے روا ہو گیا؟

الحاصل:

اولیاء و صالحین کی قبروں سے تبرک حاصل کرنا ممنوع اور بدعت ہے، خیر القرون میں قبروں سے تبرک حاصل کرنے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ بعد والوں کی ایجاد ہے اور بعد والوں کی ایجاد دین نہیں بن سکتی۔

تنبیہ:

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
[البركة مع أكابركم] اکابر میں برکت ہے۔
[صحیح ابن حبان: 559 ، شُعب الإیمان للبیہقي: 10493]
یہ روایت عکرمہ کی مرسل ہے، اس کا مرفوع اور متصل ہونا خطا ہے۔ امام ابو حاتم رازی (علل الحدیث: 203/6) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ کا یہی رجحان ہے۔

◈ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[لم يحدث ابن المبارك هذا الحديث بخراسان إنما حدث به بدرب الروم ، فسمع منه أهل الشام ، وليس هذا الحديث في كتب ابن المبارك مرفوعا]
امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے خراسان میں یہ حدیث بیان نہیں کی، بلکہ درب الروم میں بیان کی ہے، اہل شام نے ان سے یہ حدیث سنی، عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ کی کتابوں میں یہ روایت مرفوع (متصل) موجود نہیں۔
[صحیح ابن حبان، تحت الحدیث: 559]
◈ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[الأصل فيه مرسل] اصل میں یہ روایت مرسل ہے۔
[الكامل في ضعفاء الرجال: 457/6]
◈ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[الصواب أنه مرسل] اس کا مرسل ہونا ہی درست ہے۔
[تلخيص العِلَل المتناهية لابن الجوزي: 125/1]
اسی معنی کی ایک مرفوع روایت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
[الكامل لابن عدي: 419/4]
روایت ضعیف و منکر ہے۔
سعید بن بشیر ضعیف ہے۔
سعید بن بشیر کی قتادہ سے روایت منکر ہوتی ہے۔ یہ روایت بھی قتادہ سے ہے۔
قتادہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔