آیتِ تکمیلِ دین اور حجیتِ حدیث: کیا مکمل دین میں سنت شامل ہے؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔

ساتواں شبہ: بذریعہ قرآن تکمیل دین

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ
”آج کے دن میں نے تمھارے لیے دین کامل کر دیا۔“
(5-المائدة:3)
حافظ اسلم مندرجہ بالا آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ”جب دین مکمل ہو گیا تو پھر احادیث کی ضرورت ہی کیا باقی رہ گئی۔ احادیث کی حیثیت بس تاریخی اور ظنی ہے جو بہت عرصہ بعد لکھی گئی ہیں۔ اگر احادیث بھی دین کا حصہ تھیں تو یہ آدھا یا آدھے سے زیادہ دین جو احادیث میں مندرج ہے اس کے بغیر دور صحابہ میں دین کیسے مکمل ہو گیا تھا۔“

جواب:

اس آیت میں دین کے مکمل ہونے کا وہی مطلب ہے جو پہلے قرآن میں ”وَتَفْصِيلًا لِكُلِّ شَيْءٍ“ ہر چیز کی تفصیل کی وضاحت کے تحت بیان کیا گیا ہے۔ اس آیت کا زمانہ نزول حجۃ الوداع سن 10 ہجری، مقام عرفات، عرفہ کا روز ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک قرآن کریم کی صرف تلاوت ہی نہیں کی تھی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قولی اور عملی طور پر اس کی شرح اور تفصیل بھی بیان کی تھی جس کا نام احادیث ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان سب کو دین قرار دیا ہے۔ جس دین کو مکمل کیا گیا احادیث بھی اسی کا حصہ ہیں۔
✿ حافظ اسلم کی تفسیر کا آخری جملہ ہے:
”یہ آدھا یا آدھے سے زیادہ دین جو احادیث میں مندرج ہے، اس کے بغیر دور صحابہ میں دین کیسے مکمل ہو گیا تھا۔“ اس جملے میں بہت تلبیس سے کام لیا گیا ہے۔ اور اس کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث تو صحابہ کرام کی وساطت سے موصول ہوئی ہیں، لہذا جو دین احادیث میں مندرج ہے وہ صحابہ کرام کے وقت مکمل تھا اور یہ تکمیل حجۃ الوداع کے دن ہو چکی تھی۔ باقی احادیث کی تاریخی باطنی حیثیت پر ان شاء اللہ اس کے بعد تفصیلی بحث آئے گی۔