نفسانی خواہشات سے بچنے کے فضائل قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

نفسانی خواہشات سے بچنے کے فضائل

نفسانی خواہشات انسان کو تباہ و برباد کر دیتی ہیں، اور اس کے برعکس جس نے خوف الہی کو اپنے دل میں جگہ دی ہو گی، اور اس ایمان کے ساتھ دنیا میں زندگی گزاری ہو گی کہ اُسے اپنے رب کے سامنے میدان محشر میں کھڑا ہونا ہوگا، اور اس ایمان کے زیر اثر، اس نے اپنے آپ کو خواہش نفس کی اتباع سے دور رکھا ہو گا، اُس دن اس کی جائے رہائش جنت عدن ہوگی، جس کی نعمتوں کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے، نہ کسی کان نے سنا ہے، اور نہ ہی کسی انسان کا دل اس کا تصور کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ . فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ .﴾
”اور جو اپنے رب کے مقام سے ڈرا، اور اپنے نفس کو خواہش کی اتباع سے روکا، تو بے شک جنت اس کا ٹھکانا ہوگا۔“
(79-النازعات:40)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کریمہ کی تفسیر بایں الفاظ فرمائی ہے:
حجبت النار بالشهوات، وحجبت الجنة بالمكاره .
”جہنم کو شہوات نفسانی کے ساتھ ڈھانپ دیا گیا ہے، اور جنت کو گراں گزرنے والے ناگوار کاموں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔“
صحيح بخاري، كتاب الرقاق، باب حجبت النار بالشهوات، رقم: 6487ـ صحيح مسلم، أوائل كتاب الجنة وصفة نعميها وأهلها، رقم: 7130
یعنی جو شخص خواہشات نفسانی کے پیچھے پڑ گیا اس نے گویا دوزخ کا حجاب اٹھا دیا۔ اب دوزخ میں داخل ہوگا۔ اور جو مشکلات کا سامنا کرتا رہے، مصائب پر صبر کرتا رہے تو اس نے جنت کا حجاب اٹھا دیا، اب جنت میں داخل ہوگا۔
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں سرحد پر پہرہ دینے والے کے سوا ہر مرنے والے کا عمل اس کے مرنے کے ساتھ ہی ختم ہو جاتا ہے اس لیے کہ اس کے عمل کو قیامت کے دن تک بڑھایا جاتا ہے، اور وہ قبر کی آزمائش سے بھی محفوظ رہتا ہے۔ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرے۔“
سنن ترمذی ابواب فضائل الجهاد، رقم: 1621 – سلسلة الصحيحة، رقم: 549.