آدمؑ کا قد ساٹھ ہاتھ تھا؟ حدیث اور اعتراض کا جواب

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔

حدیث 7: قد آدم اور نسل در نسل اس کا کم ہونا

آدم علیہ السلام کا قد ساٹھ ذراع تھا پھر اب تک یہ قد کم ہوتا جا رہا ہے۔
صحيح البخاري، أحاديث الأنبياء، باب خلق آدم و ذريته، حديث: 3326

جواب :

جو حدیث میں لفظ ذراع ہے جس کا معنی گز یا میٹر نہیں بلکہ اس کا معنی ہاتھ ہے جو تقریباً ڈیڑھ فٹ کے برابر ہے۔ منکرین حدیث نے کتاب ”مقام حدیث“ میں یہ دھوکا دیا ہے کہ ذراع کا معنی گز ہے۔ اس کے باوجود یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو ساڑھے نو سو سال تبلیغ کی اور ان کی کل عمر ایک ہزار سال تھی ان کے بعد یہ عمر بتدریج کم ہوتی گئی حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کی اوسط عمر ساٹھ سے ستر کے درمیان ہوگی۔ شاذ و نادر ہی اس سے زیادہ عمر کی مثالیں ہوں گی۔“
جامع الترمذي، الزهد، باب ماجاء في فناء أعمار حديث : 2331
اس امت کی عمر ہزار سال کی نسبت پندرھواں حصہ بنتی ہے اسی لحاظ سے لوگوں کا اوسط قد بھی اب تقریباً چھ فٹ کے قریب ہی ہے بلکہ بعض علاقوں میں اس سے بھی کم ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بتدریج کم ہو رہا ہے۔
اور یہ اعتراض اس لیے بھی باطل ہے کہ قرآن میں بعد میں آنے والی قوم عاد کا ذکر ہے۔ کہ جب ان پر عذاب آیا تو وہ ایسے پڑے ہوئے تھے جیسے کھجور کے تنے، یعنی ان کا قد کھجور کے تنوں کی طرح تھا، حالانکہ یہ آدم علیہ السلام کے بعد آئے ہیں اور ان کے قد اتنے لمبے تھے تو آدم علیہ السلام کا قد ساٹھ ہاتھ مان لینے سے کون سی دینی خرابی لازم آتی ہے۔ عادیوں کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ
”گویا وہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں۔“
(69-الحاقة:7)