حدیث 8: فرضیت نماز کیسے ہوئی!
نمازیں کیسے فرض ہوئیں، اس کے متعلق حدیث معراج مشہور ہے۔
صحيح البخاري، الصلاة، باب كيف فرضت الصلاة في الإسراء ، حديث : 349
منکرین حدیث کی طرف سے اس حدیث پر عام طور پر تین اعتراض کیے جاتے ہیں:
➊ اس میں موسیٰ علیہ السلام کی شان ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بلند بتائی گئی ہے کیونکہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازیں کم کرنے کے بارے میں ان سے استفادہ کیا۔ آپ ان کے مشورے پر عمل کرتے رہے جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ کسی یہودی نے اپنے نبی موسیٰ علیہ السلام کی شان بلند کرنے کے لیے یہ حدیث وضع کی ہے۔
➋ اللہ تعالیٰ نے پہلے پچاس نمازیں فرض کیں، کیا اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا بھی علم نہیں تھا کہ آخری امت اس بوجھ کی متحمل نہیں ہو سکتی یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام نے توجہ دلائی۔
➌ جب آخر میں پانچ نمازیں رہ گئیں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ
”میرے ہاں بات میں تبدیلی نہیں ہوتی۔“
جبکہ یہاں بات کو کئی بار بدلنا پڑا ہے۔
جواب اعتراض اول:
کسی سے مشورہ لینا یا کسی کو مشورہ دینا اس میں کسی قسم کا نقص اور عیب لازم نہیں آتا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے:
وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ
”اور اہم بات میں ان سے مشورہ کر لیا کریں۔“
(3-آل عمران:159)
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں صحابہ کرام رضي اللہ عنہم سے مشورہ کیا اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کے مشورے پر عمل بھی کیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت کے بارے میں صحابہ کرام رضي اللہ عنہم سے مشورہ کیا اور اسامہ، بریرہ اور زینب رضی اللہ عنہم کے مشورے پر عمل کیا تو جب موسیٰ علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ دیا اور آپ نے ان کے مشورے پر عمل کیا، اس سے یہ کہاں لازم آتا ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور مرتبہ موسیٰ علیہ السلام سے ادنیٰ ظاہر ہوتا ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کے متعلق فرمایا:
تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ
”یہ رسول ہیں جن میں سے بعض کو ہم نے بعض پر فضیلت دی۔“
(2-البقرة:253)
یہ بعض کو بعض پر جزوی فضیلت ہے جبکہ کلی فضیلت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کسی دوسرے نبی کو جزوی فضیلت نہیں دی۔
جواب اعتراض دوم:
جب اللہ تعالیٰ کوئی حکم دیتا ہے اور پھر اس میں تخفیف فرما دیتا ہے تو اس میں اس کی بہت سی حکمتیں ہیں:
➊ انسان اللہ تعالیٰ کے حضور تخفیف کے لیے التجا اور تضرع کرے۔
➋ اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی کا اظہار ہے۔
➌ اللہ تعالیٰ کے تصرف اور اختیار کلی کا مظاہرہ ہے۔
احکام نسخ میں بھی اللہ تعالیٰ کی یہی حکمتیں ہیں جن کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ شیخ کو بے علمی پر محمول کرنا یہودیوں کا اعتراض تھا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آیت نسخ میں اس کا جواب دیا ہے۔
جواب اعتراض سوم :
لا يبدل القول لدي یہ جملہ اس حدیث کے آخر میں درج ہے۔ تو الْقَوْلُ سے پچاس نمازوں کا حکم مراد نہیں بلکہ ایک عمل صالح پر دس گنا ثواب دینا مراد ہے، چنانچہ ارشاد ہوا:
مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا
”جو شخص نیک عمل کرے گا، اس کو اسی طرح کی دس نیکیاں ملیں گی۔“
(6-الأنعام:160)
يا قول سے مراد حدیث میں مذکور یہ الفاظ ہیں: هن خمس وهن خمسون وہ ادا کرنے میں پانچ ہیں جبکہ اجر و ثواب میں وہ پچاس ہیں جبکہ سب سے واضح بات یہ ہے کہ لا يبدل القول لدي سے مراد یہ پانچ نمازیں ہیں، یعنی پانچ مقرر ہونے کے بعد اس میں مزید تبدیلی نہیں ہوگی۔
صحيح البخاري، الصلاة، باب كيف فرضت الصلاة في الإسراء، حديث: 349