نکاح سے پہلے مباشرت

تحریر: الشیخ مبشر احمد ربانی حفظ اللہ

سوال : اگر نکاح سے پہلے لڑکا اور لڑکی مباشرت کر بیٹھیں تو کیا بعد میں ان کا نکاح ہو سکتا ہے؟
جواب : اس میں کوئی شک نہیں کہ زنا کبیرہ گناہ ہے، کسی انسان سے اگر یہ گناہ سرزد ہو جائے تو وہ اس پر شرمندہ ہو کر اللہ تعالیٰ سے توبہ کر لیتا ہے تو قرآن میں اللہ تعالیٰ ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں :
«وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا ﴿68﴾ يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا ﴿69﴾ إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا ﴿70﴾ »
”اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود نہیں پکارتے اور نہ ایسی جان کو قتل کرتے ہیں جس کے قتل سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا اور نہ وہ زنا کرتے ہیں اور جو کوئی یہ کام کرتا ہے وہ اپنے کیے کی سزا بھگتے گا۔ قیامت کے دن اس کے لیے عذاب دوگنا کیا جائے گا اور وہ اس میں ذلیل ہو کر رہے گا، جن لوگوں نے ایسے گناہوں سے توبہ کرلی اور ایمان لے آئے اور نیک عمل کیے اللہ تعالیٰ ان کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کر دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔“
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ آدمی اگر زنا سے توبہ کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے اور جب اس نے توبہ کر لی اور اس کا معاملہ حاکم تک نہ پہنچا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈال دیا تو پھر اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے، دنیا میں اس پر حد لازم نہیں ہے۔ جیسا کہ صحیح حدیث ہے کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض صحابہ سے بعض محرمات سے اجتناب کے لیے بیعت لی۔ ان میں ایک زنا بھی تھا آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
« فمن وفى منكم فاجره على الله، ومن اصاب من ذلك شيئا فعوقب فى الدنيا فهو كفارة له، ومن اصاب من ذلك شيئا ثم ستره الله فهو إلى الله إن شاء عفا عنه وإن شاء عاقبه» [بخاري، كتاب الايمان : باب علامة الإيمان حب الأنصار 18]
جس نے بیعت پوری کی اس کا اجر اللہ پر ہے اور جو ان میں سے کسی چیز میں مبتلا ہو گیا اور اسے دنیا ہی میں اس کی سزا دی گئی تو وہ اس کے لیے کفارہ بن جائے گی اور اگر وہ کسی گناہ کو پہنچا اور اللہ تعالیٰ نے اس پر پردہ ڈال دیا تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہے، اگر چاہے تو وہ اسے بخش دے اور اگر چاہے تو عذاب دے۔“
اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر آدمی سے زنا وغیرہ سرزد ہو گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس پر پردہ ڈال دیا تو اس کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے۔ اس کے اقرار اور اصرار کے بغیر دنیا میں اس پر حد جاری نہیں کی جائے گی۔ اس سے بڑھ کر اگر کسی کو دوسرے مسلمان کے بارے میں کوئی ایسی چیز معلوم ہوتی ہے جس سے اس پر حد لازم آتی ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو آپس میں معاف کرنے کا حکم دیا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
« تَعَافُّوا الْحُدُودَ فِيمَا بَيْنَكُمْ فَمَا بَلَغَنِي مِنْ حَدٍّ فَقَدْ وَجَبَ » [ابوداود، كتاب الحدود : باب يعفي عن الحدود 4376]
آپس میں حدود معاف کرو، جو مجھ تک پہنچ گئی وہ واجب ہو گئی۔“
اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر امام، حاکم یا قاضی تک نہیں پہنچی تو حد واجب نہیں ہوئی۔ مذکورہ صورت میں زانی کا حد لگنے کے بغیر زانیہ سے نکاح ہو سکتا ہے جب دونوں سچی توبہ کر لیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صحیح سند کے ساتھ مروی ہے کہ ان سے کسی نے سوال کیا :
« اني كنت الم بامراة اتي منها ما حرم الله عز و جل على فرزق الله من ذلك توبة فاردت ان تزوجها فقال الناس ان الزاني لا ينكح الا زانية او مشركة فقال ابن عباس رضى الله عنه عنهما ليس هذا فى هذا انكحها فما كان هنا فى هنا من اثم فعلي » [تفسير ابن كثير 3/ 264]
”میں ایک عورت سے حرام کا ارتکاب کرتا رہا ہوں، مجھے اللہ نے اس فعل سے توبہ کی توفیق دی، میں نے توبہ کر لی۔ میں نے اس عورت سے شادی کا ارادہ کر لیا تو لوگوں نے کہا: ”زانی مرد صرف زانیہ اور مشرکہ عورت سے نکاح کر سکتا ہے۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”یہ اس بارے میں نہیں ہے، تو اس سے نکاح کر لے، اگر اس کا گناہ ہوا تو وہ مجھ پر ہے۔“
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مرد اور عورت جنھوں نے بدکاری کا فعل کیا ہے اگر توبہ کر لیتے ہیں تو بغیر شرعی حد کے نکاح ہو سکتا ہے کیونکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نہیں کہا کہ پہلے حد لگواؤ پھر نکاح کرو۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ حمل کے وقت جو ان دونوں کا نکاح ہوا تو وہ نکاح صحیح نہیں ہوگا کیونکہ اس نے عدت میں نکاح کیا اور عدت میں نکاح صحیح نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
« وَأُولاتُ الأحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ » [الطلاق : 4]
”حاملہ کی عدت وضع حمل ہے۔“
دوسری جگہ فرمایا :
«وَلَا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّىٰ يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ» [2-البقرة:235]
”اس وقت تک نکاح نہ کرو جب تک عدت ختم نہیں ہو جا تی۔“
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
«قد اجمع العلماء على انه لا يصح العقد فى مدة العدة» [تفسير ابن كثير 1/ 574]
”اس بات پر علماء کا اجماع ہے کہ عدت کے اندر نکاح صحیح نہیں۔“
اس لئے اگر نکاح سے پہلے کئے گئے جماع سے اگر لڑکی حاملہ ہو چکی ہے تو ان کا نکاح درست نہیں بلکہ وضع حمل کے بعد انہیں نکاح کرنا چاہئے تھا لہٰذا وہ دوبارہ نکاح کریں اور اگر نکاح کے وقت لڑکی حاملہ نہیں تھی تو ان کا باہمی نکاح بالکل درست ہے، اس پر کسی قسم کا عیب لگانا جائزنہیں۔

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
لنکڈان
ٹیلی گرام
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
پرنٹ کریں
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں: