تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الليل (92) — آیت 12

اِنَّ عَلَیۡنَا لَلۡہُدٰی ﴿۫ۖ۱۲﴾
بلاشبہ ہمارے ہی ذمے یقینا راستہ بتانا ہے۔ En
ہمیں تو راہ دکھا دینا ہے
En
بیشک راه دکھا دینا ہمارے ذمہ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنَّ عَلَیْنَا لَلْهُدٰؔى بے شک ہمارے ذمے تو راہ دکھا دینا ہے۔ یعنی وہ ہدایت جس کا راستہ سیدھا ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا اور اس کی رضا کے قریب کرتا ہے، رہی گمراہی تو اس کے تمام راستے اللہ تک پہنچنے کے لیے مسدود ہیں۔ گمراہی کے راستے ان پر چلنے والے کو صرف سخت عذاب ہی میں پہنچاتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنَّ علينا لَلهُدى}؛ أي: إنَّ الهدى المستقيم طريقه يوصل إلى الله ويدني من رضاه، وأمَّا الضَّلال؛ فطرقه مسدودةٌ عن الله، لا توصل صاحبها إلاَّ للعذاب الشديد.