تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الليل (92) — آیت 13

وَ اِنَّ لَنَا لَلۡاٰخِرَۃَ وَ الۡاُوۡلٰی ﴿۱۳﴾
اور بلاشبہ ہمارے ہی اختیار میں یقینا آخرت اور دنیا ہے۔ En
اور آخرت او ردنیا ہماری ہی چیزیں ہیں
En
اور ہمارے ہی ہاتھ آخرت اور دنیا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَةَ وَالْاُوْلٰى یعنی آخرت اور دنیا ہماری ملکیت اور ہمارے تصرف میں ہے اور اس بارے میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ پس رغبت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس کی طلب کی طرف راغب ہوں اور مخلوق سے ان کی تمام امیدیں منقطع ہوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وإنَّ لنا للآخرةَ والأولى}: ملكاً وتصرُّفاً، ليس له فيهما مشاركٌ، فليرغب الراغبون إليه في الطلب، ولينقطع رجاؤهم عن المخلوقين.