تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الليل (92) — آیت 11

وَ مَا یُغۡنِیۡ عَنۡہُ مَا لُہٗۤ اِذَا تَرَدّٰی ﴿ؕ۱۱﴾
اور اس کا مال اس کے کسی کام نہ آئے گا جب وہ ( گڑھے میں) گرے گا۔ En
اور جب وہ (دوزخ کے گڑھے میں) گرے گا تو اس کا مال اس کے کچھ کام نہ آئے گا
En
اس کا مال اسے (اوندھا) گرنے کے وقت کچھ کام نہ آئے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَمَا یُغْنِیْ عَنْهُ مَالُهٗۤ جس مال نے اسے سرکش بنایا تھا جس کی بنا پر وہ (اللہ تعالیٰ سے) بے نیاز بنا رہا اور اس میں بخل کرتا رہا، اس کے کچھ کام نہ آیا، یعنی جب وہ ہلاک ہو گا اور اسے موت آئے گی تو نیک عمل کے سوا کوئی چیز انسان کے ساتھ نہیں جائے گی، رہا اس کا وہ مال جس میں اس نے زکاۃ وغیرہ ادا نہیں کی، تو یہ مال اس کے لیے وبال بن جائے گا کیونکہ اس نے اس مال میں سے اپنی آخرت کے لیے کچھ آگے نہیں بھیجا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وما يُغني عنه مالُه}: الذي أطغاه واستغنى به وبخل به إذا هلك ومات؛ فإنَّه لا يصحب الإنسان إلاَّ عمله الصالح. وأمَّا ماله الذي لم يخرج منه الواجب؛ فإنَّه يكون وبالاً عليه؛ إذ لم يقدِّم منه لآخرته شيئاً.