تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی بزدلی کی شدت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَوْیَجِدُوْنَمَلْجَاً ﴾”اگر وہ کوئی پناہ گاہ پا لیں “ تو جس وقت ان پر مصائب نازل ہوں تو یہ اس میں پناہ لے لیں ﴿ اَوْمَغٰرٰتٍ ﴾”یا کوئی غار“ جس میں یہ داخل ہو کر اسے اپنا ٹھکانا بنا لیں ﴿ اَوْمُدَّخَلًا﴾”یا سرگھسانے کی جگہ“ یعنی انھیں ایسی جگہ مل جائے جہاں یہ گھس بیٹھیں اور اس طرح اپنے آپ کو محفوظ کر لیں ﴿ لَّوَلَّوْااِلَیْهِوَهُمْیَجْمَحُوْنَ ﴾”تو الٹے بھاگیں گے اسی طرف رسیاں تڑاتے“ یعنی اس کی طرف تیزی سے بھاگیں گے۔ پس یہ ایسے ملکہ سے محروم ہیں جس کے ذریعے سے وہ ثابت قدمی پر قادر ہوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر شدَّة جبنهم، فقال: {لو يجدون ملجأ}: يلجؤون إليه عندما تنزل بهم الشدائد، {أو مغاراتٍ}: يدخلونها فيستقرُّون فيها، {أو مدخلاً}؛ أي: محلاًّ يدخلونه فيتحصَّنون فيه، {لَوَلَّوا إليه وهم يَجْمحون}؛ أي: يسرعون ويُهْرَعون؛ فليس لهم مَلَكة يقتدرون بها على الثبات.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔