(آیت57) {لَوْيَجِدُوْنَمَلْجَاً …:”مَلْجَاً“”لَجَِأَيَلْجَأُ} (ف، س)“سے اسم ظرف ہے، پناہ لینے کی جگہ۔{”مَغٰرٰتٍ“”مَغَارَةٌ“} کی جمع ہے۔ {”غَوْرٌ“} گہری جگہ کو کہتے ہیں، پہاڑ یا زمین میں کوئی غار۔ {”مُدَّخَلًا“”دَخَلَ“ } سے باب افتعال میں سے ظرف ہے، حروف بڑھ جانے سے معنی میں اضافہ ہو گیا، یعنی مشکل اور مشقت سے گھس جانے کی کوئی جگہ۔ مطلب یہ ہے کہ انھیں فرار کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا، ورنہ اگر انھیں بری سے بری جگہ بھی جانے کے لیے مل جائے تو رسیاں تڑاتے ہوئے اس کی طرف بھاگ جائیں، کیونکہ بری سے بری جگہیں یہی تین ہو سکتی ہیں، جن کی طرف جایا جا سکتا ہے۔ {”يَجْمَحُوْنَ“”جَمَحَالْفَرَسُ“} اصل میں گھوڑے کے منہ زور ہو کر سوار کے قابو سے نکل کر بھاگ جانے کو کہتے ہیں، یعنی انھیں مسلمانوں سے، ان کی مجالس اور ان کے معاشرے سے بڑا شدید بغض ہے مگر ان کا بس نہیں چلتا، اس لیے مسلم معاشرے میں رہنے اور اس کے فوائد حاصل کرنے کے لیے تمھارے سامنے تمھارا ہونے کی قسمیں کھاتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
57۔ 1 یعنی نہایت تیزی سے دوڑ کر وہ پناہ گاہوں میں چلے جائیں، اس لئے کہ تم سے ان کا جتنا کچھ بھی تعلق ہے، وہ محبت و خلوص پر نہیں، عناد، نفرت اور کراہت پر ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
57۔ اگر یہ کوئی پناہ کی جگہ یا غار یا سر چھپانے کی جگہ پا لیں تو یہ تیزی سے دوڑتے [61] ہوئے وہاں جا چھپیں
[61] یعنی جس بے چارگی اور ذلت کے عالم میں یہ اپنی زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے یہ ہیں کہ کوئی چھوٹی موٹی پناہ گاہ انہیں مل جائے جہاں وہ اسلامی حکومت کے تسلط سے آزاد رہ سکیں۔ اور اگر انہیں کوئی ایسی پناہ گاہ مل جائے خواہ یہ کتنی ہی تنگ جگہ کیوں نہ ہو یہ لوگ ایک منٹ کی تاخیر نہ کریں اور فوراً دوڑتے ہوئے وہاں چلے جائیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جھوٹی قسمیں کھانے والوں کی حقیقت ٭٭
ان کی تنگ دلی ان کی غیر مستقل مزاجی , ان کی سراسیمگی اور پریشانی گھبراہٹ اور بے اطمینانی کا یہ حال ہے کہ تمہارے پاس آ کر تمہارے دل میں گھر کرنے کے لیے اور تمہارے ہاتھوں سے بچنے کے لیے بڑی لمبی چوڑی زبردست قسمیں کھاتے ہیں کہ واللہ! ہم تمہارے ہیں ہم مسلمان ہیں حالانکہ حقیقت اس کے برخلاف ہے یہ صرف خوف و ڈر ہے جو ان کے پیٹ میں درد پیدا کر رہا ہے۔ اگر آج انہیں اپنے بچاؤ کے لیے کوئی قلعہ مل جائے اگر آج یہ کوئی محفوظ غار دیکھ لیں یا کسی اچھی سرنگ کا پتہ انہیں چل جائے تو یہ تو سارے کے سارے دم بھر میں اس طرح اڑن چھو ہو جائیں تیرے پاس ان میں سے ایک بھی نظر نہ آئے کیونکہ انہیں تجھ سے کوئی محبت یا انس تو نہیں ہے یہ تو ضرورت مجبوری اور خوف کی بناء پر تمہاری چاپلوسی کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جوں جوں اسلام ترقی کر رہا ہے یہ بجھتے چلے جا رہے ہیں مومنوں کی ہر خوشی سے یہ جلتے تڑپتے ہیں ان کی ترقی انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی، موقعہ مل جائے تو آج بھاگ جائیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی بزدلی کی شدت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَوْیَجِدُوْنَمَلْجَاً ﴾”اگر وہ کوئی پناہ گاہ پا لیں “ تو جس وقت ان پر مصائب نازل ہوں تو یہ اس میں پناہ لے لیں ﴿ اَوْمَغٰرٰتٍ ﴾”یا کوئی غار“ جس میں یہ داخل ہو کر اسے اپنا ٹھکانا بنا لیں ﴿ اَوْمُدَّخَلًا﴾”یا سرگھسانے کی جگہ“ یعنی انھیں ایسی جگہ مل جائے جہاں یہ گھس بیٹھیں اور اس طرح اپنے آپ کو محفوظ کر لیں ﴿ لَّوَلَّوْااِلَیْهِوَهُمْیَجْمَحُوْنَ ﴾”تو الٹے بھاگیں گے اسی طرف رسیاں تڑاتے“ یعنی اس کی طرف تیزی سے بھاگیں گے۔ پس یہ ایسے ملکہ سے محروم ہیں جس کے ذریعے سے وہ ثابت قدمی پر قادر ہوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر شدَّة جبنهم، فقال: {لو يجدون ملجأ}: يلجؤون إليه عندما تنزل بهم الشدائد، {أو مغاراتٍ}: يدخلونها فيستقرُّون فيها، {أو مدخلاً}؛ أي: محلاًّ يدخلونه فيتحصَّنون فيه، {لَوَلَّوا إليه وهم يَجْمحون}؛ أي: يسرعون ويُهْرَعون؛ فليس لهم مَلَكة يقتدرون بها على الثبات.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔