تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 58

وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّلۡمِزُکَ فِی الصَّدَقٰتِ ۚ فَاِنۡ اُعۡطُوۡا مِنۡہَا رَضُوۡا وَ اِنۡ لَّمۡ یُعۡطَوۡا مِنۡہَاۤ اِذَا ہُمۡ یَسۡخَطُوۡنَ ﴿۵۸﴾
اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو تجھ پر صدقات کے بارے میں طعن کرتے ہیں، پھر اگر انھیں ان میں سے دے دیا جائے تو خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انھیں ان میں سے نہ دیا جائے تو اسی وقت وہ ناراض ہو جاتے ہیں۔ En
اور ان میں سے بعض اسے بھی ہیں کہ (تقسیم) صدقات میں تم پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ اگر ان کو اس میں سے (خاطر خواہ) مل جائے تو خوش رہیں اور اگر (اس قدر) نہ ملے تو جھٹ خفا ہو جائیں
En
ان میں وه بھی ہیں جو خیراتی مال کی تقسیم کے بارے میں آپ پر عیب رکھتے ہیں، اگر انہیں اس میں سے مل جائے تو خوش ہیں اور اگر اس میں سے نہ ملا تو فوراً بگڑ کھڑے ہوئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی ان منافقین میں ایسے لوگ بھی ہیں جو صدقات کی تقسیم میں آپ کی عیب جوئی اور اس بارے میں آپ پر تنقید کرتے ہیں اور ان کی تنقید اور نکتہ چینی کسی صحیح مقصد کی خاطر اور کسی راجح رائے کی بنا پر نہیں ہے بلکہ ان کا مقصد تو صرف یہ ہے کہ انھیں بھی کچھ عطا کیا جائے۔ ﴿ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَاِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ یَسْخَطُوْنَ پس اگر اس میں سے ان کو دیا جائے تو راضی ہو جاتے ہیں اور اگر نہ دیا جائے ان کو تو جب ہی وہ ناخوش ہو جاتے ہیں۔حالانکہ بندے کے لیے مناسب نہیں کہ اس کی رضا اور ناراضی، دنیاوی خواہش نفس اور کسی فاسد غرض کے تابع ہو بلکہ مناسب یہ ہے کہ اس کی خواہشات اپنے رب کی رضا کے تابع ہوں جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتَّی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِہٖتم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی خواہشات اس چیز کے تابع نہ ہوں جو میں لے کر آیا ہوں۔(شرح السنۃ، حدیث: 104)
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: ومن هؤلاء المنافقين مَن يَعيبك في قسمة الصَّدقات وينتقد عليك فيها، وليس انتقادُهم فيها وعيبُهم لقصدٍ صحيح ولا لرأي رجيح، وإنَّما مقصودُهم أن يُعْطَوا منها. {فإنْ أُعْطوا منها رَضُوا وإن لم يُعْطَوْا منها إذا هم يسخطونَ}: وهذه حالةٌ لا تنبغي للعبد أن يكون رضاه وغضبه تابعاً لهوى نفسه الدنيويِّ وغرضه الفاسد، بل الذي ينبغي أن يكون [هواه تبعاً] لمرضاة ربِّه؛ كما قال النبي - صلى الله عليه وسلم -: «لا يؤمن أحدُكم حتَّى يكون هواهُ تَبَعاً لما جئت به».