تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَیَحْلِفُوْنَبِاللّٰهِاِنَّهُمْلَمِنْكُمْ١ؕوَمَاهُمْمِّنْكُمْ ﴾”اور وہ قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی کہ وہ بے شک تم میں سے ہیں، حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں “ ان کی قسمیں اٹھانے میں ان کا مقصد یہ ہے ﴿ قَوْمٌیَّفْرَقُوْنَ ﴾”وہ ایسے لوگ ہیں جو (تم سے) خوفزدہ ہیں “یعنی وہ گردش ایام سے خائف ہیں اور ان کے دل ایسی شجاعت سے محروم ہیں جو ان کو اپنے احوال بیان کرنے پر آمادہ کرے۔ وہ اس بات سے خائف ہیں کہ اگر انھوں نے اپنا حال ظاہر کر دیا اور کفار سے براء ت کا اظہار کر دیا تو ہر طرف سے لوگ ان کو اچک لیں گے۔ رہا وہ شخص جو دل کا مضبوط اور مستقل مزاج ہے تو یہ صفات اسے اپنا حال... خواہ وہ اچھا ہو یا برا.... بیان کرنے پر آمادہ رکھتی ہیں۔ مگر اس کے برعکس منافقین کو بزدلی کی خلعت اور جھوٹ کا زیور پہنا دیا گیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ويحلفون بالله إنَّهم لمنكم وما هم منكم ولكنهم}: قصدهم في حلفهم هذا أنهم {قومٌ يَفْرَقون}؛ أي: يخافون الدوائر، وليس في قلوبهم شجاعة تحملهم على أن يبيِّنوا أحوالهم، فيخافون إن أظهروا حالهم منكم ويخافون أن تتبرَّؤوا منهم فيتخطَّفهم الأعداء من كل جانب، وأما حال قويِّ القلب ثابت الجنان؛ فإنه يحمله ذلك على بيان حاله حسنةً كانت أو سيئةً، ولكن المنافقين خُلِعَ عليهم خِلْعةُ الجبن، وحُلُّوا بحِلْيَةِ الكذب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔