تجھے نہ ان کے اموال بھلے معلوم ہوں اور نہ ان کی اولاد، اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ انھیں ان کے ذریعے دنیا کی زندگی میں عذاب دے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں۔
En
تم ان کے مال اور اولاد سے تعجب نہ کرنا۔ خدا چاہتا ہے کہ ان چیزوں سے دنیا کی زندگی میں ان کو عذاب دے اور (جب) ان کی جان نکلے تو (اس وقت بھی) وہ کافر ہی ہوں
پس آپ کو ان کے مال واوﻻد تعجب میں نہ ڈال دیں۔ اللہ کی چاہت یہی ہے کہ اس سے انہیں دنیا کی زندگی میں ہی سزا دے اور ان کے کفر ہی کی حالت میں ان کی جانیں نکل جائیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان منافقین کا مال اور اولاد آپ کو تعجب میں نہ ڈالے کیونکہ یہ کوئی قابل رشک بات نہیں۔ مال اور اولاد کی ایک ”برکت“ ان پر یہ ہوئی کہ انھوں نے اس مال اور اولاد کو اپنے رب کی رضا پر ترجیح دی اور اس کی خاطر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا، فرمایا: ﴿اِنَّمَایُرِیْدُاللّٰهُلِیُعَذِّبَهُمْبِهَافِیالْحَیٰوةِالدُّنْیَا ﴾”اللہ چاہتا ہے کہ ان چیزوں سے دنیا کی زندگی میں ان کو عذاب دے۔“ یہاں عذاب سے مراد وہ مشقت اور کوشش ہے جو اسے حاصل کرنے میں انھیں برداشت کرنی پڑتی ہے اور اس میں دل کی تنگی اور بدن کی مشقت ہے۔ اگر آپ اس مال کے اندر موجود ان کی لذات کا مقابلہ اس کی مشقتوں سے کریں تو ان لذتوں کی ان مشقتوں کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں اور ان لذات نے چونکہ ان کو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کر دیا ہے اس لیے یہ ان کے لیے اس دنیا میں بھی وبال ہیں۔ ان کا سب سے بڑا وبال یہ ہے کہ ان کا دل انھی لذات میں مگن رہتا ہے اور ان کے ارادے ان لذات سے آگے نہیں بڑھتے، یہ لذات ان کی منتہائے مطلوب اور ان کی مرغوبات ہیں، ان کے قلب میں آخرت کے لیے کوئی جگہ نہیں اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ یہ لوگ دنیا سے اس حالت میں جائیں ﴿ وَتَزْهَقَاَنْفُسُهُمْوَهُمْكٰفِرُوْنَ ﴾”اور جب ان کی جان نکلے تو وہ کافر ہی ہوں۔“ یعنی اس حالت میں ان کی جان نکلے کہ ان کا رویہ انکار حق ہو۔ تب اس عذاب سے بڑھ کر کون سا عذاب ہے جو دائمی بدبختی اور کبھی دور نہ ہونے والی حسرت کا موجب ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: فلا تعجبْك أموالُ هؤلاء المنافقين ولا أولادُهم؛ فإنه لا غبطة فيها، وأول بركاتها عليهم أن قدَّموها على مراضي ربِّهم وعصوا الله لأجلها. {إنَّما يريد الله ليعذِّبَهم بها في الحياة الدُّنيا}: والمراد بالعذاب هنا ما ينالهم من المشقَّة في تحصيلها والسعي الشديد في ذلك وهمِّ القلب فيها وتعب البدن؛ فلو قابلت لَذَّاتهم فيها بمشقَّاتهم؛ لم يكن لها نسبة إليها؛ فهي لَمَّا ألهتهم عن الله وذكره؛ صارت وبالاً عليهم حتى في الدنيا، ومن وبالها العظيم الخطر أنَّ قلوبهم تتعلَّق بها وإراداتهم لا تتعداها، فتكون منتهى مطلوبِهم وغاية مرغوبِهم، ولا يبقى في قلوبهم للآخرة نصيبٌ، فيوجب ذلك أن ينتقلوا من الدنيا، {وَتَزْهَقَ أنفسُهُم وهم كافرون}؛ فأي عقوبة أعظم من هذه العقوبة الموجبة للشَّقاء الدائم والحسرة الملازمة؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔