ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 56

وَ یَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰہِ اِنَّہُمۡ لَمِنۡکُمۡ ؕ وَ مَا ہُمۡ مِّنۡکُمۡ وَ لٰکِنَّہُمۡ قَوۡمٌ یَّفۡرَقُوۡنَ ﴿۵۶﴾
اور وہ اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ بے شک وہ ضرور تم میں سے ہیں، حالانکہ وہ تم میں سے نہیں اور لیکن وہ ایسے لوگ ہیں جو ڈرتے ہیں۔ En
اور خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تم ہی میں سے ہیں حالانکہ ہو تم میں سے نہیں ہیں۔ اصل یہ ہے کہ یہ ڈرپوک لوگ ہیں
En
یہ اللہ کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ یہ تمہاری جماعت کے لوگ ہیں، حاﻻنکہ وه دراصل تمہارے نہیں بات صرف اتنی ہے کہ یہ ڈرپوک لوگ ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت56){وَ يَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ …: فَرِقَ يَفْرَقُ} (ع) سخت خوف زدہ ہونا اور گھبرانا، یعنی یہ منافق تم سے شدید خوف کی وجہ سے اپنے کفر کا اظہار نہیں کر سکتے، نہ مقابلے میں آنے کی جرأت کر سکتے ہیں، کیونکہ اس صورت میں انھیں اپنے قتل اور بیوی بچوں کے لونڈی غلام بننے کا سخت خطرہ ہے، اس لیے قسمیں کھا کھا کر تم میں سے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ نفاق آدمی میں دوسروں کا خوف اور بزدلی پیدا کرتا ہے۔