آپ کہہ دیجئے کہ ہمیں سوائے اللہ کے ہمارے حق میں لکھے ہوئے کہ کوئی چیز پہنچ ہی نہیں سکتی وه ہمارا کار ساز اور مولیٰ ہے۔ مومنوں کو تو اللہ کی ذات پاک پر ہی بھروسہ کرنا چاہئے۔
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے۔ ﴿ قُ٘لْلَّنْیُّصِیْبَنَاۤاِلَّامَاكَتَبَاللّٰهُلَنَا﴾”کہہ دیجیے! ہمیں وہی پہنچے گا جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا ہے“ یعنی جو کچھ اس نے مقدر کر کے لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے۔ ﴿ هُوَمَوْلٰىنَا﴾”وہی ہمارا کارساز ہے۔“ یعنی وہ ہمارے تمام دینی اور دنیاوی امور کا سرپرست ہے پس ہم پر اس کی قضا و قدر پر راضی رہنا فرض ہے۔ ہمارے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں ﴿ وَعَلَىاللّٰهِ ﴾”اور اللہ پر“ یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ ہی پر ﴿ فَلْیَتَوَكَّلِالْمُؤْمِنُوْنَ ﴾”مومنوں کو توکل کرنا چاہیے۔“ یعنی اہل ایمان کو اپنے مصالح کے حصول اور ضرر کو دور کرنے کے لیے اعتماد اور اپنے مطلوب و مقصود کی تحصیل کی خاطر اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا اور جو غیروں پر تکیہ کرتا ہے تو وہ ایک تو بے یارومددگار رہے گا، دوسرے اپنی امیدوں کے حصول میں ناکام رہے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
قال تعالى رادًّا عليهم في ذلك: {قل لن يُصيَبنا إلَّا ما كَتَبَ الله لنا}؛ أي: قدَّره وأجراه في اللوح المحفوظ. {هو مولانا}؛ أي: متولي أمورنا الدينيَّة والدنيويَّة؛ فعلينا الرِّضا بأقداره، وليس في أيدينا من الأمر شيء. {وعلى الله}: وحده {فليتوكَّل المؤمنون}؛ أي: يعتمدوا عليه في جلب مصالحهم ودفع المضارِّ عنهم ويثقوا به في تحصيل مطلوبهم؛ فلا خاب من توكَّل عليه، وأما من توكَّل على غيره؛ فإنه مخذول غير مدرك لما أمل.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔