تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 52

قُلۡ ہَلۡ تَرَبَّصُوۡنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡدَی الۡحُسۡنَیَیۡنِ ؕ وَ نَحۡنُ نَتَرَبَّصُ بِکُمۡ اَنۡ یُّصِیۡبَکُمُ اللّٰہُ بِعَذَابٍ مِّنۡ عِنۡدِہٖۤ اَوۡ بِاَیۡدِیۡنَا ۫ۖ فَتَرَبَّصُوۡۤا اِنَّا مَعَکُمۡ مُّتَرَبِّصُوۡنَ ﴿۵۲﴾
کہہ دے تم ہمارے بارے میں دو بہترین چیزوں میں سے ایک کے سوا کس کا انتظار کرتے ہو اور ہم تمھارے بارے میں انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ تمھیں اپنے پاس سے کوئی عذاب پہنچائے، یا ہمارے ہاتھوں سے۔ سو انتظار کرو، بے شک ہم (بھی) تمھارے ساتھ منتظر ہیں۔ En
کہہ دو کہ تم ہمارے حق میں دو بھلائیوں میں سے ایک کے منتظر ہو اور ہم تمہارے حق میں اس بات کے منتظر ہیں کہ خدا (یا تو) اپنے پاس سے تم پر کوئی عذاب نازل کرے یا ہمارے ہاتھوں سے (عذاب دلوائے) تو تم بھی انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتے ہیں
En
کہہ دیجئے کہ تم ہمارے بارے میں جس چیز کا انتظار کر رہے ہو وه دو بھلائیوں میں سے ایک ہے اور ہم تمہارے حق میں اس کا انتظار کرتے ہیں کہ یا تو اللہ تعالیٰ اپنے پاس سے کوئی سزا تمہیں دے یا ہمارے ہاتھوں سے، پس ایک طرف تم منتظر رہو دوسری جانب تمہارے ساتھ ہم بھی منتظر ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

آپ ان منافقین سے کہہ دیجیے جو تم لوگوں پر مصیبت کا پہاڑ ٹوٹنے کا انتظار کر رہے ہیں تم ہمارے بارے میں کس چیز کا انتظار کر رہے ہو؟ تم ہمارے بارے میں ایسی چیز کا انتظار کر رہے ہو جو مآل کار ہمارے لیے فائدہ مند ہے اور وہ ہے دو میں سے ایک بھلائی۔
(۱) دشمنوں پر فتح و نصرت اور اخروی اور دنیاوی ثواب کا حصول۔
(۲) شہادت، جو مخلوق کے لیے سب سے اعلیٰ درجہ اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے ارفع مقام ہے۔
اور اے گروہ منافقین! ہم جو تمھارے بارے میں انتظار کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے توسط کے بغیر تمھیں عذاب دے گا یا ہمیں تم پر مسلط کر کے ہمارے ذریعے سے تمھیں عذاب میں مبتلا کرے گا، پس ہم تمھیں قتل کریں گے۔
﴿فَتَرَبَّصُوْۤا پس تم منتظر رہو۔ پس تم ہمارے بارے میں بھلائی کے منتظر رہو ﴿ اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ۠ ہم تمھارے بارے میں (برائی کے) منتظر ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: قل للمنافقين الذين يتربَّصون بكم الدوائر: أيَّ شيء تربَّصون بنا؟ فإنكم لا تربَّصون بنا إلا أمراً فيه غاية نفعنا، وهو إحدى الحسنيين: إما الظَّفَر بالأعداء والنصر عليهم ونيل الثواب الأخروي والدنيوي، وإما الشهادة التي هي من أعلى درجات الخَلْق وأرفع المنازل عند الله. وأما تربُّصنا بكم يا معشر المنافقين؛ فنحن {نتربَّص بكم أن يصيبَكم الله بعذابٍ من عنده} لا سبب لنا فيه {أو بأيدينا}؛ بأن يسلِّطنا عليكم فنقتلكم، {فتربَّصوا}: بنا الخير، {إنا معكم متربِّصون}: بكم الشرَّ.