تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 50

اِنۡ تُصِبۡکَ حَسَنَۃٌ تَسُؤۡہُمۡ ۚ وَ اِنۡ تُصِبۡکَ مُصِیۡبَۃٌ یَّقُوۡلُوۡا قَدۡ اَخَذۡنَاۤ اَمۡرَنَا مِنۡ قَبۡلُ وَ یَتَوَلَّوۡا وَّ ہُمۡ فَرِحُوۡنَ ﴿۵۰﴾
اگر تجھے کوئی بھلائی پہنچے تو انھیں بری لگتی ہے اور اگر تجھے کوئی مصیبت پہنچے تو کہتے ہیں ہم نے تو پہلے ہی اپنا معاملہ سنبھال لیا تھا اور اس حال میں پھرتے ہیں کہ وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔ En
(اے پیغمبر) اگر تم کو آسائش حاصل ہوتی ہے تو ان کو بری لگتی ہے۔ اور کوئی مشکل پڑتی ہے تو کہتے کہ ہم نے اپنا کام پہلے ہیں (درست) کر لیا تھا اور خوشیاں مناتے لوٹ جاتے ہیں
En
آپ کو اگر کوئی بھلائی مل جائے تو انہیں برا لگتا ہے اور کوئی برائی پہنچ جائے تو یہ کہتے ہیں ہم نے تو اپنا معاملہ پہلے سے ہی درست کر لیا تھا، پھر تو بڑے ہی اتراتے ہوئے لوٹتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ، منافقین کے بارے میں یہ واضح کرتے ہوئے کہ وہی حقیقی دشمن اور اسلام کے خلاف بغض رکھنے والے ہیں ..... فرماتا ہے ﴿ اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ اگر پہنچے آپ کو کوئی بھلائیمثلاً: فتح و نصرت اور دشمن کے خلاف آپ کی کامیابی ﴿ تَسُؤْهُمْ تو ان کو بری لگتی ہے۔ یعنی ان کو غمزدہ کر دیتی ہے ﴿ وَاِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ اور اگر آپ کو پہنچے کوئی مصیبتمثلاً: آپ کے خلاف دشمن کی کامیابی ﴿ یَّقُوْلُوْا تو کہتے ہیں۔ آپ کے ساتھ نہ جانے کی وجہ سے سلامت رہنے کی بنا پر نہایت فخر سے کہتے ہیں ﴿ قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ ہم نے اس سے پہلے اپنا بچاؤ کر لیا تھا اور ہم نے ایسا رویہ رکھا جس کی وجہ سے ہم اس مصیبت میں گرفتار ہونے سے بچ گئے ﴿ وَیَتَوَلَّوْا وَّهُمْ فَرِحُوْنَ اور پھر کر جائیں وہ خوشیاں کرتے ہوئے یعنی وہ آپ کی مصیبت اور آپ کے ساتھ اس میں عدم مشارکت پر خوش ہوتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى مبيناً أن المنافقين هم الأعداء حقًّا المبغضون للدين صرفاً: {إن تُصِبْكَ حسنةٌ}: كنصر وإدالة على العدو {تَسُؤْهم}؛ أي: تحزنهم وتغمهم، {وإن تُصِبْكَ مصيبةٌ}: كإدالة العدو عليك {يقولوا}: متبجِّحين بسلامتهم من الحضور معك: {قد أخَذْنا أمرنا من قبلُ}؛ أي: قد حذرنا وعملنا بما يُنجينا من الوقوع في مثل هذه المصيبة، {ويتولَّوْا وهم فرحون}: بمصيبتك وبعدم مشاركتهم إياك فيها.