قُلۡ لَّنۡ یُّصِیۡبَنَاۤ اِلَّا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَنَا ۚ ہُوَ مَوۡلٰىنَا ۚ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۵۱﴾
کہہ دے ہمیں ہرگز نہیں پہنچے گا مگر وہی جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا، وہی ہمارا مالک ہے اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ ایمان والے بھروسا کریں۔
En
کہہ دو کہ ہم کو کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی بجز اس کے جو خدا نے ہمارے لیے لکھ دی ہو وہی ہمارا کارساز ہے۔ اور مومنوں کو خدا ہی کا بھروسہ رکھنا چاہیئے
En
آپ کہہ دیجئے کہ ہمیں سوائے اللہ کے ہمارے حق میں لکھے ہوئے کہ کوئی چیز پہنچ ہی نہیں سکتی وه ہمارا کار ساز اور مولیٰ ہے۔ مومنوں کو تو اللہ کی ذات پاک پر ہی بھروسہ کرنا چاہئے۔
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت51) ➊ {قُلْ لَّنْ يُّصِيْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا:} یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر ایمان و یقین کی برکت کا ذکر ہے، سچ ہے: {”مَنْ عَلِمَ سِرَّ اللّٰهِ فِي الْقَدَرِ هَانَتْ عَلَيْهِ الْمَصَائِبُ “} ”جس نے قضا و قدر میں اللہ تعالیٰ کے راز کو پا لیا اس پر مصیبتیں آسان ہو جاتی ہیں۔“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”کوئی مصیبت نہ زمین میں پہنچتی ہے اور نہ تمھاری جانوں میں مگر وہ ایک کتاب میں ہے، اس سے پہلے کہ ہم اسے پیدا کریں، یقینا یہ اللہ پر بہت آسان ہے، تاکہ تم نہ اس پر غم کرو جو تمھارے ہاتھ سے نکل جائے اور نہ اس پر پھول جاؤ جو وہ تمھیں عطا فرمائے۔“ [الحدید: ۲۲، ۲۳]
➋ { هُوَ مَوْلٰىنَا …:} وہی ہمارا مالک، مددگار اور حمایتی ہے۔ ہم اپنے مالک پر خوش ہیں اور ایمان والوں کو تو بس اللہ ہی پر بھروسا رکھنا لازم ہے، نہ دنیا کے سازوسامان پر اور نہ اس کے سوا کسی اور ذات پر۔ {” وَ عَلَى اللّٰهِ “} کے پہلے آنے سے حصر کا مفہوم پیدا ہو گیا اور {” فَلْيَتَوَكَّلِ“} میں فاء کا مطلب یہ ہے کہ اگر ان منافقین کے رویے سے پیدا ہونے والی بددلی کا علاج چاہتے ہیں تو ایمان والوں کے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ وہ صرف اللہ پر بھروسا رکھیں اور اس کے سوا کسی کی پروا نہ کریں۔
➋ { هُوَ مَوْلٰىنَا …:} وہی ہمارا مالک، مددگار اور حمایتی ہے۔ ہم اپنے مالک پر خوش ہیں اور ایمان والوں کو تو بس اللہ ہی پر بھروسا رکھنا لازم ہے، نہ دنیا کے سازوسامان پر اور نہ اس کے سوا کسی اور ذات پر۔ {” وَ عَلَى اللّٰهِ “} کے پہلے آنے سے حصر کا مفہوم پیدا ہو گیا اور {” فَلْيَتَوَكَّلِ“} میں فاء کا مطلب یہ ہے کہ اگر ان منافقین کے رویے سے پیدا ہونے والی بددلی کا علاج چاہتے ہیں تو ایمان والوں کے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ وہ صرف اللہ پر بھروسا رکھیں اور اس کے سوا کسی کی پروا نہ کریں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
51۔ 1 یہ منافقین کے جواب میں مسلمانوں کے صبر و ثبات اور حوصلے کے لئے فرمایا جا رہا ہے کیونکہ جب انسان کو یہ معلوم ہو کہ اللہ کی طرف سے مقدر کا ہر صورت میں ہونا ہے اور جو بھی مصیبت یا بھلائی ہمیں پہنچتی ہے اسی تقدیر الٰہی کا حصہ ہے، تو انسان کے لئے مصیبت کا برداشت کرنا آسان اور اس کے حوصلے میں اضافے کا سبب ہوتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
51۔ آپ ان سے کہیے: ہمیں اگر کوئی مصیبت آئے گی تو وہی آئے گی جو اللہ نے ہمارے مقدر کر رکھی ہے، وہی ہمارا سرپرست ہے اور مومنوں کو اللہ ہی پر توکل [55] کرنا چاہئے
[55] مومن اور کافر یا منافق کی خصلت کا فرق:۔
اس آیت میں مومنوں اور منافقوں کے نظریاتی اختلاف کو بیان کیا گیا ہے۔ منافق جو کچھ بھی کرتا ہے اسے صرف اپنا دنیوی مفاد ملحوظ ہوتا ہے۔ پھر اگر اسے کامیابی ہو تو اترانے لگتا ہے اور خوشی سے پھولا نہیں سماتا اور اگر ناکامی ہو تو مایوس ہو کر رہ جاتا ہے جبکہ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ جو کچھ کرتا ہے دین کی سربلندی اور اللہ کی رضا کے لیے کرتا ہے اگر کامیابی ہو تو اللہ کی مہربانی سمجھتا ہے اور اس کا شکر ادا کرتا ہے مگر اتراتا نہیں اور ناکامی ہو تو وہ بھی اسے مایوس نہیں کرتی اور وہ اسے اللہ ہی کی طرف سے سمجھتا ہے کیونکہ اسباب کو اختیار کرنا مومن کا کام ہے اور اس کے اچھے یا برے نتائج پیدا کرنا اللہ کا کام ہے۔ لہٰذا وہ ہر حال میں اللہ ہی بھروسہ رکھتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بدفطرت لوگوں کا دوغلا پن ٭٭
ان بدظن لوگوں کی اندرونی خباثت کا بیان ہورہا ہے کہ مسلمانوں کی فتح و نصرت سے، ان کی بھلائی اور ترقی سے ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے اور اگر اچانک یہاں اس کے خلاف ہوا تو الاپ الاپ کر اپنی چالاکی کے افسانے گائے جاتے ہیں کہ میاں اسی وجہ سے ہم تو ان سے بچتے رہے مارے خوشی کے بغلیں بجانے لگتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کو جواب دے کہ رنج و راحت اور ہم خود اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کی منشاء کے ماتحت ہیں وہ ہمارا مولیٰ ہے وہ ہمارا آقا ہے وہ ہماری پناہ ہے ہم مومن ہیں اور مومنوں کا بھروسہ اسی پر ہوتا ہے وہ ہمیں کافی ہے بس ہے وہ ہمارا کار ساز ہے اور بہترین کار ساز ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کو جواب دے کہ رنج و راحت اور ہم خود اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کی منشاء کے ماتحت ہیں وہ ہمارا مولیٰ ہے وہ ہمارا آقا ہے وہ ہماری پناہ ہے ہم مومن ہیں اور مومنوں کا بھروسہ اسی پر ہوتا ہے وہ ہمیں کافی ہے بس ہے وہ ہمارا کار ساز ہے اور بہترین کار ساز ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے۔ ﴿ قُ٘لْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا﴾ ”کہہ دیجیے! ہمیں وہی پہنچے گا جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا ہے“ یعنی جو کچھ اس نے مقدر کر کے لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے۔ ﴿ هُوَ مَوْلٰىنَا﴾ ”وہی ہمارا کارساز ہے۔“ یعنی وہ ہمارے تمام دینی اور دنیاوی امور کا سرپرست ہے پس ہم پر اس کی قضا و قدر پر راضی رہنا فرض ہے۔ ہمارے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں ﴿ وَعَلَى اللّٰهِ ﴾ ”اور اللہ پر“ یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ ہی پر ﴿ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ﴾ ”مومنوں کو توکل کرنا چاہیے۔“ یعنی اہل ایمان کو اپنے مصالح کے حصول اور ضرر کو دور کرنے کے لیے اعتماد اور اپنے مطلوب و مقصود کی تحصیل کی خاطر اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا اور جو غیروں پر تکیہ کرتا ہے تو وہ ایک تو بے یارومددگار رہے گا، دوسرے اپنی امیدوں کے حصول میں ناکام رہے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
قال تعالى رادًّا عليهم في ذلك: {قل لن يُصيَبنا إلَّا ما كَتَبَ الله لنا}؛ أي: قدَّره وأجراه في اللوح المحفوظ. {هو مولانا}؛ أي: متولي أمورنا الدينيَّة والدنيويَّة؛ فعلينا الرِّضا بأقداره، وليس في أيدينا من الأمر شيء. {وعلى الله}: وحده {فليتوكَّل المؤمنون}؛ أي: يعتمدوا عليه في جلب مصالحهم ودفع المضارِّ عنهم ويثقوا به في تحصيل مطلوبهم؛ فلا خاب من توكَّل عليه، وأما من توكَّل على غيره؛ فإنه مخذول غير مدرك لما أمل.