تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 24

قُلۡ اِنۡ کَانَ اٰبَآؤُکُمۡ وَ اَبۡنَآؤُکُمۡ وَ اِخۡوَانُکُمۡ وَ اَزۡوَاجُکُمۡ وَ عَشِیۡرَتُکُمۡ وَ اَمۡوَالُۨ اقۡتَرَفۡتُمُوۡہَا وَ تِجَارَۃٌ تَخۡشَوۡنَ کَسَادَہَا وَ مَسٰکِنُ تَرۡضَوۡنَہَاۤ اَحَبَّ اِلَیۡکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ جِہَادٍ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ فَتَرَبَّصُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللّٰہُ بِاَمۡرِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿٪۲۴﴾
کہہ دے اگر تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے اور تمھارے بھائی اور تمھاری بیویاں اور تمھارا خاندان اور وہ اموال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کے مندا پڑنے سے تم ڈرتے ہو اور رہنے کے مکانات، جنھیں تم پسند کرتے ہو، تمھیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ En
کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور خاندان کے آدمی اور مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے بند ہونے سے ڈرتے ہو اور مکانات جن کو پسند کرتے ہو خدا اور اس کے رسول سے اور خدا کی راہ میں جہاد کرنے سے تمہیں زیادہ عزیز ہوں تو ٹھہرے رہو یہاں تک کہ خدا اپنا حکم (یعنی عذاب) بھیجے۔ اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
En
آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکےاور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے قبیلے اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور وه تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو اور وه حویلیاں جنہیں تم پسند کرتے ہو اگر یہ تمہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راه میں جہاد سے بھی زیاده عزیز ہیں، تو تم انتظار کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنا عذاب لے آئے۔ اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا ہے جو اس کا موجب ہے اور وہ ہے اللہ اور اس کے رسول کی محبت۔ اس سے یہ بات متعین ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہر چیز پر مقدم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام اشیاء کی محبت کو اس محبت کے تابع کیا ہے۔
فرمایا: ﴿ قُ٘لْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ کہہ دیجیے! اگر ہیں تمھارے باپ اسی طرح یہ حکم ماؤں کے بارے میں بھی ہے ﴿ وَاَبْنَآؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ اور تمھارے بیٹے اور بھائی یعنی نسبی اور خاندانی اعتبار سے۔ ﴿ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِیْرَتُكُمْ اور تمھاری بیویاں اور دیگر عمومی رشتہ دار ﴿ وَاَمْوَالُ اِ۟ اقْتَرَفْتُمُوْهَا اور وہ مال جو تم کماتے ہو جس کے حصول میں مشقت برداشت کرتے ہو۔ کمائے ہوئے مال کا خاص طور پر اس لیے ذکر کیا ہے کیونکہ یہ اصحاب اموال کے نزدیک مرغوب ترین مال ہوتا ہے اور انھیں اس مال کی نسبت جو انھیں بغیر کسی محنت اور مشقت کے حاصل ہوتا ہے، زیادہ محبوب و مرغوب ہوتا ہے۔ ﴿ وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا اور وہ سوداگری جس کے مندا ہونے سے تم ڈرتے ہو یعنی سامان کے ارزاں ہونے اور اس میں نقصان واقع ہونے سے ڈرتے ہو۔ اس میں تجارت اور کاروبار کی تمام اقسام شامل ہیں، مثلاً: ہر قسم کا سامان تجارت، مال کی قیمتیں، برتن، اسلحہ، اشیائے استعمال، غلہ جات، کھیتیاں اور مویشی وغیرہ سب اسی زمرے میں آتے ہیں۔ ﴿ وَمَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اور وہ گھر جن کو تم پسند کرتے ہو ان کی خوبصورتی، سجاوٹ اور ان کا تمھاری خواہشات اور پسند کے مطابق ہونے کی وجہ سے۔ ﴿ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ٘ وَجِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ٘ اگر یہ تمام چیزیں، تمھیں اللہ اور اس کے رسول اور جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو تم فاسق و فاجر اور ظالم ہو۔ ﴿ فَتَرَبَّصُوْا تو انتظار کرو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہونے کا انتظار کرو ﴿ حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے جسے کوئی ٹال نہیں سکتا۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے دائرۂ اطاعت سے باہر نکلنے والے اور اللہ تعالیٰ کی محبت پر مذکورہ بالا اشیا کی محبت کو ترجیح دینے والے کو اللہ تعالیٰ ہدایت سے نہیں نوازتا۔
یہ آیت کریمہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت فرض ہے اور دیگر تمام اشیا کی محبت پر مقدم ہے۔ نیز آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے نہایت سخت وعید اور شدید ناراضی کا اظہار کیا گیا ہے جسے یہ مذکورہ اشیاء اللہ، اس کے رسول اور جہاد سے زیادہ محبوب ہیں۔ اس کی علامت یہ ہے کہ اگر اس کے سامنے دو امور پیش ہوں ان میں ایک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب ہو مگر اس میں اس کے نفس کی چاہت کا کوئی پہلو نہ ہو اور دوسرے معاملے کو نفس پسند کرتا ہو مگر اس کو اختیار کرنے سے اس چیز سے محروم ہو جاتا ہو جسے اللہ اور اس کا رسول پسند کرتے ہیں یا اس چیز میں کمی واقع ہو جاتی ہو... اس صورت میں اگر وہ اس چیز کو اس امر پر ترجیح دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ظالم اور اس امر کا تارک ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا ذكر السبب الموجب لذلك، وهو أن محبَّة الله ورسوله يتعيَّن تقديمهُما على محبَّة كلِّ شيء، وجعلُ جميع الأشياء تابعةً لهما، فقال: {قلْ إن كان آباؤكم}: ومثلهم الأمهات، {وإخوانُكم}: في النسب والعشرة، {وأزواجكم وعشيرتكم}؛ أي: قراباتكم عموماً، {وأموالٌ اقْتَرَفْتُموها}؛ أي: اكتسبتموها وتعبتم في تحصيلها، خصَّها بالذِّكر لأنها أرغب عند أهلها، وصاحبها أشدُّ حرصاً عليها ممَّن تأتيه الأموال من غير تعبٍ ولا كدٍّ. {وتجارةٌ تخشَوْن كسادها}؛ أي: رخصها ونقصها، وهذا شاملٌ لجميع أنواع التجارات والمكاسب من عروض التجارات من الأثمان والأواني والأسلحة والأمتعة والحبوب والحروث والأنعام وغير ذلك. {ومساكنُ ترضَوْنَها}: من حُسِنها وزخرفتها وموافقتها لأهوائكم؛ فإن كانت هذه الأشياء {أحبَّ إليكم من الله ورسولِهِ وجهادٍ في سبيله}: فأنتم فَسَقَةٌ ظَلَمَةٌ، {فتربَّصوا}؛ أي: انتظروا ما يَحِلُّ بكم من العقاب، {حتَّى يأتيَ الله بأمره}: الذي لا مَرَدَّ له. {والله لا يهدي القوم الفاسقين}؛ أي: الخارجين عن طاعة الله، المقدِّمين على محبَّة الله شيئاً من المذكورات.

وهذه الآية الكريمة أعظم دليل على وجوب محبَّة الله ورسوله، وعلى تقديمهما على محبَّة كلِّ شيء، وعلى الوعيد الشديد والمَقت الأكيد على مَنْ كان شيءٌ من [هذه] المذكورات أحبَّ إليه من الله ورسوله وجهادٍ في سبيله، وعلامة ذلك أنَّه إذا عرض عليه أمران: أحدُهما يحبُّه الله ورسوله وليس لنفسه فيه هوىً. والآخرُ تحبُّه نفسه وتشتهيه ولكنَّه يفوِّت عليه محبوباً لله ورسوله أو ينقصه؛ فإنَّه إن قدم ما تهواه نفسه على ما يحبُّه الله؛ دلَّ على أنه ظالمٌ تاركٌ لما يجب عليه.