تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 23

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡۤا اٰبَآءَکُمۡ وَ اِخۡوَانَکُمۡ اَوۡلِیَآءَ اِنِ اسۡتَحَبُّوا الۡکُفۡرَ عَلَی الۡاِیۡمَانِ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۲۳﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے باپوں اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ بناؤ، اگر وہ ایمان کے مقابلے میں کفر سے محبت رکھیں اور تم میں سے جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا سو وہی لوگ ظالم ہیں۔ En
اے اہل ایمان! اگر تمہارے (ماں) باپ اور (بہن) بھائی ایمان کے مقابل کفر کو پسند کریں تو ان سے دوستی نہ رکھو۔ اور جو ان سے دوستی رکھیں گے وہ ظالم ہیں
En
اے ایمان والو! اپنے باپوں کو اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ بناؤ اگر وه کفر کو ایمان سے زیاده عزیز رکھیں۔ تم میں سے جو بھی ان سے محبت رکھے گا وه پورا گنہگار ﻇالم ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اے مومنو! ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ جو ایمان کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے اس کے ساتھ موالات رکھو، جو ان تقاضوں کو پورا نہیں کرتا ان سے عداوت رکھو اور ﴿ لَا تَتَّؔخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَاِخْوَانَؔكُمْ اَوْلِیَآءَؔ نہ بناؤ تم اپنے باپوں اور بھائیوں کو دوست جو لوگوں میں سے سب سے زیادہ تمھارے قریب ہیں۔ اور دوسرے لوگوں کے بارے میں تو زیادہ اولیٰ ہے کہ تم ان کو دوست نہ بناؤ۔ ﴿اِنِ اسْتَحَبُّوا الْ٘كُفْؔرَ عَلَى الْاِیْمَانِ اگر وہ کفر کو پسند کریں ایمان کے مقابلے میں یعنی اگر وہ برضا و رغبت اور محبت سے ایمان پر کفر کو ترجیح دیں۔ ﴿ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّؔنْكُمْ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَؔ اور جو بھی دوستی کرے گا ان سے تم میں سے، پس وہی لوگ ہیں ظالم کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جسارت کی اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو اپنا دوست بنایا، چونکہ ولایت اور دوستی کی اساس محبت اور نصرت ہے اور ان کا کفار کو دوست بنانا، کفار کی اطاعت اور ان کی محبت کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت و محبت پر مقدم رکھنے کا موجب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {يا أيُّها الذين آمنوا}: اعملوا بمقتضى الإيمان؛ بأن توالوا من قام به وتعادوا من لم يَقُم به. و {لا تتَّخذوا آباءكم وإخوانكم}: الذين هم أقرب الناس إليكم، وغيرهم من باب أولى وأحرى؛ فلا تتَّخذوهم {أولياء إن استحبُّوا}؛ أي: اختاروا على وجه الرِّضا والمحبَّة، {الكفر على الإيمان ومَن يتولَّهم منكم فأولئك هم الظالمون}: لأنَّهم تجرَّؤوا على معاصي الله، واتَّخذوا أعداء الله أولياء، وأصلُ الولاية المحبَّة والنُّصرة، وذلك أنَّ اتِّخاذهم أولياء موجب لتقديم طاعتهم على طاعة الله ومحبتهم على محبة الله ورسوله.