تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 25

لَقَدۡ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ فِیۡ مَوَاطِنَ کَثِیۡرَۃٍ ۙ وَّ یَوۡمَ حُنَیۡنٍ ۙ اِذۡ اَعۡجَبَتۡکُمۡ کَثۡرَتُکُمۡ فَلَمۡ تُغۡنِ عَنۡکُمۡ شَیۡئًا وَّ ضَاقَتۡ عَلَیۡکُمُ الۡاَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ ثُمَّ وَلَّیۡتُمۡ مُّدۡبِرِیۡنَ ﴿ۚ۲۵﴾
بلاشبہ یقیناً اللہ نے بہت سی جگہوں میں تمھاری مدد فرمائی اور حنین کے دن بھی، جب تمھاری کثرت نے تمھیں خود پسند بنا دیا، پھر وہ تمھارے کچھ کام نہ آئی اور تم پر زمین تنگ ہو گئی، باوجود اس کے کہ وہ فراخ تھی، پھر تم پیٹھ پھیرتے ہوئے لوٹ گئے۔ En
خدا نے بہت سے موقعوں پر تم کو مدد دی ہے اور (جنگ) حنین کے دن۔ جب تم کو اپنی (جماعت کی) کثرت پر غرّہ تھا تو وہ تمہارے کچھ بھی کام نہ آئی۔ اور زمین باوجود (اتنی بڑی) فراخی کے تم پر تنگ ہوگئی پھر تم پیٹھ پھیر کر پھر گئے
En
یقیناً اللہ تعالیٰ نے بہت سے میدانوں میں تمہیں فتح دی ہے اور حنین کی لڑائی والے دن بھی جب کہ تمہیں اپنی کثرت پر ناز ہو گیا تھا، لیکن اس نے تمہیں کوئی فائده نہ دیا بلکہ زمین باوجود اپنی کشادگی کے تم پر تنگ ہوگئی پھر تم پیٹھ پھیر کر مڑ گئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَقَدْ نَصَرَؔكُمُ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ كَثِیْرَةٍ١ۙ وَّیَوْمَ حُنَیْنٍ یقینا اللہ نے تمھاری مدد فرمائی بہت سی جگہوں میں اور حنین کے دن حنین، مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان وہ مقام ہے جہاں حنین کا معرکہ ہوا تھا۔ ﴿ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْ٘رَتُكُمْ فَلَمْ تُ٘غْنِ عَنْكُمْ شَیْـًٔـا جب تمھیں تمھاری کثرت نے گھمنڈ میں مبتلا کر دیا پس اس نے تمھیں کچھ فائدہ نہیں دیا تمھاری کثرت نے تمھیں تھوڑا یا زیادہ کچھ بھی فائدہ نہ دیا۔ ﴿ وَّضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ اورزمین تم پر تنگ ہوگئی۔ یعنی جب تمھیں شکست ہوئی اور تم پر غم و ہموم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا اور تم پر زمین تنگ ہوگئی۔ ﴿ بِمَا رَحُبَتْ اپنی کشادگی اور وسعت کے باوجود ﴿ ثُمَّؔ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَ پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وذلك قوله تعالى: {لقد نَصَرَكم الله في مواطنَ كثيرةٍ ويومَ حنينٍ}: وهو اسمٌ للمكان الذي كانت فيه الوقعة بين مكة والطائف، {إذ أعجبتْكم كثرتُكم فلم تُغْنِ عنكم شيئاً}؛ أي: لم تفِدْكم شيئاً قليلاً ولا كثيراً، {وضاقت عليكم الأرض}: ـ بما أصابكم من الهمِّ والغمِّ حين انهزمتم ـ {بما رَحُبَتْ}؛ أي: على رُحْبها وسَعَتها، {ثم ولَّيْتم مدبرينَ}؛ أي: منهزمين.