تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { حَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ:} ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ” عینہ “ (حیلے کے ساتھ سود کی ایک قسم) کے ساتھ بیع کرو گے اور بیلوں کی دمیں پکڑ لو گے اور کھیتی باڑی پر راضی ہو جاؤ گے اور جہاد ترک کر دو گے، تو اللہ تعالیٰ تم پر ایسی ذلت مسلط کرے گا جسے ختم نہیں کرے گا، جب تک تم اپنے دین کی طرف لوٹ نہیں آؤ گے۔“ [أبوداوٗد، البیوع، باب فی النہی عن العینۃ: ۳۴۶۲، و صححہ الألبانی] زمخشری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ آیت بہت سخت ہے، اس سے سخت آپ کوئی آیت نہیں دیکھیں گے۔ یہ انسان کی دینی کمزوری اور یقین کی کمی کی نشان دہی کرتی ہے۔ اپنے دل میں بہت پرہیز گار اور متقی شخص انصاف سے سوچے کہ کیا واقعی اس میں اتنی دینی پختگی ہے کہ اس آیت میں مذکور تمام چیزوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے خلاف ہونے کی بنا پر کسی معاملے میں چھوڑ سکتا ہے، یا کسی کی تھوڑی سی ناراضگی یا دنیا کے معمولی سے مفاد کی بنا پر وہ کش مکش میں پڑ جاتا ہے کہ کسے رکھوں اور کسے چھوڑوں؟ پھر اکثر یہی ہوتا ہے کہ اس کی بیوی، اولاد، دوستوں، معاشرے اور تجارتی مفاد کے تقاضے ہی اللہ کے دین کے تقاضوں پر غالب آتے ہیں۔ (الا ما شاء اللہ)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور آیت میں ہے «لاَّ تَجِدُ قَوْماً يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ» ۱؎ [58المجادلة:22] اللہ پر اور قیامت پر ایمان لانے والوں کو تو ہرگز اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے دوستیاں کرنے والا نہیں پائے گا گو وہ ان کے باپ ہوں بیٹے ہوں یا بھائی ہوں یا رشتے دار ہوں یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں ایمان لکھ دیا گیا ہے اور اپنی خاص روح سے ان کی تائید فرمائی ہے۔ انہیں نہروں والی جنت میں پہنچائے گا۔
بیہقی میں ہے سیدنا ابوعبیدبن جراح رضی اللہ عنہ کے باپ نے بدر والے دن ان کے سامنے اپنے بتوں کی تعریفیں شروع کیں آپ نے اسے ہر چند روکنا چاہا لیکن وہ بڑھتا ہی چلا گیا باپ بیٹوں میں جنگ شروع ہو گئی آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ کو قتل کر دیا۔ اس پر آیت «لاَّ تَجِدُ» الخ، نازل ہوئی۔ ۱؎ [بیهقی فی شعب الایمان:27/9:منقطع]
پھر ایسا کرنے والوں کو ڈراتا ہے اور فرماتا ہے کہ ”اگر یہ رشتے دار اور اپنے حاصل کئے ہوئے مال اور مندے ہو جانے کی دہشت کی تجارتیں اور پسندیدہ مکانات اگر تمہیں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور جہاد سے بھی زیادہ مرغوب ہیں تو تمہیں اللہ تعالیٰ کے عذابوں کے برداشت کے لیے تیار رہنا چاہیئے۔
صحیح حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ثابت ہے کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی ایماندار نہ ہو گا جب تک میں اسے اس کے ماں باپ سے اولاد سے اور دنیا کے کل لوگوں سے زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:15]
مسند امام احمد اور ابوداؤد میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جب تم عین کی خرید و فروخت کرنے لگو گے اور گائے بیل کی دمیں تھام لو گے اور جہاد چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت ڈال دے گا وہ اس وقت تک دور نہ ہو گی جب تک کہ تم اپنے دین کی طرف نہ لوٹ آؤ۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3462،قال الشيخ الألباني:صحیح]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا ذكر السبب الموجب لذلك، وهو أن محبَّة الله ورسوله يتعيَّن تقديمهُما على محبَّة كلِّ شيء، وجعلُ جميع الأشياء تابعةً لهما، فقال: {قلْ إن كان آباؤكم}: ومثلهم الأمهات، {وإخوانُكم}: في النسب والعشرة، {وأزواجكم وعشيرتكم}؛ أي: قراباتكم عموماً، {وأموالٌ اقْتَرَفْتُموها}؛ أي: اكتسبتموها وتعبتم في تحصيلها، خصَّها بالذِّكر لأنها أرغب عند أهلها، وصاحبها أشدُّ حرصاً عليها ممَّن تأتيه الأموال من غير تعبٍ ولا كدٍّ. {وتجارةٌ تخشَوْن كسادها}؛ أي: رخصها ونقصها، وهذا شاملٌ لجميع أنواع التجارات والمكاسب من عروض التجارات من الأثمان والأواني والأسلحة والأمتعة والحبوب والحروث والأنعام وغير ذلك. {ومساكنُ ترضَوْنَها}: من حُسِنها وزخرفتها وموافقتها لأهوائكم؛ فإن كانت هذه الأشياء {أحبَّ إليكم من الله ورسولِهِ وجهادٍ في سبيله}: فأنتم فَسَقَةٌ ظَلَمَةٌ، {فتربَّصوا}؛ أي: انتظروا ما يَحِلُّ بكم من العقاب، {حتَّى يأتيَ الله بأمره}: الذي لا مَرَدَّ له. {والله لا يهدي القوم الفاسقين}؛ أي: الخارجين عن طاعة الله، المقدِّمين على محبَّة الله شيئاً من المذكورات.
وهذه الآية الكريمة أعظم دليل على وجوب محبَّة الله ورسوله، وعلى تقديمهما على محبَّة كلِّ شيء، وعلى الوعيد الشديد والمَقت الأكيد على مَنْ كان شيءٌ من [هذه] المذكورات أحبَّ إليه من الله ورسوله وجهادٍ في سبيله، وعلامة ذلك أنَّه إذا عرض عليه أمران: أحدُهما يحبُّه الله ورسوله وليس لنفسه فيه هوىً. والآخرُ تحبُّه نفسه وتشتهيه ولكنَّه يفوِّت عليه محبوباً لله ورسوله أو ينقصه؛ فإنَّه إن قدم ما تهواه نفسه على ما يحبُّه الله؛ دلَّ على أنه ظالمٌ تاركٌ لما يجب عليه.