تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 22

خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عِنۡدَہٗۤ اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ ﴿۲۲﴾
جس میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں ہمیشہ۔ بے شک اللہ ہی ہے جس کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔ En
(اور وہ) ان میں ابدالاآباد رہیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کے ہاں بڑا صلہ (تیار) ہے
En
وہاں یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں اللہ کے پاس یقیناً بہت بڑے ﺛواب ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ خٰؔلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے وہ وہاں سے منتقل ہوں گے، نہ وہاں سے نکلنا چاہیں گے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ بے شک اللہ کے پاس ہے بڑا اجر اجر کی کثرت اللہ تعالیٰ کے فضل سے کوئی بعید نہیں اور نہ اس اجر کا بڑا اور اچھا ہونا اس ہستی کے بارے میں کوئی تعجب خیز ہے جو کسی چیز سے جب کہتی ہے ہو جا! تو وہ ہو جاتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{خالدين فيها أبداً}: لا ينتقلون عنها ولا يبغون عنها حِوَلاً. {إنَّ الله عندَه أجرٌ عظيمٌ}: لا تُستغرب كثرتُه على فضل الله، ولا يُتَعَجَّب من عظمه وحسنه على من يقول للشيء كن فيكون.