تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 21

یُبَشِّرُہُمۡ رَبُّہُمۡ بِرَحۡمَۃٍ مِّنۡہُ وَ رِضۡوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّہُمۡ فِیۡہَا نَعِیۡمٌ مُّقِیۡمٌ ﴿ۙ۲۱﴾
ان کا رب انھیں اپنی طرف سے بڑی رحمت اور عظیم رضامندی اور ایسے باغوں کی خوش خبری دیتا ہے جن میں ان کے لیے ہمیشہ رہنے والی نعمت ہے۔ En
ان کا پروردگار ان کو اپنی رحمت کی اور خوشنودی کی اور بہشتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لیے نعمت ہائے جاودانی ہے
En
انہیں ان کا رب خوشخبری دیتا ہے اپنی رحمت کی اور رضامندی کی اور جنتوں کی، ان کے لئے وہاں دوامی نعمت ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ یُبَشِّ٘رُهُمْ رَبُّهُمْ ان کو ان کا رب بشارت دیتا ہے اپنی طرف سے رحم و کرم، ان پر لطف و احسان اور ان سے اعتناء اور محبت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ﴿ بِرَحْمَةٍ مِّؔنْهُ اپنی طرف سے رحمت کی جس کے ذریعے سے وہ ان سے برائیوں کو دور کرتا اور ہر طرح کی بھلائی ان تک پہنچاتا ہے۔ ﴿وَرِضْوَانٍ اور اپنی رضامندی کی جو جنت میں سب سے بڑی اور نہایت جلیل القدر نعمت ہو گی۔ پس وہاں اللہ تعالیٰ اہل جنت کے سامنے اپنی رضامندی کا اعلان فرمائے گا اور پھر کبھی ان پر ناراض نہیں ہو گا۔ ﴿ وَّجَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌ اور باغوں کی جن میں ان کو آرام ہے ہمیشہ کا ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی ہر قسم کی نعمتیں موجود ہوں گی جن کی دل خواہش کریں گے اور جن سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی جن کے اوصاف اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا جو یہ نعمتیں عطا کرے گا۔ ان میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والے مجاہدین کے لیے جنت میں سو درجے تیار کر رکھے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان۔ اگر تمام مخلوق ایک درجہ میں جمع ہو جائے تو اس ایک درجہ میں سما جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{يبشِّرُهم ربُّهم}: رحمةً منه وكرماً وبرًّا بهم واعتناء ومحبة لهم، {برحمة منه}: أزال بها عنهم الشرور، وأوصل إليهم بها كلَّ خير، {ورضوانٍ}: منه تعالى عليهم، الذي هو أكبر نعيم الجنة وأجلُّه، فيُحِلُّ عليهم رضوانه؛ فلا يسخط عليهم أبداً، {وجناتٍ لهم فيها نعيمٌ مقيمٌ}: من كلِّ ما اشتهته الأنفس وتَلَذُّ الأعين مما لا يَعْلَمُ وصفَه ومقداره إلا الله تعالى، الذي منه أنَّ الله أعدَّ للمجاهدين في سبيله مائة درجةٍ، ما بين كلِّ درجتين كما بين السماء والأرض، ولو اجتمع الخلقُ في درجةٍ واحدةٍ منها؛ لَوَسِعَتْهم.