ترجمہ و تفسیر — سورۃ التوبة (9) — آیت 22

خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عِنۡدَہٗۤ اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ ﴿۲۲﴾
جس میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں ہمیشہ۔ بے شک اللہ ہی ہے جس کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔ En
(اور وہ) ان میں ابدالاآباد رہیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کے ہاں بڑا صلہ (تیار) ہے
En
وہاں یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں اللہ کے پاس یقیناً بہت بڑے ﺛواب ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 21 میں تا آیت 23 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

22۔ 1 ان آیات میں ان اہل ایمان کی فضیلت بیان کی گئی جنہوں نے ہجرت کی اور اپنی جان مال کے ساتھ جہاد میں حصہ لیا۔ فرمایا۔ اللہ کے ہاں انہی کا درجہ سب سے بلند ہے اور یہی کامیاب ہیں، یہی اللہ کی رحمت و رضامندی اور دائمی نعمتوں کے مستحق ہیں نہ کہ وہ جو خود اپنے منہ میاں مٹھو بنتے اور اپنے آبائی طور طریقوں کو ہی ایمان باللہ کے مقابلے میں عزیز رکھتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

22۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ بلا شبہ اللہ کے ہاں (ان کے لئے) بہت بڑا اجر ہے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ خٰؔلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے وہ وہاں سے منتقل ہوں گے، نہ وہاں سے نکلنا چاہیں گے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ بے شک اللہ کے پاس ہے بڑا اجر اجر کی کثرت اللہ تعالیٰ کے فضل سے کوئی بعید نہیں اور نہ اس اجر کا بڑا اور اچھا ہونا اس ہستی کے بارے میں کوئی تعجب خیز ہے جو کسی چیز سے جب کہتی ہے ہو جا! تو وہ ہو جاتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{خالدين فيها أبداً}: لا ينتقلون عنها ولا يبغون عنها حِوَلاً. {إنَّ الله عندَه أجرٌ عظيمٌ}: لا تُستغرب كثرتُه على فضل الله، ولا يُتَعَجَّب من عظمه وحسنه على من يقول للشيء كن فيكون.