تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 19

اَجَعَلۡتُمۡ سِقَایَۃَ الۡحَآجِّ وَ عِمَارَۃَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ کَمَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ جٰہَدَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ لَا یَسۡتَوٗنَ عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۘ۱۹﴾
کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجدِ حرام کو آباد کرنا اس جیسا بنا دیا جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لایا اور اس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا۔ یہ اللہ کے ہاں برابر نہیں ہیں اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ En
کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد محترم یعنی (خانہٴ کعبہ) کو آباد کرنا اس شخص کے اعمال جیسا خیال کیا ہے جو خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور خدا کی راہ میں جہاد کرتا ہے۔ یہ لوگ خدا کے نزدیک برابر نہیں ہیں۔ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
En
کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلا دینا اور مسجد حرام کی خدمت کرنا اس کے برابر کر دیا ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان ﻻئے اور اللہ کی راه میں جہاد کیا، یہ اللہ کے نزدیک برابر کے نہیں اور اللہ تعالیٰ ﻇالموں کو ہدایت نہیں دیتا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب بعض مسلمانوں کے درمیان یا بعض مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان اس امر میں اختلاف واقع ہوگیا کہ مسجد حرام کی تعمیر، اس کے اندر نماز پڑھنا، اس میں عبادت کرنا اور حاجیوں کو پانی پلانا افضل ہے یا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا؟ تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان دونوں کے درمیان بہت تفاوت ہے، چنانچہ فرمایا ﴿ اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ کیا کر دیا تم نے حاجیوں کے پانی پلانے کو یعنی ان کو آب زم زم پلانا جیسا کہ معروف ہے جب پلانے کا ذکر مطلق کیا جائے تو اس سے مراد آب زم زم پلانا ہی ہوتا ہے ﴿ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَ٘مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَجٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ اور مسجد حرام کے بسانے کو۔ اس شخص کے برابر جو ایمان لایا اللہ اور یوم آخرت پر اور لڑا اللہ کی راہ میں، یہ برابر نہیں ہیں اللہ کے نزدیک۔پس جہاد اور ایمان باللہ حاجیوں کو آب زمزم پلانے اور مسجد حرام کی تعمیر سے کئی درجے افضل ہیں کیونکہ ایمان دین کی اساس ہے اور اسی کے ساتھ اعمال قابل قبول ہوتے ہیں اور خصائل کا تزکیہ ہوتا ہے۔
رہا جہاد فی سبیل اللہ تو وہ دین کی کوہان ہے جہاد ہی کے ذریعے سے دین اسلام کی حفاظت ہوتی ہے اور اس میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ جہاد ہی کے ذریعے سے حق کی مدد کی جاتی ہے اور باطل بے یارومددگار ہوتا ہے۔
رہا مسجد حرام کو آباد کرنا اور حاجیوں کو آب زمزم پلانا، یہ اگرچہ نیک اعمال ہیں مگر ان کی قبولیت ایمان باللہ پر موقوف ہے اور ان اعمال میں وہ مصالح نہیں ہیں جو ایمان باللہ اور جہاد میں ہیں۔ اسی لیے فرمایا: یہ اللہ کے ہاں برابر نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا یعنی وہ لوگ جن کا وصف ہی ظلم ہے جو بھلائی کی کسی چیز کو بھی قبول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ بلکہ برائی کے سوا کوئی چیز ان کے لائق نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما اختلف بعضُ المسلمين أو بعضُ المسلمين وبعضُ المشركين في تفضيل عِمارة المسجد الحرام بالبناء والصلاة والعبادة فيه وسقاية الحاجِّ على الإيمان بالله والجهاد في سبيله؛ أخبر الله تعالى بالتفاوتِ بينهما، فقال: {أجعلتُم سِقايةَ الحاجِّ}؛ أي: سقيهم الماء من زمزم؛ كما هو المعروف إذا أطلق هذا الاسم أنه المراد، {وعِمارةَ المسجدِ الحرام كمن آمَنَ بالله واليوم الآخر وجاهَدَ في سبيل الله لا يستوون عند الله}: فالجهادُ والإيمان بالله أفضلُ من سقاية الحاجِّ وعمارة المسجد الحرام بدرجاتٍ كثيرةٍ؛ لأنَّ الإيمان أصلُ الدين وبه تُقبل الأعمال وتزكو الخصال، وأمَّا الجهاد في سبيل الله؛ فهو ذروة سنام الدين، [الذي] به يُحفظ الدين الإسلامي ويتَّسع، ويُنْصَر الحقُّ ويُخْذَل الباطل، وأمَّا عِمارة المسجد الحرام وسقاية الحاجِّ؛ فهي، وإن كانت أعمالاً صالحةً؛ فهي متوقِّفة على الإيمان، وليس فيها من المصالح ما في الإيمان والجهاد؛ فلذلك قال: {لا يستوونَ عند الله واللهُ لا يَهْدي القوم الظالمين}؛ أي: الذين وَصْفُهُمُ الظلمُ، الذين لا يَصْلُحون لقبول شيء من الخير، بل لا يليق بهم إلا الشرُّ.