جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کیا وہ اللہ کے ہاں درجے میں بہت بڑے ہیں اور وہی لوگ کامیاب ہیں۔
En
جو لوگ ایمان لائے اور وطن چھوڑ گئے اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے جہاد کرتے رہے۔ خدا کے ہاں ان کے درجے بہت بڑے ہیں۔ اور وہی مراد کو پہنچنے والے ہیں
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر نہایت صراحت کے ساتھ اہل ایمان کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَلَّذِیْنَاٰمَنُوْاوَهَاجَرُوْاوَجٰهَدُوْافِیْسَبِیْلِاللّٰهِبِاَمْوَالِهِمْ ﴾”وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا اپنے مالوں کے ساتھ“ یعنی اپنا مال جہاد میں اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کو جہاد کا سامان مہیا کرنے میں خرچ کرتے ہیں۔ ﴿ وَاَنْفُسِهِمْ ﴾”اور اپنی جانوں کے ساتھ“ اور خود جہاد کے لیے نکلتے ہیں ﴿ اَعْظَمُدَرَجَةًعِنْدَاللّٰهِ١ؕوَاُولٰٓىِٕكَهُمُالْفَآىِٕزُوْنَ۠﴾”ان کے لیے بڑا درجہ ہے اللہ کے ہاں اور یہی لوگ ہیں مراد کو پہنچنے والے“ یعنی کوئی شخص اپنا مطلوب حاصل کر سکتا ہے نہ کسی ڈر سے نجات پا سکتا ہے سوائے اس کے جو ان کی صفات سے متصف ہوتا ہے اور ان کے اخلاق کو اپناتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم صرح بالفضل فقال: {الذين آمنوا وهاجروا وجاهدوا في سبيل الله بأموالهم}: بالنفقة في الجهاد وتجهيز الغزاة، {وأنفسهم}: بالخروج بالنفس، {أعظمُ درجةً عند الله وأولئك هم الفائزون}؛ أي: لا يفوز بالمطلوب، ولا ينجو من المرهوب إلاَّ مَنْ اتَّصف بصفاتهم، وتخلَّق بأخلاقهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔