اللہ کی مسجدیں تو وہی آباد کرتا ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اس نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرا۔ تو یہ لوگ امید ہے کہ ہدایت پانے والوں سے ہوں گے۔
En
خدا کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے ہیں اور نماز پڑھتے اور زکواة دیتے ہیں اور خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ یہی لوگ امید ہے کہ ہدایت یافتہ لوگوں میں (داخل) ہوں
اللہ کی مسجدوں کی رونق وآبادی تو ان کے حصے میں ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں، نمازوں کے پابند ہوں، زکوٰة دیتے ہوں، اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں، توقع ہے کہ یہی لوگ یقیناً ہدایت یافتہ ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا کہ وہ کون لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مساجد کو آباد کرتے ہیں، چنانچہ فرمایا: ﴿ اِنَّمَایَعْمُرُمَسٰجِدَاللّٰهِمَنْاٰمَنَبِاللّٰهِوَالْیَوْمِالْاٰخِرِوَاَقَامَالصَّلٰ٘وةَ ﴾”اللہ کی مسجدوں کو تو وہی آباد کرتا ہے جو ایمان لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور قائم کیا نماز کو“ یعنی وہ فرض اور مستحب نمازوں کو ظاہری اور باطنی طور پر قائم کرتا ہے ﴿ وَاٰتَىالزَّكٰوةَ ﴾ اور مستحق لوگوں کو زکاۃ ادا کرتا ہے ﴿ وَلَمْیَخْشَاِلَّااللّٰهَ ﴾”اور نہیں ڈرا سوائے اللہ کے“ یعنی اس نے اپنی خشیت کو صرف اللہ تعالیٰ پر مرکوز کر رکھا ہے، ان امور کو اپنے آپ سے دور رکھتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حقوق واجبہ کی ادائیگی میں کبھی کوتاہی نہیں کرتا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے مومنوں کو ایمان نافع اور اعمال صالحہ کے بجا لانے سے متصف کیا ہے۔ ان اعمال صالحہ کی اساس نماز اور زکاۃ ہے نیز ان کو خشیت الٰہی سے موصوف کیا ہے جو ہر بھلائی کی بنیاد ہے.... درحقیقت یہی وہ لوگ ہیں جو مساجد کو آباد کرتے ہیں اور یہی ان کے اہل ہیں۔ ﴿ فَ٘عَسٰۤىاُولٰٓىِٕكَاَنْیَّكُوْنُوْامِنَالْمُهْتَدِیْنَ ﴾”پس امید ہے کہ یہ لوگ ہوں ہدایت والوں میں “ لفظ (عَسٰی) اللہ تعالیٰ کی طرف سے وجوب کے معنی میں آتا ہے۔ رہے وہ لوگ جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، نہ اللہ سے ڈرتے ہیں تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی مساجد کو آباد کرنے والے نہیں اور نہ ان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو ان کے اہل ہیں۔ اگرچہ وہ اس کا دعویٰ کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر من هم عُمَّار مساجد الله، فقال: {إنَّما يَعْمُرُ مساجدَ الله مَن آمن بالله واليوم الآخر وأقام الصلاة}: الواجبة والمستحبَّة بالقيام بالظَّاهر منها والباطن، {وآتى الزكاة}: لأهلها، {ولم يَخْشَ إلا الله}؛ أي: قَصَرَ خشيته على ربِّه، فكفَّ عن ما حرَّم الله، ولم يقصِّر بحقوق الله الواجبة؛ فوصفهم بالإيمان النافع، وبالقيام بالأعمال الصالحة التي أُمُّها الصلاة والزكاة، وبخشية الله التي هي أصل كلِّ خير؛ فهؤلاء عُمَّار المساجد على الحقيقة وأهلُها الذين هم أهلها. {فعسى أولئك أن يكونوا من المهتدين}: و {عسى} من الله واجبةٌ، وأما مَن لم يؤمن بالله ولا باليوم الآخر ولا عنده خشيةٌ لله؛ فهذا ليس من عمار مساجد الله ولا من أهلها الذين هم أهلُها، وإن زعم ذلك وادَّعاه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔