تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الطارق (86) — آیت 15

اِنَّہُمۡ یَکِیۡدُوۡنَ کَیۡدًا ﴿ۙ۱۵﴾
بے شک وہ خفیہ تدبیر کرتے ہیں، ایک خفیہ تدبیر۔ En
یہ لوگ تو اپنی تدبیروں میں لگ رہے ہیں
En
البتہ کافر داؤ گھات میں ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنَّهُمْ یعنی رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی تکذیب کرنے والے ﴿ یَكِیْدُوْنَ كَیْدًا سازشیں کرتے ہیں۔ تاکہ اپنی سازش کے ذریعے سے حق کو روک دیں اور باطل کی مددکریں ﴿ وَّاَكِیْدُ كَیْدًا اور حق کو غالب کرنے کے لیے میں چال چلتا ہوں خواہ کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے، تاکہ باطل کو روکا جائے جسے یہ لے کر آئے ہیں اور اس سے معلوم ہو جائے کہ کون غالب ہے؟ کیونکہ انسان بہت کمزور اور حقیر ہے کہ اپنے سے زیادہ طاقت رکھنے والے اور اپنی چال سازی میں زیادہ مہارت اور علم رکھنے والے پر غالب آ سکے۔ ﴿ فَمَهِّلِ الْ٘كٰفِرِیْنَ اَمْهِلْهُمْ رُوَیْدًا یعنی کافروں کو تھوڑی سے مہلت دو، پس عنقریب جب ان کو عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا تو انھیں اپنے انجام کا علم ہو جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنَّهم}؛ أي: المكذِّبين للرسول - صلى الله عليه وسلم - وللقرآن، {يكيدون كيداً}: ليدفعوا بكيدِهِم الحقَّ ويؤيِّدوا الباطل، {وأكيدُ كيداً}: لإظهار الحقِّ، ولو كره الكافرون، ولدفع ما جاؤوا به من الباطل، ويُعلم بهذا مَنْ الغالب؛ فإنَّ الآدميَّ أضعفُ وأحقرُ من أن يغالب القويَّ العليم في كيدِهِ. {فمهِّلِ الكافرين أمْهِلْهم رويداً}؛ أي: قليلاً، فسيعلمون عاقبة أمرهم حين ينزل بهم العقاب.