(آیت 15تا17){ اِنَّهُمْيَكِيْدُوْنَكَيْدًا …: ”رُوَيْدًا“} مختار الصحاح میں ہے: {”فُلاَنٌيَمْشِيْعَلٰيرُوْدٍبِوَزْنِعُوْدٍأَيْعَلٰيمَهْلٍوَتَصْغِيْرُهُرُوَيْدٌ“} یعنی {”رُوَيْدٌ“”رُوْدٌ“} بروزن {”عُوْدٌ“} کی تصغیر ہے جس کا معنی مہلت ہے۔ گویا {”رُوَيْدًا“} کا معنی تھوڑی سی مہلت ہے۔ آیت میں یہ {”اَمْهِلْهُمْ“} کے مصدر محذوف {”إِمْهَالًا“} کی صفت ہے۔ یہ لوگ قیامت کو جھٹلانے اور حق کو مٹانے کے لیے خفیہ تدبیریں کر رہے ہیں اور میں خفیہ طور پر ان کے توڑ کے لیے ان سے بھی بڑی تدبیر کر رہا ہوں۔ آپ نہ ان کی مخالفت سے گھبرائیں، نہ جلد عذاب کی دعا کریں اور میرے کہنے پر انھیں تھوڑی سی مہلت دیں، آخر انھوں نے میرے ہی پاس آنا ہے، پھر میں جانوں اور یہ جانیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
15۔ 1 یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو دین حق لے کر آئے ہیں، اس کو ناکام کرنے کے لئے سازشیں کرتے ہیں، یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکا اور فریب دیتے ہیں اور منہ پر ایسی باتیں کرتے ہیں کہ دل میں اس کے برعکس ہوتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
15۔ یہ لوگ ایک تدبیر کر رہے ہیں
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اِنَّهُمْ ﴾ یعنی رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی تکذیب کرنے والے ﴿ یَكِیْدُوْنَكَیْدًا﴾”سازشیں کرتے ہیں۔“ تاکہ اپنی سازش کے ذریعے سے حق کو روک دیں اور باطل کی مددکریں ﴿ وَّاَكِیْدُكَیْدًا﴾ اور حق کو غالب کرنے کے لیے میں چال چلتا ہوں خواہ کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے، تاکہ باطل کو روکا جائے جسے یہ لے کر آئے ہیں اور اس سے معلوم ہو جائے کہ کون غالب ہے؟ کیونکہ انسان بہت کمزور اور حقیر ہے کہ اپنے سے زیادہ طاقت رکھنے والے اور اپنی چال سازی میں زیادہ مہارت اور علم رکھنے والے پر غالب آ سکے۔ ﴿ فَمَهِّلِالْ٘كٰفِرِیْنَاَمْهِلْهُمْرُوَیْدًا﴾ یعنی کافروں کو تھوڑی سے مہلت دو، پس عنقریب جب ان کو عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا تو انھیں اپنے انجام کا علم ہو جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنَّهم}؛ أي: المكذِّبين للرسول - صلى الله عليه وسلم - وللقرآن، {يكيدون كيداً}: ليدفعوا بكيدِهِم الحقَّ ويؤيِّدوا الباطل، {وأكيدُ كيداً}: لإظهار الحقِّ، ولو كره الكافرون، ولدفع ما جاؤوا به من الباطل، ويُعلم بهذا مَنْ الغالب؛ فإنَّ الآدميَّ أضعفُ وأحقرُ من أن يغالب القويَّ العليم في كيدِهِ. {فمهِّلِ الكافرين أمْهِلْهم رويداً}؛ أي: قليلاً، فسيعلمون عاقبة أمرهم حين ينزل بهم العقاب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔