تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البروج (85) — آیت 16

فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیۡدُ ﴿ؕ۱۶﴾
کر گزرنے والا ہے جو چاہتا ہے۔ En
جو چاہتا ہے کر دیتا ہے
En
جو چاہے اسے کر گزرنے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ وہ جب بھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کر گزرتا ہے اور جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے: ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں کہ وہ جو کچھ چاہے، کر لے۔ اگر مخلوق کسی چیز کا ارادہ کرتی ہے تو لازمی طور پر اس کے ارادے کے کچھ معاون ہوتے ہیں اور کچھ اس سے روکنے والے ہوتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کا کوئی معاون ہے نہ مانع۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فعَّالٌ لما يريد}؛ أي: مهما أراد شيئاً؛ فعله، إذا أراد شيئاً؛ قال له: كن، فيكون، وليس أحدٌ فعالاً لما يريد إلاَّ الله؛ فإنَّ المخلوقات ولو أرادت شيئاً؛ فإنَّه لا بدَّ لإرادتها من معاونٍ وممانع، والله لا معاون لإرادته ولا ممانع له ممَّا أراد.