ترجمہ و تفسیر — سورۃ البروج (85) — آیت 16

فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیۡدُ ﴿ؕ۱۶﴾
کر گزرنے والا ہے جو چاہتا ہے۔ En
جو چاہتا ہے کر دیتا ہے
En
جو چاہے اسے کر گزرنے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 15 میں تا آیت 17 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

16۔ 1 یعنی وہ جو چاہے، کر گزرتا ہے اس کے حکم اور مشیت کو ٹالنے والا کوئی نہیں ہے نہ اسے کوئی پوچھنے والا ہی ہے۔ حضرت ابوبکر سے ان کے مرض الموت میں کسی نے پوچھا کیا کسی طبیب نے آپ کو دیکھا ہے انہوں نے فرمایا کہ ہاں، پوچھا اس نے کیا کہا، انی فعال لما ارید، میں جو چاہوں کروں، میرے معاملے میں کوئی دخل دینے والا نہیں۔ (ابن کثیر) مطلب یہ تھا کہ معاملہ اب طبیبوں کے ہاتھ میں نہیں رہا میرا آخری وقت آگیا ہے اور اللہ ہی اب میرا طبیب ہے جس کی مشییت کو ٹالنے کی کسی کے اندر طاقت نہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

16۔ جو کچھ چاہے اسے کر ڈالنے [11] والا ہے
[11] یعنی پوری کائنات میں کسی کی بھی یہ طاقت نہیں کہ اللہ جس کام کا ارادہ کر لے اس میں وہ مانع یا مزاحم ہو سکے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ وہ جب بھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کر گزرتا ہے اور جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے: ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں کہ وہ جو کچھ چاہے، کر لے۔ اگر مخلوق کسی چیز کا ارادہ کرتی ہے تو لازمی طور پر اس کے ارادے کے کچھ معاون ہوتے ہیں اور کچھ اس سے روکنے والے ہوتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کا کوئی معاون ہے نہ مانع۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فعَّالٌ لما يريد}؛ أي: مهما أراد شيئاً؛ فعله، إذا أراد شيئاً؛ قال له: كن، فيكون، وليس أحدٌ فعالاً لما يريد إلاَّ الله؛ فإنَّ المخلوقات ولو أرادت شيئاً؛ فإنَّه لا بدَّ لإرادتها من معاونٍ وممانع، والله لا معاون لإرادته ولا ممانع له ممَّا أراد.