تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البروج (85) — آیت 15

ذُو الۡعَرۡشِ الۡمَجِیۡدُ ﴿ۙ۱۵﴾
عرش کا مالک ہے، بڑی شان والا ہے۔ En
عرش کا مالک بڑی شان والا
En
عرش کا مالک عظمت واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ذُو الْ٘عَرْشِ الْمَجِیْدُ یعنی عرش عظیم کا مالک ہے، جس عرش کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ وہ آسمانوں، زمین اور کرسی کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس کرسی کی عرش کے ساتھ وہی نسبت ہے جو ایک چٹیل میدان میں پڑے ہوئے حلقے (کڑے) کی نسبت زمین سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عرش کا ذکر خاص طور پر اس کی عظمت کی وجہ سے کیا، نیز عرش کو تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کی خصوصیت حاصل ہے۔جر کی قراء ت کی صورت میں (اَلْمَجِیدِ) عرش کی نعت ہے اور رفع کی قراء ت کی صورت میں یہ اللہ کی نعت ہے اور مَجْدٌ اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت کو کہتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ذو العرش المجيدُ}؛ أي: صاحب العرش العظيم، الذي من عظمته أنه وسع السماواتِ والأرض والكرسيَّ؛ فهي بالنسبة إلى العرش كحلقة ملقاةٍ في فلاةٍ بالنسبة لسائر الأرض ، وخصَّ الله العرش بالذِّكر لعظمته، ولأنَّه أخصُّ المخلوقات بالقرب منه [تعالى]. وهذا على قراءة الجرِّ يكون {المجيد} نعتاً للعرش، وأما على قراءة الرفع؛ فإنَّه يكون نعتاً لله ، والمجدُ سعة الأوصاف وعظمتها.