تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإنفطار (82) — آیت 9

کَلَّا بَلۡ تُکَذِّبُوۡنَ بِالدِّیۡنِ ۙ﴿۹﴾
ہرگز نہیں، بلکہ تم جزا کو جھٹلاتے ہو۔ En
مگر ہیہات تم لوگ جزا کو جھٹلاتے ہو
En
ہرگز نہیں بلکہ تم تو جزا وسزا کے دن کو جھٹلاتے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

فرمایا: ﴿ كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالـدِّیْنِ یعنی اس وعظ و تذکیر کے باوجود تم جزا و سزا کی تکذیب پر جمے ہوئے ہو۔ حالانکہ تم نے جو اعمال کیے ہیں ان پر ضرور تمھارا محاسبہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر مکرم فرشتے مقرر کر رکھے ہیں، جو تمھارے اقوال اور افعال کو لکھتے رہتے ہیں، انھیں ان اقوال و افعال کا علم ہے۔ اس میں افعال قلوب، افعال جوارح سب داخل ہیں۔ پس تمھارے لیے مناسب ہے کہ تم ان کا اکرام و اجلال اور احترام کرو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقوله: {كلاَّ بل تكذِّبونَ بالدِّين}؛ أي: مع هذا الوعظ والتَّذكير لا تزالون مستمرِّين على التَّكذيب بالجزاء، وأنتم لا بدَّ أن تُحاسبوا على ما عمِلْتُم، وقد أقام الله عليكم ملائكةً كراماً، يكتُبون أقوالكم وأفعالكم ويَعْلَمونها ، فدخل في هذا أفعالُ القلوبِ وأفعالُ الجوارح؛ فاللائق بكم أن تكرِموهم وتُجِلُّوهم.