ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإنفطار (82) — آیت 9

کَلَّا بَلۡ تُکَذِّبُوۡنَ بِالدِّیۡنِ ۙ﴿۹﴾
ہرگز نہیں، بلکہ تم جزا کو جھٹلاتے ہو۔ En
مگر ہیہات تم لوگ جزا کو جھٹلاتے ہو
En
ہرگز نہیں بلکہ تم تو جزا وسزا کے دن کو جھٹلاتے ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 9){ كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّيْنِ:} یعنی دھوکا کھانے کا سبب یہ نہیں کہ تمھیں رب کریم کی مہربانیوں پر بہت اعتماد ہے، بلکہ یہ باطل خیال ہے کہ ہمیں نہ دوبارہ زندہ ہونا ہے اور نہ اعمال کا بدلا ملنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام بد اعمالیوں کا اصل سبب روز جزا کو جھٹلانا ہے اور اسی کو تم جھٹلا رہے ہو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

9۔ ہرگز نہیں بلکہ تم تو روز جزا [9] کو جھٹلاتے ہو
[9] یعنی تمہارے اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں سے انکار کی وجہ یہ نہیں کہ تمہیں بات کی سمجھ نہیں آتی۔ بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ تم جزا و سزا کے قانون الٰہی کے منکر ہو۔ تمہاری خواہش یہ ہے کہ تم جیسے بھی دنیا میں زندگی بسر کرتے رہو تم سے مرنے کے بعد کوئی محاسبہ نہ ہو اور یہ کس قدر ظلم اور بے انصافی کی بات ہے کہ تمہیں قوتیں اور تصرف و اختیار تو تمام مخلوق پر دیا جائے لیکن تم پر ذمہ داری کچھ بھی نہ ہو؟ یہ دھوکا تمہیں کیسے لگ جاتا ہے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

فرمایا: ﴿ كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالـدِّیْنِ یعنی اس وعظ و تذکیر کے باوجود تم جزا و سزا کی تکذیب پر جمے ہوئے ہو۔ حالانکہ تم نے جو اعمال کیے ہیں ان پر ضرور تمھارا محاسبہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر مکرم فرشتے مقرر کر رکھے ہیں، جو تمھارے اقوال اور افعال کو لکھتے رہتے ہیں، انھیں ان اقوال و افعال کا علم ہے۔ اس میں افعال قلوب، افعال جوارح سب داخل ہیں۔ پس تمھارے لیے مناسب ہے کہ تم ان کا اکرام و اجلال اور احترام کرو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقوله: {كلاَّ بل تكذِّبونَ بالدِّين}؛ أي: مع هذا الوعظ والتَّذكير لا تزالون مستمرِّين على التَّكذيب بالجزاء، وأنتم لا بدَّ أن تُحاسبوا على ما عمِلْتُم، وقد أقام الله عليكم ملائكةً كراماً، يكتُبون أقوالكم وأفعالكم ويَعْلَمونها ، فدخل في هذا أفعالُ القلوبِ وأفعالُ الجوارح؛ فاللائق بكم أن تكرِموهم وتُجِلُّوهم.