تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ ذِیْقُوَّةٍ﴾ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل علیہ السلام کی قوت تھی کہ انھوں نے لوط علیہ السلام کی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنْدَذِیالْ٘عَرْشِ﴾”عرش والے کے پاس“ یعنی جبریل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِیْنٍ﴾ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ذي قوَّةٍ}: على ما أمره الله به، ومن قوَّته أنَّه قَلَبَ ديار قوم لوطٍ بهم فأهلكهم، {عند ذي العرش}؛ أي: جبريل مقرَّبٌ عند الله، له منزلةٌ رفيعةٌ وخصيصةٌ من الله اختصَّه بها، {مكينٌ}؛ أي: له مكانةٌ ومنزلةٌ فوق منازل الملائكة كلِّهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔