ترجمہ و تفسیر — سورۃ التكوير (81) — آیت 20

ذِیۡ قُوَّۃٍ عِنۡدَ ذِی الۡعَرۡشِ مَکِیۡنٍ ﴿ۙ۲۰﴾
بڑی قوت والا ہے، عرش والے کے ہاں بہت مرتبے والا ہے۔ En
جو صاحب قوت مالک عرش کے ہاں اونچے درجے والا ہے
En
جو قوت واﻻ ہے، عرش والے (اللہ) کے نزدیک بلند مرتبہ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 20) {ذِيْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِيْنٍ: ذِيْ قُوَّةٍ } کی تنوین تعظیم کے لیے ہے، بڑی قوت والا۔ سورۂ نجم میں بھی جبریل علیہ السلام کا یہ وصف بیان ہوا ہے، فرمایا: «‏‏‏‏ذِيْ عَلَّمَهٗ شَدِيْدُ الْقُوٰى (5) ذُوْ مِرَّةٍ» ‏‏‏‏ [النجم: 6،5] اسے نہایت مضبوط قوتوں والے (فرشتے) نے سکھایا۔ جو بڑی طاقت والا ہے۔ جبریل علیہ السلام کی قوت کا ذکر یہاں اس لیے فرمایا ہے کہ ان کی قوت کے سبب سے شیطان ان سے بھاگتا ہے، جیسا کہ بدر میں انھیں دیکھ کر بھاگا تھا۔ (دیکھیے انفال: ۴۸) مطلب یہ ہے کہ جبریل علیہ السلام کی قوت کی وجہ سے ان کی پیغام رسانی میں نہ شیطان کا کچھ دخل ہے اور نہ ان کی امانت داری کے سبب اس پیغام رسانی میں کسی خیانت کا دخل ہے، اس لیے کسی شک و شبہ کے بغیر یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ (خلاصہ احسن التفاسیر)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

20۔ جو بڑا طاقتور اور صاحب عرش کے ہاں بڑے رتبہ والا ہے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ ذِیْ قُوَّةٍ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل علیہ السلام کی قوت تھی کہ انھوں نے لوط علیہ السلام کی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنْدَ ذِی الْ٘عَرْشِ عرش والے کے پاس یعنی جبریل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِیْنٍ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ذي قوَّةٍ}: على ما أمره الله به، ومن قوَّته أنَّه قَلَبَ ديار قوم لوطٍ بهم فأهلكهم، {عند ذي العرش}؛ أي: جبريل مقرَّبٌ عند الله، له منزلةٌ رفيعةٌ وخصيصةٌ من الله اختصَّه بها، {مكينٌ}؛ أي: له مكانةٌ ومنزلةٌ فوق منازل الملائكة كلِّهم.